🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

17. مَنْ أَرَادَ أَنْ يُمَدَّ فِي رِزْقِهِ فَلْيَصِلْ ذَا رَحِمِهِ
جو اپنے رزق میں وسعت چاہتا ہو، اسے چاہیے کہ اپنے رشتہ داروں سے حسنِ سلوک کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7471
أخبرنا أبو العباس السَّيّاري، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، عن عبد الملك بن عيسى الثقفي، عن يزيد مولى المنبعث، عن أبي هريرة، عن النبيِّ ﷺ قال:"تَعلَّموا من أنسابكم ما تَصِلُون (2) به أرحامكم، فإنَّ صِلةَ الرَّحِم مَحبَّةٌ في الأهل، مَثْراةٌ في المال، مَنْسَأةٌ في الأَثَر" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7284 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اپنے نسب سیکھو، تاکہ تم اس کی بناء پر اپنے رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کر سکو، صلہ رحمی کی وجہ سے گھر والوں میں محبت پیدا ہوتی ہے، مال میں اضافہ ہوتا ہے، اور اچھی یادگار ہوتی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7471]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7472
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نصر بن سابق الخَوْلاني، حدثنا عبد الله بن وَهْب، أخبرني يحيى بن أيوب، عن عبيد الله بن زَحْر، عن القاسم بن عبد الرحمن، عن عُقْبة بن عامر قال: لقيتُ رسولَ الله ﷺ فَبَدَرتُه فأخذتُ بيده، وبَدَرَني فأخذ بيدي، فقال:"يا عقبةُ، ألا أُخبرك بأفضلِ أخلاقِ أهل الدنيا والآخرة؟ تَصِلُ من قَطَعَك، وتُعطي مَن حَرَمَك، وتَعفُو عمن ظلمَك، ألا ومن أراد أن يُمَدَّ في عمره ويُبسَطَ في رزقِه، فليَصِلْ ذا رَحِمِه" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7285 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا، میں نے آگے بڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک تھام لیا، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ تھام لیا، اور فرمایا: اے عقبہ! کیا میں تمہیں دنیا اور آخرت میں سب سے اچھے اخلاق کے بارے میں نہ بتاؤں؟ (پھر فرمایا) جو تجھ سے قطع تعلقی کرے، تو اس سے مل، جو تجھے محروم رکھے، تو اس کو دے، جو تجھ پر ظلم کرے، تو اس کو معاف کر۔ خبردار! جو شخص چاہتا ہو کہ اس کی عمر میں اضافہ ہو جائے اور اس کے رزق میں برکت ہو اس کو چاہئے کہ رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کرے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7472]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7473
أخبرنا أبو الحسين أحمد بن عثمان البزَّاز ببغداد، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا أبو بكر عبيد الله (1) بن عبد المجيد الحَنَفي، حدثني معاوية بن [أبي] (2) مُزرِّد، حدثني عمِّي أبو الحُباب سعيد بن يَسَار، قال: سمعتُ أبا هريرة يقول: سمعتُ النبيَّ ﷺ يقول:"إِنَّ الله ﷿ لما فَرَغَ من الخلق، قامت الرَّحِمُ فَأَخَذَت بحَقْو الرحمن، فقال: مَهْ، فقالت: هذا مَقامُ العائذ بك من القَطيعة، فقال: أَتَرضَيْنَ أَن أَصِلَ من وَصَلَك، وأَقْطعَ من قَطَعَك"، اقرؤُوا إن شئتم ﴿فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ﴾ إلى قوله: ﴿أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ﴾ [محمد: 22 - 24] (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7286 - ذا في البخاري
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب اللہ تعالیٰ مخلوقات کی تخلیق سے فارغ ہوا تو رحم نے کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کا دامن قدرت تھام لیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس کو چھوڑ، اس نے کہا: یہ اس آدمی کے کھڑا ہونے کی جگہ ہے جو قطع رحمی سے تیری پناہ مانگے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کیا تو اس بات پر راضی نہیں ہے کہ میں اس سے ملوں جو تجھ سے ملے اور اس سے قطع تعلقی کروں جو تجھے توڑے۔ اگر چاہو تو قرآن کریم کی یہ آیت پڑھ کر دیکھ لو۔ فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ أُولَئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَى أَبْصَارَهُمْ أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَى قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا (محمد: 22، 23، 24) تو کیا تمہارے یہ لچھن نظر آتے ہیں کہ اگر تمہیں حکومت ملے تو زمین میں فساد پھیلاؤ اور اپنے رشتے کاٹ دو یہ ہیں وہ لوگ جن پر اللہ نے لعنت کی اور انہیں حق سے بہرا کر دیا اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں تو کیا وہ قرآن کو سوچتے نہیں یا بعضے دلوں پر ان کے قفل لگے ہیں () ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7473]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں