المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
28. أَحِبَّ لِأَخِيكَ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ
اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو
حدیث نمبر: 7501
أخبرنا الأستاذ أبو الوليد وأبو بكر بن قُريش، قالا: حدّثنا الحسن بن سفيان، حدّثنا محمد بن يحيى القُطَعي ومحمد بن أبي بكر المُقدَّمي ونصر بن عليّ، قالوا: حدّثنا رَوْح بن عطاء، حدّثنا سيّار أبو الحَكَم: أنه شَهِدَ خالدَ بن عبد الله القَسْريَّ وهو يَخْطُب على منبر البصرة، وهو يقول: حدَّثني أبيّ، عن جديّ، قال: قال رسول الله ﷺ:"يا يزيدَ بنَ أسدِ، أتحبُّ الجنة؟" قلت: نعم، قال:"فأحِبَّ لأخيك المسلمِ ما تحبُّ لنفسِك" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ويزيد بن أَسد بن كُرْز صحابيٌّ سكن البصرة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7313 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ويزيد بن أَسد بن كُرْز صحابيٌّ سكن البصرة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7313 - صحيح
سیدنا یزید بن اسد بن کرز رضی اللہ عنہ اپنے والد اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے یزید بن اسد! کیا تم جنت سے محبت کرتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اپنے مسلمان بھائی کے لیے بھی وہی کچھ پسند کرو جو تم اپنی ذات کے لیے پسند کرتے ہو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور یزید بن اسد بن کرز صحابی ہیں جو بصرہ میں مقیم رہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7501]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور یزید بن اسد بن کرز صحابی ہیں جو بصرہ میں مقیم رہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7501]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، روح بن عطاء» [ترقيم الرساله 7501] [ترقيم الشركة 7409] [ترقيم العلميه 7313]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 7502
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدّثنا حامد بن أبي حامد المقرئ. وأخبرنا عبد الرحمن بن حمدان الهَمَذانيّ، حدّثنا إسحاق بن إبراهيم (1) الخرّاز؛ قالا حدّثنا إسحاق بن سليمان الرازي، قال: سمعتُ مالك بن أنس يُحدَّث عن أبي حازم بن دينار، عن أبي إدريس الخَوْلانيّ، قال: دخلتُ مسجد دمشق، فإذا فتى برَّاقُ الثَّنايا وإذا الناس معه إذا اختُلفوا في شيء أسنَدوا إليه، وصدَرُوا عن رأيه، فسألتُ عنه، فقيل: هذا معاذُ بن جَبَل، فلمّا كان من الغد هجَّرتُ فوجدتُه قد سَبَقَنيّ، ووجدتُه يُصلِّي، قال: فانتظرتُه حتى قضى صلاتَه، ثم جئتُه من قِبَل وجهه فسلَّمتُ، وقلتُ: والله إني لأُحبُّك في الله، فقال: اللهِ؟ فقلتُ: اللهِ، فقال: اللهِ؟ فقلت: اللهِ، قال: فأخذ بحُبوة رِدائي وجَذَبني إليه، وقال: أبشِرْ، فإنِّي سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"قال الله ﷿: وَجَبَتْ مَحبَّتي للمتحابَّين فيّ، والمتجالسين فيَّ، والمتباذِلين فيَّ، والمُتزاوِرين فيَّ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه. وقد جمع أبو إدريس بإسناد صحيح بين معاذ وعُبادة بن الصامت في هذا المتن:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7314 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه. وقد جمع أبو إدريس بإسناد صحيح بين معاذ وعُبادة بن الصامت في هذا المتن:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7314 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابو ادریس خولانی رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں دمشق کی مسجد میں داخل ہوا تو وہاں ایک روشن دانتوں والے (پرکشش) نوجوان کو دیکھا جن کے ساتھ لوگ موجود تھے اور جب کسی بات میں اختلاف ہوتا تو انہی کی طرف رجوع کرتے اور ان کی رائے سے فیض پاتے، میں نے ان کے بارے میں پوچھا تو بتایا گیا کہ یہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہیں، جب اگلا دن ہوا تو میں دوپہر کے وقت مسجد گیا تو دیکھا کہ وہ مجھ سے پہلے وہاں موجود تھے اور نماز پڑھ رہے تھے، میں نے ان کا انتظار کیا یہاں تک کہ وہ اپنی نماز پوری کر چکے، پھر میں ان کے سامنے سے آیا اور انہیں سلام کیا اور کہا: اللہ کی قسم! میں آپ سے اللہ کی رضا کے لیے محبت کرتا ہوں، انہوں نے پوچھا: اللہ کی قسم؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم، انہوں نے (تاکیداً) پھر پوچھا: اللہ کی قسم؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم، تب انہوں نے میری چادر کا دامن پکڑ کر مجھے اپنی طرف کھینچا اور فرمایا: تمہیں خوشخبری ہو! کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا: میری محبت ان لوگوں کے لیے لازم ہو گئی جو میری خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، جو میری خاطر ایک دوسرے کے پاس بیٹھتے ہیں، جو میری خاطر ایک دوسرے پر خرچ کرتے ہیں اور جو میری خاطر ایک دوسرے کی ملاقات کو جاتے ہیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7502]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7502]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 7502] [ترقيم الشركة 7410] [ترقيم العلميه 7314]