🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

27. دَاءُ الْأُمَمِ الْأَشَرُ وَالْبَطَرُ
امتوں کی بیماری حد سے بڑھی ہوئی خوشی اور تکبر ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7498
حدّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني حَيْوة، عن ابن الهادِ، أنَّ الوليد بن أبي هشام حدَّثه عن أبي موسى الأشعريّ، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"لن تُؤْمِنوا حتى تحابُّوا، أفلا أدلُّكم على ما تَحابُّون (4) عليه؟" قالوا: بلى يا رسولَ الله، قال:"أَفشُوا السلامَ بينكم تَحابُّوا، والذي نفسي بيده، لا تدخلوا الجنَّةَ حتى تَراحَمُوا" قالوا: يا رسولَ الله، كلُّنا رحيمٌ، قال:"إنه ليس برحمةِ أحدِكم (1) ، ولكن رحمةُ العامَّة، رحمةُ العامَّة" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7310 - صحيح
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک تم آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت نہ کرو، کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں، جس سے تمہیں آپس میں محبت ہو جائے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم آپس میں سلام کو عام کرو، تمہارے درمیان محبت پیدا ہو جائے گی، اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، تم اس وقت تک جنت میں نہیں جا سکتے جب تک تم آپس میں ایک دوسرے پر رحم نہیں کرو گے، صحابہ کرام نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم تو سب ہی رحیم ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی ایک پر رحم کرنا، رحم نہیں ہے، رحمت وہ ہے جو سب لوگوں کے لئے عام ہو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7498]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7499
حدّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله، أخبرنا ابن وهب، أخبرني أبو هانئ حُميد بن هانئ الخَوْلانيّ، حدَّثني أبو سعيد الغِفَاريّ، أنه قال: سمعتُ أبا هريرة يقول: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"سيصيبُ أمتي داءُ الأُمَم" فقالوا: يا رسولَ الله، وما داءُ الأمم؟ قال:"الأَشَرُ، والبَطَرُ، والتكاثرُ، والتناجشُ (3) في الدنيا، والتباغُض، والتحاسُدُ حتى يكونَ البَغْيُ" (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7311 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت میں سابقہ امتوں والی بیماریاں ہوں گی، صحابہ کرام نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سابقہ امتوں والی بیماریاں کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اکڑ، اترانا، مال جمع کرنا، دنیا میں زیادہ دلچسپی، ایک دوسرے کے ساتھ چھپی ہوئی دشمنی رکھنا، ایک دوسرے کے ساتھ حسد کرنا، بغاوت کرنا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7499]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں