🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

29. الْمُتَحَابُّونَ فِي اللَّهِ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ فِي ظِلِّ عَرْشِهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ
اللہ کے لیے آپس میں محبت کرنے والوں کو اللہ اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7502
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدّثنا حامد بن أبي حامد المقرئ. وأخبرنا عبد الرحمن بن حمدان الهَمَذانيّ، حدّثنا إسحاق بن إبراهيم (1) الخرّاز؛ قالا حدّثنا إسحاق بن سليمان الرازي، قال: سمعتُ مالك بن أنس يُحدَّث عن أبي حازم بن دينار، عن أبي إدريس الخَوْلانيّ، قال: دخلتُ مسجد دمشق، فإذا فتى برَّاقُ الثَّنايا وإذا الناس معه إذا اختُلفوا في شيء أسنَدوا إليه، وصدَرُوا عن رأيه، فسألتُ عنه، فقيل: هذا معاذُ بن جَبَل، فلمّا كان من الغد هجَّرتُ فوجدتُه قد سَبَقَنيّ، ووجدتُه يُصلِّي، قال: فانتظرتُه حتى قضى صلاتَه، ثم جئتُه من قِبَل وجهه فسلَّمتُ، وقلتُ: والله إني لأُحبُّك في الله، فقال: اللهِ؟ فقلتُ: اللهِ، فقال: اللهِ؟ فقلت: اللهِ، قال: فأخذ بحُبوة رِدائي وجَذَبني إليه، وقال: أبشِرْ، فإنِّي سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"قال الله ﷿: وَجَبَتْ مَحبَّتي للمتحابَّين فيّ، والمتجالسين فيَّ، والمتباذِلين فيَّ، والمُتزاوِرين فيَّ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه. وقد جمع أبو إدريس بإسناد صحيح بين معاذ وعُبادة بن الصامت في هذا المتن:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7314 - على شرط البخاري ومسلم
ابوادریس خولانی بیان کرتے ہیں: میں جامع مسجد دمشق میں داخل ہوا، میں نے ایک نوجوان کو دیکھا، اس کے دانت انتہائی چمکدار تھے، کچھ لوگ بھی اس کے پاس موجود تھے، لوگوں میں جب کسی بات میں اختلاف ہوتا تو سب اپنا معاملہ اس نوجوان کے سپرد کر دیتے اور اس کی رائے کو تسلیم کرتے۔ میں نے اس کے بارے میں دریافت کیا تو مجھے بتایا گیا کہ یہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہیں، اگلے دن میں تہجد کے وقت اٹھ کر مسجد میں گیا لیکن اس دن بھی وہ مجھ سے پہلے وہاں پر موجود تھے اور نماز پڑھ رہے تھے، آپ فرماتے ہیں: میں ان کا انتظار کرنے لگا: جب انہوں نے نماز مکمل کر لی تو میں ان کے سامنے کی جانب سے ان کے پاس آیا، میں نے ان کو سلام کیا اور کہا: اللہ کی قسم! میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے تم سے محبت کرتا ہوں، اس نے کہا: کیا تم اللہ کی قسم کھا کر یہ بات کہتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں، انہوں نے پھر پوچھا: کیا تم اللہ کی قسم کھا کر کہتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں، انہوں نے میری چادر کا پلو پکڑ کر مجھے اپنے ساتھ چپکا لیا اور فرمایا: تجھے خوشخبری ہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: میں ان دو آدمیوں سے محبت کرتا ہوں، جو میری خوشی کے لئے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، اور میری خوشی کے لئے ایک دوسرے پر خرچ کرتے ہیں اور میری خوشی کی خاطر ایک دوسرے سے ملنے کے لئے جاتے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7502]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں