🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

29. الْمُتَحَابُّونَ فِي اللَّهِ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ فِي ظِلِّ عَرْشِهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ
اللہ کے لیے آپس میں محبت کرنے والوں کو اللہ اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7503
حدّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا العباس بن الوليد بن مَزْيَد، أخبرني أَبي، حدَّثني الأوزاعيّ، عن ابن حَلْبس، عن أبي إدريس عائذِ الله، قال: مرَّ رجلٌ فقمتُ إليه، فقلتُ: إِنَّ هذا حدَّثني بحديثِ رسول الله ﷺ، فهل سمعته؛ يعني معاذًا؟ قال: ما كان يُحدِّثُك إلا حقًّا، فأخبرتُه، فقال: قد سمعت هذا من رسول الله ﷺ؛ يعنيّ:"المتحابِّين في الله يُظلُّهم الله في ظِلِّ عرشِه يوم لا ظِلَّ إلَّا ظِلُّه"، وما هو أفضلَ منه، قلتُ: أَيْ رَحِمَك الله، وما هو أفضل منه؟ قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يَأْثُر عن الله ﷿ قال:"حَقَّتْ محبَّتي للمتحابِّين فيّ، وحَقَّت محبَّتي للمتواصِلين فيَّ، وحَقَّت محبَّتي للمتزاوِرين فيَّ، وحَقَّت محبتي للمتباذِلِين فيّ"، ولا أدري بأيَّتِهما بدأَ، قلتُ: مَن أنت رَحِمَك الله؟ قال: أنا عُبادة بن الصامت (1) . وهذا إسناد صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7315 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابو ادریس عائذ اللہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص گزرے تو میں ان کے پاس گیا اور کہا: بے شک انہوں (سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ) نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث سنائی ہے، کیا آپ نے بھی وہ سنی ہے؟ انہوں نے کہا: وہ تمہیں حق کے سوا کچھ نہیں بتائیں گے، پھر میں نے انہیں وہ حدیث سنائی تو انہوں نے کہا: میں نے خود یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے یعنی: اللہ کی خاطر آپس میں محبت کرنے والوں کو اللہ اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا جس دن اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا، اور اس سے بھی افضل بات سنی ہے، میں نے پوچھا: اللہ آپ پر رحم کرے، اس سے افضل کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ عزوجل کا یہ فرمان بیان کرتے ہوئے سنا: میری محبت ان لوگوں کے لیے ثابت (لازم) ہو گئی جو میری خاطر آپس میں محبت کرتے ہیں، میری محبت ان کے لیے ثابت ہو گئی جو میری خاطر باہم تعلق رکھتے ہیں، میری محبت ان کے لیے ثابت ہو گئی جو میری خاطر ایک دوسرے کی زیارت (ملاقات) کو جاتے ہیں اور میری محبت ان کے لیے ثابت ہو گئی جو میری خاطر ایک دوسرے پر مال خرچ کرتے ہیں، راوی کہتے ہیں کہ مجھے یاد نہیں کہ انہوں نے پہلے کس بات کا ذکر کیا، میں نے پوچھا: اللہ آپ پر رحم کرے، آپ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: «أنا عُبادة بن الصامت» میں عبادہ بن صامت ہوں۔
یہ اسناد شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7503]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لكن من حديث عبادة بن الصامت فقد وهم فيه أبو حازم بن دينار فجعله من حديث معاذ، والصواب أنَّ معاذًا قد روى خبرًا آخر، يوضح ذلك ما ساقه المصنّف في الروايات التالية لهذا الحديث، على أنه قد اختُلف في سماع أبي إدريس الخولاني» [ترقيم الرساله 7503] [ترقيم الشركة 7411] [ترقيم العلميه 7315]

الحكم على الحديث: حديث صحيح لكن من حديث عبادة بن الصامت فقد وهم فيه أبو حازم بن دينار فجعله من حديث معاذ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں