🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

7. إِنَّ اللَّهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ
بے شک اللہ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7552
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن عَتَّاب، حدّثنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدّثنا يحيى بن حمّاد، حدّثنا شُعبة، عن أبَان بن تَغلِب، عن الفُضيل بن عمرو الفُقَيمي، عن إبراهيم، عن علقمة بن قيس، عن عبد الله بن مسعود، عن النبيّ ﷺ قال:"إنَّ الله جَميلٌ يُحِبُّ الجَمَالَ" (2) . كتب الحاكمُ بخطّه هاهنا: يُخرَّج بطوله.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7365 - سكت عنه الذهبي في التلخيص من هذا الموضع
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ جمیل (خوبصورت) ہے اور وہ جمال کو پسند فرماتا ہے۔
امام حاکم نے یہاں اپنے ہاتھ سے تحریر فرمایا ہے کہ اسے اس کی پوری طوالت کے ساتھ روایت کیا جانا چاہیے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ اللِّبَاسِ/حدیث: 7552]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 7552] [ترقيم الشركة 7461] [ترقيم العلميه 7365]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7553
حدَّثني علي بن عيسى الحِيرِيّ، حدّثنا الحسين بن محمد القَبّانيّ، حدّثنا يحيى بن حَكيم، حدّثنا أبو بحر عبد الرحمن بن عثمان البَكْراويّ، حدّثنا هشام بن حسان، عن محمد بن سِيرِين، عن أبي هريرة: أنَّ رجلًا أتى النَّبِيَّ ﷺ فقال: يا رسول الله، إنِّي رجلٌ حُبِّب إليَّ الجَمَالُ، وأُعطيتُ منه ما ترى، حتَّى ما أُحبُّ أن يَفوقَني أحدٌ بشِرَاكَ نَعْلي، أو شِسْع نَعْلي، أفمِنَ الكِبْر هذا؟ قال:"لا، ولكن من الكِبْر مَن بَطِرَ الحقَّ، وغَمِصَ الناسَ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں ایک ایسا آدمی ہوں جسے جمال پسند ہے اور مجھے اس میں سے وہ کچھ عطا کیا گیا ہے جو آپ دیکھ رہے ہیں، یہاں تک کہ میں یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ میرے جوتوں کے تسمے یا چمڑے کے بند میں بھی کوئی مجھ سے بہتر ہو، تو کیا یہ تکبر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ تکبر تو حق کی مخالفت کرنے اور لوگوں کو حقیر سمجھنے کا نام ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ اللِّبَاسِ/حدیث: 7553]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل أبي بحر البكراوي، وقد توبع» [ترقيم الرساله 7553] [ترقيم الشركة 7462]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7554
فحدَّثناه أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى، حَدَّثَنَا أبو بكر محمد بن إسحاق، حَدَّثَنَا محمد بن يحيى القُطَعي (2) ومحمد بن عبد الأعلى الصنعاني، قالا: حَدَّثَنَا بشر بن المُفضَّل، حَدَّثَنَا ابن عَوْن، عن عمرو بن سعيد، عن حُميد بن عبد الرحمن، قال: قال ابن مسعود: كنتُ لا أُحجَبُ - أو قال: كنتُ لا أُحبَسُ - عن ثلاث عن النَّجْوى، وعن كذا وكذا، قال: فأتيتُه وعنده مالكُ بن مُرَارة الرَّهَاوي، فأدركتُ من آخر حديثه وهو يقول: يا رسولَ الله، قد أُعطِيتُ من الجَمَال ما ترى، وما أُحبُّ أنَّ أحدًا يفوقَني بشِراك نَعْلي، أفذاك من البَغْي؛ قال:"ليس ذاكَ بالبَغْي (3) ولكنَّ البغيَ مَن بَطِرَ الحقَّ - أو قال: سَفِهَ الحقَّ - وغَمِطَ الناسَ" (4) . و
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7367 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں تین باتوں یعنی سرگوشی اور فلاں فلاں کاموں سے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری سے) نہیں روکا جاتا تھا، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو وہاں مالک بن مرارہ رہاوی موجود تھے، میں نے ان کی بات کا آخری حصہ پایا جس میں وہ عرض کر رہے تھے: اے اللہ کے رسول! مجھے جمال میں سے وہ کچھ عطا کیا گیا ہے جو آپ دیکھ رہے ہیں اور میں پسند نہیں کرتا کہ میرے جوتے کے تسمے میں بھی کوئی مجھ سے بڑھ کر ہو، تو کیا یہ سرکشی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ سرکشی نہیں ہے بلکہ سرکشی (تکبر) تو حق کی مخالفت کرنے اور لوگوں کو حقیر سمجھنے کا نام ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ اللِّبَاسِ/حدیث: 7554]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكن حميد بن عبد الرحمن» [ترقيم الرساله 7554] [ترقيم الشركة 7463] [ترقيم العلميه 7367]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں