🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. إِنَّ اللَّهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ
بے شک اللہ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7553
حدَّثني علي بن عيسى الحِيرِيّ، حدّثنا الحسين بن محمد القَبّانيّ، حدّثنا يحيى بن حَكيم، حدّثنا أبو بحر عبد الرحمن بن عثمان البَكْراويّ، حدّثنا هشام بن حسان، عن محمد بن سِيرِين، عن أبي هريرة: أنَّ رجلًا أتى النَّبِيَّ ﷺ فقال: يا رسول الله، إنِّي رجلٌ حُبِّب إليَّ الجَمَالُ، وأُعطيتُ منه ما ترى، حتَّى ما أُحبُّ أن يَفوقَني أحدٌ بشِرَاكَ نَعْلي، أو شِسْع نَعْلي، أفمِنَ الكِبْر هذا؟ قال:"لا، ولكن من الكِبْر مَن بَطِرَ الحقَّ، وغَمِصَ الناسَ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں ایک ایسا آدمی ہوں جسے جمال پسند ہے اور مجھے اس میں سے وہ کچھ عطا کیا گیا ہے جو آپ دیکھ رہے ہیں، یہاں تک کہ میں یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ میرے جوتوں کے تسمے یا چمڑے کے بند میں بھی کوئی مجھ سے بہتر ہو، تو کیا یہ تکبر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ تکبر تو حق کی مخالفت کرنے اور لوگوں کو حقیر سمجھنے کا نام ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7553]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل أبي بحر البكراوي، وقد توبع» [ترقيم الرساله 7553] [ترقيم الشركة 7462]

الحكم على الحديث: حديث صحيح

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7553 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل أبي بحر البكراوي، وقد توبع.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) یہ حدیث صحیح ہے، لیکن یہ سند ابو بحر بکراوی کی وجہ سے ضعیف ہے، البتہ ان کی متابعت کی گئی ہے۔
وأخرجه أبو داود (4092)، وابن حبان (5467) من طريق عبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي، عن هشام بن حسان، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی تخریج ابوداؤد (4092) اور ابن حبان (5467) نے عبد الوہاب بن عبد المجید ثقفی کے طریق سے، انہوں نے ہشام بن حسان سے اسی سند کے ساتھ کی ہے۔
شِراك النعل: سَيْره الذي على ظهر القدم، والشِّسع: سَيْرٌ يمسك النعل بأصابع القدم.
📝 نوٹ / توضیح: "شِراك النعل" (جوتی کا تسمہ): وہ تسمہ ہے جو پاؤں کے اوپر ہوتا ہے، اور "الشِّسع": وہ تسمہ ہے جو جوتی کو پاؤں کی انگلیوں سے روکے رکھتا ہے۔
وبَطِرَ الحقَّ: جَحَده.
📝 نوٹ / توضیح: "بَطِرَ الحقَّ": اس نے حق کا انکار کیا۔
وغَمِصَ فلان فلانًا: حقَّره واستصغره ولم يَرَه شيئًا.
📝 نوٹ / توضیح: "غَمِصَ فلان فلاناً": اس نے فلاں کو حقیر جانا، چھوٹا سمجھا اور اسے کوئی وقعت نہ دی۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7553 in Urdu