🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. إِنَّ اللَّهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ
بے شک اللہ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7554
فحدَّثناه أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى، حَدَّثَنَا أبو بكر محمد بن إسحاق، حَدَّثَنَا محمد بن يحيى القُطَعي (2) ومحمد بن عبد الأعلى الصنعاني، قالا: حَدَّثَنَا بشر بن المُفضَّل، حَدَّثَنَا ابن عَوْن، عن عمرو بن سعيد، عن حُميد بن عبد الرحمن، قال: قال ابن مسعود: كنتُ لا أُحجَبُ - أو قال: كنتُ لا أُحبَسُ - عن ثلاث عن النَّجْوى، وعن كذا وكذا، قال: فأتيتُه وعنده مالكُ بن مُرَارة الرَّهَاوي، فأدركتُ من آخر حديثه وهو يقول: يا رسولَ الله، قد أُعطِيتُ من الجَمَال ما ترى، وما أُحبُّ أنَّ أحدًا يفوقَني بشِراك نَعْلي، أفذاك من البَغْي؛ قال:"ليس ذاكَ بالبَغْي (3) ولكنَّ البغيَ مَن بَطِرَ الحقَّ - أو قال: سَفِهَ الحقَّ - وغَمِطَ الناسَ" (4) . و
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7367 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں تین باتوں یعنی سرگوشی اور فلاں فلاں کاموں سے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری سے) نہیں روکا جاتا تھا، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو وہاں مالک بن مرارہ رہاوی موجود تھے، میں نے ان کی بات کا آخری حصہ پایا جس میں وہ عرض کر رہے تھے: اے اللہ کے رسول! مجھے جمال میں سے وہ کچھ عطا کیا گیا ہے جو آپ دیکھ رہے ہیں اور میں پسند نہیں کرتا کہ میرے جوتے کے تسمے میں بھی کوئی مجھ سے بڑھ کر ہو، تو کیا یہ سرکشی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ سرکشی نہیں ہے بلکہ سرکشی (تکبر) تو حق کی مخالفت کرنے اور لوگوں کو حقیر سمجھنے کا نام ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7554]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكن حميد بن عبد الرحمن» [ترقيم الرساله 7554] [ترقيم الشركة 7463] [ترقيم العلميه 7367]

الحكم على الحديث: حديث صحيح

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7554 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرّف في (ص) و (م) إلى القطيعي.
📝 نوٹ / توضیح: (2) نسخہ (ص) اور (م) میں یہ لفظ تحریف ہو کر "القطیعی" بن گیا ہے۔
(3) في (م):: ليس بالبغي، وفي (ص): ليس ذلك من البغي.
📝 نوٹ / توضیح: (3) نسخہ (م) میں: "لیس بالبغی" (یہ بغاوت نہیں ہے) اور (ص) میں: "لیس ذلک من البغی" (یہ بغاوت میں سے نہیں ہے) کے الفاظ ہیں۔
(4) حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكن حميد بن عبد الرحمن - وهو الحميري - لا يُعلم له سماع من عبد الله بن مسعود، وروايته إنما هي عن صغار الصحابة.
⚖️ درجۂ حدیث: (4) یہ حدیث صحیح ہے، اور اس سند کے تمام راوی ثقہ ہیں، لیکن حمید بن عبد الرحمن (جو کہ حمیری ہے) کا عبد اللہ بن مسعود سے سماع معلوم نہیں ہے، اور ان کی روایت صرف صغار صحابہ سے ہی ثابت ہے۔
وأخرجه أحمد (6/ 3644) و (7/ 4058) من طرق عن عبد الله بن عون، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی تخریج امام احمد (6/ 3644، 7/ 4058) نے عبد اللہ بن عون سے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ کی ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7554 in Urdu