🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. إِذَّا حُمَّ أَحَدُكُمْ فَلْيَشِنَّ عَلَيْهِ الْمَاءَ الْبَارِدَ ثَلَاثَ لَيَالٍ مِنَ السَّحَرِ
جب تم میں سے کسی کو بخار ہو، تو سحر کے وقت تین راتیں اس پر ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مارے جائیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7626
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا عبيد الله بن محمد ابنُ عائشة، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن حميد، عن أنس بن مالك، أنَّ النبي ﷺ قال:"إذا حُمَّ أحدُكم، فليَشُنَّ الماءَ الباردَ ثلاثَ ليالٍ من السَّحَر" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وإنما اتَّفقا (1) على الأسانيد في أنَّ"الحُمَّى من فَيْح جهنَّم، فأَطفِئوها بالماء".
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7438 - على شرط مسلم
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو بخار ہو جائے تو اسے چاہیے کہ سحری کے وقت تین راتوں تک (اپنے جسم پر) ٹھنڈا پانی چھڑکے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، البتہ ان دونوں کا ان اسانید پر اتفاق ہے جن میں یہ مذکور ہے کہ ”بخار جہنم کی تپش کا حصہ ہے، پس اسے پانی سے ٹھنڈا کرو۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 7626]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات، ظاهر إسناده الصحة، غير أنَّ أبا حاتم أعلَّه» [ترقيم الرساله 7626] [ترقيم الشركة 7534] [ترقيم العلميه 7438]

الحكم على الحديث:
رجاله ثقات
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7627
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العدل، حدثنا إبراهيم بن الحُسين (2) الهَمَذاني وهشام بن علي السِّيرافي، قالا: حدثنا عبد الله بن رَجَاء، حدثنا همَّام بن يحيى، عن أبي جَمْرة الضُّبعي، قال: كنتُ أجلِسُ إلى ابن عباس بمكةَ، ففَقَدني أيامًا، فلمَّا جئتُ قال: ما حَبَسَك؟ قال: قلت: حُمِمتُ، فقال: ابرُدْها عنك بماء زمزم [فإنَّ رسول الله ﷺ قال:"الحُمَّى مِن فَيْح جهنَّمَ، فَابْرُدُوها بماءِ زمزمَ] (3) " (4) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7439 - على شرط البخاري ومسلم
ابو جمرہ ضبعی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں مکہ مکرمہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی مجلس میں بیٹھا کرتا تھا، پھر چند دن میں غائب رہا، جب میں دوبارہ حاضر ہوا تو انہوں نے پوچھا: تمہیں کس چیز نے روک دیا تھا؟ میں نے عرض کیا: مجھے بخار ہو گیا تھا، انہوں نے فرمایا: اسے زمزم کے پانی سے ٹھنڈا کرو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”بخار جہنم کی تپش میں سے ہے، پس اسے زمزم کے پانی سے ٹھنڈا کرو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 7627]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل عبد الله بن رجاء» [ترقيم الرساله 7627] [ترقيم الشركة 7535] [ترقيم العلميه 7439]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں