🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. لو أن شيئا كان فيه الشفاء من الموت لكان السنا
اگر کوئی چیز موت سے شفا دینے والی ہوتی تو وہ "سنا" (سنا مکی) ہوتی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7627
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العدل، حدثنا إبراهيم بن الحُسين (2) الهَمَذاني وهشام بن علي السِّيرافي، قالا: حدثنا عبد الله بن رَجَاء، حدثنا همَّام بن يحيى، عن أبي جَمْرة الضُّبعي، قال: كنتُ أجلِسُ إلى ابن عباس بمكةَ، ففَقَدني أيامًا، فلمَّا جئتُ قال: ما حَبَسَك؟ قال: قلت: حُمِمتُ، فقال: ابرُدْها عنك بماء زمزم [فإنَّ رسول الله ﷺ قال:"الحُمَّى مِن فَيْح جهنَّمَ، فَابْرُدُوها بماءِ زمزمَ] (3) " (4) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7439 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوحمزہ ضبعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں مکہ مکرمہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا کرتا تھا۔ انہوں نے کئی دن مجھے اپنی مجلس سے مفقود پایا۔ جب میں آیا تو انہوں نے اتنے دن غیر حاضری کی وجہ پوچھی، میں نے بتایا کہ مجھے بخار ہو گیا تھا۔ آپ نے فرمایا: زمزم کے پانی کے ساتھ اپنے بخار کو ٹھنڈا کر لیا کرو۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے بخار، دوزخ کی تپش ہے اس کو زمزم کے پانی کے ساتھ ٹھنڈا کر لیا کرو ۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں اس کو اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 7627]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7627 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: الحسن.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "الحسن" ہو گیا ہے۔
(3) ما بين المعقوفين زيادة من تلخيص الذهبي، ومن الرواية الآتية عند المصنف برقم (8432).
📝 نوٹ / توضیح: بریکٹ میں دی گئی عبارت "تلخیص الذہبی" اور مصنف کی آنے والی روایت نمبر (8432) سے بطورِ اضافہ لی گئی ہے۔
(4) حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل عبد الله بن رجاء -وهو ابن عمر الغُدَاني- وقد توبع أبو جمرة الضُّبعي: هو نصر بن عِمران. وأخرجه البخاري (3261) من طريق أبي عامر العقدي عن همام بن يحيى، بهذا الإسناد. وفيه: "الحمى من فيح جهنم فابردوها بالماء" أو قال: "بماء زمزم"؛ شك همام. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اور یہ سند عبداللہ بن رجاء — جو کہ ابن عمر غدانی ہیں — کی وجہ سے قوی ہے (اور ان کی متابعت موجود ہے)۔ ابو جمرہ ضبعی سے مراد نصر بن عمران ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اسے بخاری (3261) نے ابوعامر عقدی کے طریق سے، عن ہمام بن یحییٰ اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اس میں الفاظ ہیں: "بخار جہنم کی بھاپ میں سے ہے، اسے پانی سے ٹھنڈا کرو" یا کہا: "زمزم کے پانی سے" (ہمام کو شک ہوا)۔ حاکم کا اسے مستدرک میں لانا ان کا ذہول ہے۔
وسيأتي من طريق عفّان عن همام برقم (8432).
📝 نوٹ: یہ عفان کے طریق سے، عن ہمام آگے نمبر (8432) پر آئے گا۔
وانظر في شرحه "فتح الباري" 17/ 502.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی شرح کے لیے "فتح الباری" (17/ 502) ملاحظہ کریں۔