المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
7. لَوْ أَنَّ شَيْئًا كَانَ فِيهِ الشِّفَاءُ مِنَ الْمَوْتِ لَكَانَ السَّنَا
اگر کوئی چیز موت سے شفا دینے والی ہوتی تو وہ "سنا" (سنا مکی) ہوتی
حدیث نمبر: 7627
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العدل، حدثنا إبراهيم بن الحُسين (2) الهَمَذاني وهشام بن علي السِّيرافي، قالا: حدثنا عبد الله بن رَجَاء، حدثنا همَّام بن يحيى، عن أبي جَمْرة الضُّبعي، قال: كنتُ أجلِسُ إلى ابن عباس بمكةَ، ففَقَدني أيامًا، فلمَّا جئتُ قال: ما حَبَسَك؟ قال: قلت: حُمِمتُ، فقال: ابرُدْها عنك بماء زمزم [فإنَّ رسول الله ﷺ قال:"الحُمَّى مِن فَيْح جهنَّمَ، فَابْرُدُوها بماءِ زمزمَ] (3) " (4) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7439 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7439 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوحمزہ ضبعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں مکہ مکرمہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا کرتا تھا۔ انہوں نے کئی دن مجھے اپنی مجلس سے مفقود پایا۔ جب میں آیا تو انہوں نے اتنے دن غیر حاضری کی وجہ پوچھی، میں نے بتایا کہ مجھے بخار ہو گیا تھا۔ آپ نے فرمایا: زمزم کے پانی کے ساتھ اپنے بخار کو ٹھنڈا کر لیا کرو۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے ” بخار، دوزخ کی تپش ہے اس کو زمزم کے پانی کے ساتھ ٹھنڈا کر لیا کرو “۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں اس کو اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 7627]
حدیث نمبر: 7628
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي، حدثنا يحيى بن عثمان ابن صالح بمصر، حدثنا سعيد بن أبي مريم أخبرنا عبد الله بن فَرُّوخَ، حدثني ابنُ جُريج، عن سعيد بن عُقبة الزُّرقي، عن زُرْعة بن عبد الله بن زياد، أنَّ عمر بن الخطاب حدثه عن أسماءَ بنت عُميس: أنَّ رسول الله ﷺ دخل عليها ذاتَ يومٍ وعندها شُبْرُمٌ تدقُّه، فقال:"ما تَصنَعينَ به؟" فقالت: نَسقِيه فلانًا، فقال:"إنَّه داءٌ". قال: ودخَلَ عليه وعندها سَنَا، فقال:"ما تَصنَعين بهذا؟" فقالت: يشربُه فلانٌ، فقال:"لو أنَّ شيئًا يدفعُ الموت -أو ينفع من الموت- نَفَع السَّنَا" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ من حديث البصريين عن أسماء بنت عُميس ﵂:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7440 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ من حديث البصريين عن أسماء بنت عُميس ﵂:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7440 - صحيح
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، ان کے پاس شبرم تھے اور وہ ان کو کوٹ رہی تھی۔ (شبرم، چنے سے ملتا جلتا دانہ ہوتا ہے بخار والے کو یہ پیس کر کھلایا جاتا ہے یا ابال کر اس کا پانی پلایا جاتا ہے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم یہ کیا کر رہی ہو؟ انہوں نے کہا: فلاں شخص کو یہ پلانی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر کوئی چیز موت کو روک سکتی یا موت کے معاملے میں کوئی فائدہ دے سکتی ہے، وہ ” سنا “ ہے۔ (یعنی سنا مکی) ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ بصریین کی سیدہ اسماء بنت عمیس سے روایت کردہ درج ذیل حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 7628]