🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

29. أَحَادِيثُ الْعِلَاجِ بِالْكَيِّ .
داغنے کے ذریعے علاج سے متعلق احادیث کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7683
حدثنا أبو زكريا العَنْبري، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثني عبد القُدُّوس ابن محمد الحَبْحابي، حدثني عمرو بن عاصم، حدثنا همّام، حدثنا قَتَادة، عن مُطرِّف ابن عبد الله، عن عمران بن حُصين أنه قال: لم تُسلَّم عليَّ الملائكةُ حتى ذهب منّي أثرُ النار (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7493 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ملائکہ نے اس وقت تک مجھ پر سلام نہیں کیا جب تک مجھ سے دوزخ کا اثر ختم نہیں ہو گیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 7683]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7684
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا أبو معاوية، حدثنا الأعمش. وحدثنا أبو عبد الله الحافظ، حدثنا محمد بن عبد الوهاب، أخبرنا يعلى بن عُبيد، حدثنا الأعمش، عن أبي سفيان (2) ، عن جابر قال: مرضَ أُبيُّ بن كعب، فبعث النبيُّ ﷺ إليه طبيبًا، فقَطَعَ منه عِرقًا ثم كَوَاه عليه (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7494 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی جانب ایک طبیب بھیجا، اس نے آپ کی ایک رگ کاٹ دی پھر اس پر آگ سے داغ لگایا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 7684]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7685
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نصر، حدثنا عبد الله ابن وهب، أخبرني يونس، عن ابن شهاب، عن أبي أُمامة بن سهل بن حُنَيف: أنَّ رسول الله ﷺ عاد أسعدَ (1) بن زُرَارة وبه الشَّوْكة، فلما دخل عليه قال:"بِئسَ الميتَ هذا، اليهودُ يقولون: لولا دَفَعَ عنه، ولا أَملِكُ له ولا لنفسي شيئًا، ولا يَلُومُنَّ في أبي أُمامة"، فأَمر به فكُوِيَ فمات (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين إذا كان أبو أُمامة عندهما من الصحابة، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7495 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا سعد بن زرارہ کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے، ان کو کانٹا لگا ہوا تھا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس پہنچے تو فرمایا: یہ کتنی بری میت ہے۔ یہودی کہتے ہیں: اس سے بیماری دور کیوں نہیں ہوئی؟ بات یہ ہے کہ میں اس کی شفاء کا مالک نہیں ہوں، بلکہ میں تو اپنی ذات پر ملکیت نہیں رکھتا ہوں۔ اور ابوامامہ کے بارے میں کوئی شخص مجھے ملامت نہ کرے۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کی (یعنی آگ سے داغ لگانے کا) حکم دیا۔ لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ جب کہ شیخین کے نزدیک ابوامامہ صحابہ میں سے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 7685]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں