المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
33. نَهَى عَنِ الرُّقَى وَالتَّمَائِمِ وَالتَّوْلِيهِ .
(ناجائز) منتروں، تعویذوں اور ٹونے ٹوٹکوں سے منع فرمایا گیا ہے
حدیث نمبر: 7694
حدثنا بكر بن محمد الصَّيرَفي بمَرُو، حدثنا عبد الصمد بن الفضل، حدثنا مكيُّ بن براهيم، حدثنا السَّرِيُّ بن إسماعيل، عن أبي الضُّحى، عن أم ناجيَة قالت: دخلتُ على زينبَ امرأةِ عبد الله أُعوِّذُها من حُمْرة ظَهَرَتْ بوجهها، وهي معلَّقة بحِرْز، فإني لجالسةٌ دخل عبدُ الله، فلما نظر إلى الحِرْز أتى جِذعًا مُعارِضًا في البيت، فوضع عليه رِداءَه، ثم حَسَرَ عن ذِراعَيه، فأتاها فأخذ بالحِرْز فجَذَبها حتى كاد وجهُها أن يقعَ بالأرض فانقطع، ثم خرج من البيت، فقال: لقد أصبحَ آلُ عبدِ الله أغنياءَ عن الشَّرك، ثم خرج فرَمَى بها خلف الجِدار (1) ، ثم قال: يا زينبُ، أعندي تُعلَّقين؟! إِنِّي سمعتُ رسول الله ﷺ نَهَى عن الرُّقَى والتَّمائم والتِّوَلَة، فقالت أمُّ ناجية: يا أبا عبد الرحمن، أما الرُّقى والتمائم، فقد عرفنا، فما التِّوَلَة؟ قال: التِّوَلَة ما يُهيِّجُ النساء (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7504 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7504 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ام ناجیہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے پاس گئی تاکہ ان کے چہرے پر ظاہر ہونے والی سرخی کا دم کروں، وہ ایک تعویذ لٹکائے ہوئے تھیں، میں بیٹھی ہی تھی کہ عبداللہ گھر میں داخل ہوئے، جب ان کی نظر اس تعویذ پر پڑی تو وہ گھر میں موجود ایک لکڑی کے پاس گئے، اپنی چادر اس پر رکھی، اپنی آستینیں چڑھائیں اور اس تعویذ کو کھینچ کر توڑ دیا یہاں تک کہ زینب کا چہرہ زمین کی طرف جھک گیا، پھر وہ گھر سے نکلے اور فرمایا: عبداللہ کی آل شرک سے بے نیاز ہو گئی ہے، پھر انہوں نے اسے دیوار کے پیچھے پھینک دیا اور فرمایا: اے زینب! کیا میرے سامنے تم یہ لٹکاتی ہو؟! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دم، تعویذ اور تولہ سے منع فرماتے سنا ہے، ام ناجیہ نے پوچھا: اے ابوعبدالرحمن! دم اور تعویذ تو ہم جانتے ہیں، یہ تولہ کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: تولہ وہ جادو یا چیز ہے جس کے ذریعے عورتیں (محبت پانے کے لیے) مردوں کو اکساتی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 7694]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًا،، السري بن إسماعيل ضعيف جدًا،، وأم ناجية لم نعرفها» [ترقيم الرساله 7694] [ترقيم الشركة 7602] [ترقيم العلميه 7504]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف جدًا
حدیث نمبر: 7695
حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبهاني، حدثنا أحمد ابن مِهرْان، حدثنا عُبيد الله (3) بن موسي، حدثنا إسرائيل، عن ميَسَرة بن حبيب، عن المِنْهال بن عمرو، عن قيس بن السَّكن الأسَدي، قال: دخل عبدُ الله بن مسعود على امرأتِه فرأى عليها حِرْزًا من الحُمْرة، فقطعه قطعًا عنيفًا، ثم قال: إِنَّ آلَ عبد الله عن الشِّرك أغنياء، وقال: كان مما حَفِظْنا عن النبي ﷺ: أنَّ الرُّقَى والتمائمَ والتِّوَلَةَ من الشِّرك (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7505 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7505 - صحيح
قیس بن سکن اسدی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اپنی اہلیہ کے پاس آئے اور ان کے گلے میں سرخی (بیماری) کا ایک تعویذ دیکھا تو اسے بڑی سختی سے کاٹ دیا، پھر فرمایا: آلِ عبداللہ شرک سے بے نیاز ہے، اور فرمایا: ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو باتیں یاد کی تھیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ دم، تعویذ اور تولہ شرک کا حصہ ہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 7695]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 7695]
تخریج الحدیث: «صحيح موقوفًا على ابن مسعود، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، لكن اختلف على المنهال ابن عمرو فيه كما سيأتي» [ترقيم الرساله 7695] [ترقيم الشركة 7603] [ترقيم العلميه 7505]
الحكم على الحديث:
صحيح موقوفًا على ابن مسعود