🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

33. نَهَى عَنِ الرُّقَى وَالتَّمَائِمِ وَالتَّوْلِيهِ .
(ناجائز) منتروں، تعویذوں اور ٹونے ٹوٹکوں سے منع فرمایا گیا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7693
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا ابنُ أبي ليلى، عن أخيه عيسى، قال: دخلتُ على أبي مَعبَد الجُهَني -وهو عبد الله بن عُكَيم- وبه حُمْرٌ، فقلت: ألا تُعلِّق شيئًا؟ فقال: الموتُ أقربُ من ذلك، قال رسول الله ﷺ:"من تَعلَّقَ شيئًا وُكِلَ إليه" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7503 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ابن ابی لیلی کے بھائی عیسیٰ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا ابوسعید جہنی کے پاس گیا، ان کا نام عبداللہ بن حکیم ہے۔ ان کے پاس انگارے رکھے ہوئے تھے۔ میں نے کہا: کوئی چیز لٹکا کیوں نہیں لیتے؟ انہوں نے کہا: اس سے موت زیادہ قریب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جس نے کوئی چیز لٹکائی، وہ اسی کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔ (یہ اس صورت میں ہے کہ لٹکائی جانے والی چیز خلاف شرع ہو اور اسی کو موثر حقیقی سمجھ لیا جائے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 7693]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7694
حدثنا بكر بن محمد الصَّيرَفي بمَرُو، حدثنا عبد الصمد بن الفضل، حدثنا مكيُّ بن براهيم، حدثنا السَّرِيُّ بن إسماعيل، عن أبي الضُّحى، عن أم ناجيَة قالت: دخلتُ على زينبَ امرأةِ عبد الله أُعوِّذُها من حُمْرة ظَهَرَتْ بوجهها، وهي معلَّقة بحِرْز، فإني لجالسةٌ دخل عبدُ الله، فلما نظر إلى الحِرْز أتى جِذعًا مُعارِضًا في البيت، فوضع عليه رِداءَه، ثم حَسَرَ عن ذِراعَيه، فأتاها فأخذ بالحِرْز فجَذَبها حتى كاد وجهُها أن يقعَ بالأرض فانقطع، ثم خرج من البيت، فقال: لقد أصبحَ آلُ عبدِ الله أغنياءَ عن الشَّرك، ثم خرج فرَمَى بها خلف الجِدار (1) ، ثم قال: يا زينبُ، أعندي تُعلَّقين؟! إِنِّي سمعتُ رسول الله ﷺ نَهَى عن الرُّقَى والتَّمائم والتِّوَلَة، فقالت أمُّ ناجية: يا أبا عبد الرحمن، أما الرُّقى والتمائم، فقد عرفنا، فما التِّوَلَة؟ قال: التِّوَلَة ما يُهيِّجُ النساء (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7504 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
امام ناجیہ فرماتی ہیں: میں عبداللہ کی بیوی سیدہ زینب کے پاس گئی، ان کے چہرے پر حمرہ تھا (یہ ایک وبائی بیماری ہے، جس کی وجہ سے بخار آتا ہے اور بدن پر سرخ رنگ کے دانے پڑ جاتے ہیں، یعنی خسرہ)، میں اس کی عیادت کرنے گئی تھی۔ انہوں نے تمیمہ باندھا ہوا تھا، میں وہاں بیٹھی ہوئی تھی کہ عبداللہ بھی وہاں پر آ گئے، گھر میں کھجور کا ایک تنا رکھا ہوا تھا، جب انہوں نے تمیمہ دیکھا تو اس کے پاس آئے، اس کے اوپر اپنی چادر ڈال دی۔ پھر اپنی آستینیں اوپر چڑھا کر اس کے پاس آئے، پھر انہوں نے تمیمہ کو پکڑ کر اس طرح بھینچا کہ زینب کا چہرہ زمین کے ساتھ جا لگے گا، پھر وہ تمیمہ ٹوٹ گیا۔ اور سیدنا عبداللہ گھر سے نکل گئے۔ اور فرمایا: عبداللہ کی آل کو شرک کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ پھر وہ باہر گئے اور اس کو دیوار کے پیچھے پھینک دیا۔ اور فرمایا: اے زینب تم میرے پاس ہو کر تمیمہ پہنتی ہو؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (شرکیہ) دم سے تمیمات سے اور تولیہ سے منع کرتے ہوئے سنا ہے۔ ام ناجیہ نے کہا: اے ابوعبدالرحمن دم اور تمیمات کو تو ہم جانتے ہیں، یہ تولیہ کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا تولیہ اس چیز کو کہتے ہیں جو عورتوں کو لڑائی فساد پر برانگیختہ کرتا ہے۔ (یہ اس دم کی بات ہے جو زمانہ جاہلیت کی رسومات پر اور شرک پر مشتمل ہوتے تھے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 7694]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں