المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
7. مَعْنَى الْمُقَابَلَةِ، وَالْمُدَابَرَةِ، وَالشَّرْقَاءِ، وَالْخَرْقَاءِ .
مقابلہ، مدابرہ، شرقاء اور خرقاء (کان کے مختلف عیوب) کے معانی کا بیان
حدیث نمبر: 7722
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن شُريح بن النُّعمان، عن علي قال: أمرنا رسولُ الله ﷺ أن نستشرِفَ العينَ والأُذنَ، ولا نُضحِّىَ بمُقابَلة، ولا مُدابَرة، ولا شَرقاءَ، ولا خَرقاءَ. قال أبو إسحاق: المقابَلَة: ما قُطِعَ طَرَفُ أُذنِها، والمدابَرَة: ما قُطع من جانب الأُذن، والشَّرقاءُ: المشقوقة، والخَرْقاءُ: المثقوبة (1) .
هذا حديث صحيحٌ أسانيدُه كلُّها، ولم يُخرجاه، وأظنّه لزيادة ذكرها قيسُ بن الربيع عن أبي إسحاق، على أنهما لم يحتجَّا بقيس:
هذا حديث صحيحٌ أسانيدُه كلُّها، ولم يُخرجاه، وأظنّه لزيادة ذكرها قيسُ بن الربيع عن أبي إسحاق، على أنهما لم يحتجَّا بقيس:
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم (قربانی کے جانور کی) آنکھ اور کان اچھی طرح دیکھ لیں، اور ہم ایسے جانور کی قربانی نہ کریں جس کا کان آگے سے کٹا ہو، یا پیچھے سے کٹا ہو، یا پھٹا ہوا ہو، یا اس میں سوراخ ہو؛ ابو اسحاق نے وضاحت کی کہ «مقابله» وہ ہے جس کے کان کا کنارہ کٹا ہو، «مدابره» وہ ہے جس کے کان کی سائیڈ سے کچھ کٹا ہو، «شرقاء» پھٹے ہوئے کان والے کو اور «خرقاء» سوراخ والے کان کو کہتے ہیں۔
اس حدیث کی تمام اسانید صحیح ہیں لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، میرا گمان ہے کہ یہ قیس بن ربیع کی ابو اسحاق سے روایت میں اس کا اضافہ ہے اگرچہ شیخین نے قیس سے احتجاج نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ/حدیث: 7722]
اس حدیث کی تمام اسانید صحیح ہیں لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، میرا گمان ہے کہ یہ قیس بن ربیع کی ابو اسحاق سے روایت میں اس کا اضافہ ہے اگرچہ شیخین نے قیس سے احتجاج نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ/حدیث: 7722]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات، غير شريح بن النعمان فقد روى عنه جمع وذكره ابن حبان في "الثقات"، وكذا ابن شاهين، وقال أبو حاتم الرازي: لا يحتج به شبه مجهول. وأبو إسحاق. وهو عمرو بن عبد الله السبيعي» [ترقيم الرساله 7722] [ترقيم الشركة 7630]
الحكم على الحديث:
رجاله ثقات
حدیث نمبر: 7723
حدَّثَناه أحمد بن كامل القاضي، حدثنا أحمد بن عبيد الله النَّرْسي (2) ، حدثنا أبو كامل مظفَّر بن مُدرِك، حدثنا قيسُ بن الرَّبيع، حدثنا أبو إسحاق، عن شُريح، عن علي، فذكر بنحوه. قال قيسٌ: قلتُ لأبي إسحاق: سمعته من شُريح؟ قال: حدثني ابنُ أشوَعَ عنه (3) .
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے، قیس کہتے ہیں کہ میں نے ابو اسحاق سے پوچھا: کیا آپ نے اسے شریح سے سنا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: مجھے ابن اشوع نے ان کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ/حدیث: 7723]
تخریج الحدیث: «إسناده كسابقه، وأخرجه وكيع في "أخبار القضاة" 3/ 13، والدارقطني في "المؤتلف والمختلف" 3/ 1279» [ترقيم الرساله 7723] [ترقيم الشركة 7631]
الحكم على الحديث:
إسناده كسابقه