🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

8. لَا بَأْسَ بِالْعَرْجَاءِ إِذَا بَلَغَتِ الْمَنْسَكَ .
لنگڑے جانور کی قربانی میں کوئی حرج نہیں اگر وہ خود چل کر ذبح گاہ تک پہنچ جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7723
حدَّثَناه أحمد بن كامل القاضي، حدثنا أحمد بن عبيد الله النَّرْسي (2) ، حدثنا أبو كامل مظفَّر بن مُدرِك، حدثنا قيسُ بن الرَّبيع، حدثنا أبو إسحاق، عن شُريح، عن علي، فذكر بنحوه. قال قيسٌ: قلتُ لأبي إسحاق: سمعته من شُريح؟ قال: حدثني ابنُ أشوَعَ عنه (3) .
شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے قیس کی روایات نقل نہیں کیں۔ ان کی روایت کردہ حدیث کی سند یوں ہے «حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الزَّكِيُّ، ثَنَا أَبُو كَامِلٍ مُظَفَّرُ بْنُ مُدْرِكٍ، ثَنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ شُرَيْحٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اس سند کے بعد کے پوری حدیث روایت کی ہے۔ قیس کہتے ہیں: میں نے ابواسحاق سے کہا: کیا تم نے یہ حدیث شریح سے خود سنی ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے ابن اشوع نے شریح کے حوالے سے یہ حدیث سنائی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ/حدیث: 7723]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7724
أخبرنا أبو بكر بن عتَّاب، حدثنا يحيى بن جعفر بن الزِّبْرِقان، أخبرنا وهب بن جَرير (1) ، حدثنا أبي، عن أبي إسحاق، عن سَلَمة بن كُهَيل، عن حُجَيَّة بن عَديّ: أنَّ رجلًا سأل عليًّا عن البقرة، فقال: عن سبعة، قال: القَرْن (2) ؟ قال: لا يضرُّك، قال: العَرْجاءُ؟ قال: إذا بَلَغَتِ المَنْسَكَ، قال: وكان رسولُ الله ﷺ أمرَنا أن نَستشرِفَ العينَ والأُذن (3) . رواه سفيان الثَّوري وشُعبة عن سَلَمة. أما حديثُ الثَّوري:
حجیہ بن عدی سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے گائے کے بارے میں پوچھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: گائے سات آدمیوں کی جانب سے قربان کی جا سکتی ہے، اس نے پوچھا: جس کا سینک ٹوٹا ہو؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کی قربانی کرنے میں تجھے کوئی حرج نہیں ہے۔ اس نے پوچھا: عرجاء (لنگڑا جانور)؟ آپ نے فرمایا: جب وہ اپنے قدموں پر چل کر قربان گاہ تک پہنچ جائے تو جائز ہے۔ اور فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیا کرتے تھے کہ ہم آنکھ اور کان کا اچھی طرح معاینہ کر لیا کریں۔ ٭٭ سفیان ثوری اور شعبہ نے اس کو سلمہ بن کہیل کے واسطے سے حجیہ بن عدی سے روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ/حدیث: 7724]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7725
فحدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أَسِيد بن عاصم، حدثنا الحسين بن حفص، عن سفيان، عن سَلَمة (4) بن كُهيل، عن حُجَيَّة بن عَدِي، قال: سأل رجلٌ عليًّا عن البقرة، قال: عن سبعة، فقال: مكسورةُ القَرْن؟ قال: لا بأس، قال: العَرْجاء؟ قال: إذا بَلَغَتِ المَنسَكَ، وقال: أمرَنا رسولُ الله ﷺ أن نَستشرِفَ العينَ والأُذنَ (1) . وأما حديث شُعبة:
سیدنا سفیان کی حدیث یہ ہے کہ ایک آدمی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے گائے کی قربانی کے بارے میں پوچھا آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: گائے، سات لوگوں کی جانب سے قربان کی جا سکتی ہے۔ اس نے پوچھا: جس کا سینگ ٹوٹا ہو؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کوئی حرج نہیں۔ اس نے پوچھا: عرجاء (لنگڑا جانور)؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر وہ اپنے قدموں پر چل کر قربان گاہ تک پہنچ جائے تو کوئی حرج نہیں۔ فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم آنکھ اور کان کا اچھی طرح معاینہ کر لیا کریں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ/حدیث: 7725]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7726
فحدَّثَناه علي بن حَمْشاذَ العدل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا أبو الوليد الطَّيَالسي وأبو عمر الحَوْضي، قالا: حدثنا شُعبة، عن سَلَمة بن كُهيل قال: سمعتُ حُجَيَّة بن عَدِيّ يقول: سمعتُ عليًّا، وسأله رجلٌ عن البقرة، فقال: عن سبعةٍ، قال: وسأله عن القَرْن، قال: لا يضرُّك، قال: وسأله عن العَرَج (2) ، قال: إذا بلغَ المَنسَكَ، أمرنا رسولُ الله ﷺ أن نَستشرِفَ العينَ والأُذن (3) . هذه الأسانيد كلُّها صحيحة، ولم يحتجَّا بحُجيّة بن عديٍّ، وهو من كِبار أصحاب أمير المؤمنين عليٍّ ﵁.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7535 - صحيح
حجیہ بن عدی فرماتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کسی نے گائے کی قربانی کے بارے میں پوچھا آپ نے فرمایا: ایک گائے سات آدمیوں کی جانب سے قربان کی جا سکتی ہے۔ پھر اس شخص نے ایسے جانور کے بارے میں پوچھا جس کا سینگ ٹوٹا ہوا ہو؟ آپ نے فرمایا: کوئی حرج نہیں۔ اس نے عرجاء (لنگڑے جانور) کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: اگر وہ اپنے قدموں پر چل کر قربان گاہ تک جا سکتا ہو تو جائز ہے۔ اور فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم آنکھ اور کان کا اچھی طرح معاینہ کر لیا کریں۔ ٭٭ یہ تمام اسانید صحیح ہیں لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے حجیہ بن عدی کی روایات نقل نہیں کیں۔ حالانکہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے قریبی ساتھیوں میں سے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ/حدیث: 7726]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7727
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد، حدثنا الحسن بن علي بن بحر البَرِّيّ، حدثني أبي، حدثنا عيسى بن يونس، حدثنا ثَوْر بن يزيد، حدثني أبو حُميد الرُّعَيني، حدثني يزيد بن خالد المصري، قال: أتيتُ عُتبة بن عبدٍ السُّلَمي، فقلت: يا أبا الوليد، إنِّي خرجتُ ألتمسُ الضحايا، فلم أجد شيئًا يُعجبني غير ثَرْماءَ، فكرهتُها، فما تقول؟ قال: أفلا جئتَني بها، فقلت: سبحانَ الله، أتجوزُ عنك، ولا تجوزُ عني؟! قال: نعم، إنك تشُكُّ ولا أشكُّ، إنما نهى رسولُ الله ﷺ عن المصفَّرة والمُستأصَلة والبَخْقاءِ والمُشيَّعةِ والكَسْراء والمصفَّرةُ: التي تُستأصَل أُذُنها حتى يبدُوَ سِماخُها، والمستأصَلةُ قرنُها، والبَخْقاءُ: التي تُبخَقُ عينُها، والمشيَّعةُ: التي لا تَتْبعُ الغنَمَ عَجَفًا وضعفًا، والكَسْراءُ: الكَسِير (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7536 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
یزید بن خالد مصری فرماتے ہیں: میں عتبہ بن عبد سلمی کے پاس گیا اور کہا: اے ابوالولید میں قربانی کا جانور لینے نکلا ہوں، لیکن مجھے کوئی جانور پسند نہیں آیا، ایک ثرماء (ٹوٹے ہوئے دانت والا) جانور ملا ہے، وہ مجھے پسند نہیں ہے۔ آپ اس کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ انہوں نے کہا: کیا تم اس کو میرے پاس نہیں لا سکتے؟ میں نے کہا: سبحان اللہ وہ آپ کے لیے جائز اور میرے لیے ناجائز ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں تم شک کر رہے ہو اور مجھے کوئی شک نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مصفرہ، مستاصلہ، نحفاء، مشیعہ اور کسراء سے منع فرمایا ہے۔ ٭ مصفرہ اس جانور کہتے ہیں جس کا کان جڑ سے کٹ گیا ہو اور اس کا سوراخ نظر آ رہا ہو۔ ٭ مستاصلہ اس جانور کو کہتے ہیں، جس کا سینگ ٹوٹا ہوا ہے۔ ٭ نحفاء ایسے جانور کو کہتے ہیں جس کی آنکھیں بھینگی ہوں۔ ٭ مشیعہ ایسے جانور کو کہتے ہیں جو لاغری اور لنگڑے پن کی وجہ سے ریوڑ کے ساتھ نہ چل سکتا ہو۔ ٭ اور کسراء اس جانور کو کہتے ہیں، جس کی ٹانگ ٹوٹی ہوئی ہو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ/حدیث: 7727]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں