المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
8. لَا بَأْسَ بِالْعَرْجَاءِ إِذَا بَلَغَتِ الْمَنْسَكَ .
لنگڑے جانور کی قربانی میں کوئی حرج نہیں اگر وہ خود چل کر ذبح گاہ تک پہنچ جائے
حدیث نمبر: 7724
أخبرنا أبو بكر بن عتَّاب، حدثنا يحيى بن جعفر بن الزِّبْرِقان، أخبرنا وهب بن جَرير (1) ، حدثنا أبي، عن أبي إسحاق، عن سَلَمة بن كُهَيل، عن حُجَيَّة بن عَديّ: أنَّ رجلًا سأل عليًّا عن البقرة، فقال: عن سبعة، قال: القَرْن (2) ؟ قال: لا يضرُّك، قال: العَرْجاءُ؟ قال: إذا بَلَغَتِ المَنْسَكَ، قال: وكان رسولُ الله ﷺ أمرَنا أن نَستشرِفَ العينَ والأُذن (3) . رواه سفيان الثَّوري وشُعبة عن سَلَمة. أما حديثُ الثَّوري:
حجیۃ بن عدی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے گائے کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: یہ سات افراد کی طرف سے (کافی) ہے، اس نے پوچھا: اگر اس کا سینگ (ٹوٹا ہوا) ہو؟ انہوں نے فرمایا: اس سے تمہیں کوئی نقصان نہیں ہوگا، اس نے پوچھا: اگر وہ لنگڑی ہو؟ انہوں نے فرمایا: اگر وہ خود چل کر ذبح کرنے کی جگہ تک پہنچ جائے (تو جائز ہے)، اور انہوں نے مزید کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تھا کہ ہم (قربانی کے جانور کی) آنکھ اور کان کو اچھی طرح دیکھ لیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ/حدیث: 7724]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل حجية بن عدي» [ترقيم الرساله 7724] [ترقيم الشركة 7632]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 7725
فحدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أَسِيد بن عاصم، حدثنا الحسين بن حفص، عن سفيان، عن سَلَمة (4) بن كُهيل، عن حُجَيَّة بن عَدِي، قال: سأل رجلٌ عليًّا عن البقرة، قال: عن سبعة، فقال: مكسورةُ القَرْن؟ قال: لا بأس، قال: العَرْجاء؟ قال: إذا بَلَغَتِ المَنسَكَ، وقال: أمرَنا رسولُ الله ﷺ أن نَستشرِفَ العينَ والأُذنَ (1) . وأما حديث شُعبة:
حجیۃ بن عدی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے گائے کی قربانی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: یہ سات لوگوں کی طرف سے ہوتی ہے، اس نے پوچھا: اگر اس کا سینگ ٹوٹا ہوا ہو؟ فرمایا: کوئی حرج نہیں، اس نے پوچھا: اگر لنگڑی ہو؟ فرمایا: اگر قربان گاہ تک پہنچ جائے، اور فرمایا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آنکھ اور کان اچھی طرح دیکھنے کا حکم دیا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ/حدیث: 7725]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن كسابقه» [ترقيم الرساله 7725] [ترقيم الشركة 7633]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 7726
فحدَّثَناه علي بن حَمْشاذَ العدل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا أبو الوليد الطَّيَالسي وأبو عمر الحَوْضي، قالا: حدثنا شُعبة، عن سَلَمة بن كُهيل قال: سمعتُ حُجَيَّة بن عَدِيّ يقول: سمعتُ عليًّا، وسأله رجلٌ عن البقرة، فقال: عن سبعةٍ، قال: وسأله عن القَرْن، قال: لا يضرُّك، قال: وسأله عن العَرَج (2) ، قال: إذا بلغَ المَنسَكَ، أمرنا رسولُ الله ﷺ أن نَستشرِفَ العينَ والأُذن (3) . هذه الأسانيد كلُّها صحيحة، ولم يحتجَّا بحُجيّة بن عديٍّ، وهو من كِبار أصحاب أمير المؤمنين عليٍّ ﵁.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7535 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7535 - صحيح
حجیۃ بن عدی کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سنا، ان سے ایک شخص نے گائے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: یہ سات افراد کی طرف سے ہے، سینگ کے بارے میں پوچھا تو فرمایا: اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، لنگڑے پن کے بارے میں پوچھا تو فرمایا: اگر وہ ذبح کی جگہ تک پہنچ جائے (یعنی وہ اپنے قدموں پر چل کر قربان گاہ تک جا سکتا ہو)، اور ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آنکھ اور کان اچھی طرح دیکھ لینے کا حکم دیا تھا۔
یہ تمام اسانید صحیح ہیں، اگرچہ شیخین نے حجیۃ بن عدی سے احتجاج نہیں کیا لیکن وہ امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کے کبار اصحاب میں سے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ/حدیث: 7726]
یہ تمام اسانید صحیح ہیں، اگرچہ شیخین نے حجیۃ بن عدی سے احتجاج نہیں کیا لیکن وہ امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کے کبار اصحاب میں سے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ/حدیث: 7726]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن كسابقيه» [ترقيم الرساله 7726] [ترقيم الشركة 7634] [ترقيم العلميه 7535]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 7727
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد، حدثنا الحسن بن علي بن بحر البَرِّيّ، حدثني أبي، حدثنا عيسى بن يونس، حدثنا ثَوْر بن يزيد، حدثني أبو حُميد الرُّعَيني، حدثني يزيد بن خالد المصري، قال: أتيتُ عُتبة بن عبدٍ السُّلَمي، فقلت: يا أبا الوليد، إنِّي خرجتُ ألتمسُ الضحايا، فلم أجد شيئًا يُعجبني غير ثَرْماءَ، فكرهتُها، فما تقول؟ قال: أفلا جئتَني بها، فقلت: سبحانَ الله، أتجوزُ عنك، ولا تجوزُ عني؟! قال: نعم، إنك تشُكُّ ولا أشكُّ، إنما نهى رسولُ الله ﷺ عن المصفَّرة والمُستأصَلة والبَخْقاءِ والمُشيَّعةِ والكَسْراء والمصفَّرةُ: التي تُستأصَل أُذُنها حتى يبدُوَ سِماخُها، والمستأصَلةُ قرنُها، والبَخْقاءُ: التي تُبخَقُ عينُها، والمشيَّعةُ: التي لا تَتْبعُ الغنَمَ عَجَفًا وضعفًا، والكَسْراءُ: الكَسِير (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7536 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7536 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
یزید بن خالد مصری سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں سیدنا عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور عرض کیا: اے ابوالولید! میں قربانی کے جانور تلاش کرنے نکلا لیکن مجھے سوائے ایک «تهرماء» (جس کے سامنے کے دانت گرے ہوں) کے کوئی جانور پسند نہ آیا، مگر مجھے وہ ناپسند گزرا، آپ کی کیا رائے ہے؟ انہوں نے فرمایا: تم اسے میرے پاس کیوں نہ لائے؟ میں نے کہا: سبحان اللہ! کیا وہ آپ کی طرف سے جائز ہے اور میری طرف سے نہیں؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، کیونکہ تم شک کر رہے ہو اور میں شک نہیں کرتا، بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ان جانوروں (کی قربانی) سے منع فرمایا ہے: «مصفّره» (جس کا کان جڑ سے کاٹ دیا گیا ہو یہاں تک کہ سوراخ نظر آنے لگے)، «مستأصله» (جس کا سینگ جڑ سے ٹوٹ گیا ہو)، «بقاء» (جس کی آنکھ پھوٹ گئی ہو)، «مشيّعه» (جو دبلی اور کمزور ہونے کی وجہ سے ریوڑ کے پیچھے رہ جائے)، اور «كسراء» (جو ٹوٹے ہوئے اعضاء والا لنگڑا جانور ہو)۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ/حدیث: 7727]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ/حدیث: 7727]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، أبو حميد الرعيني وشيخه يزيد مجهولان، وانفردت رواية الحاكم بتسمية أبيه خالدًا، فإن صحَّت وإلّا فهي وهمٌ، فإن جميع من ترجم له وروى الحديث من طريقه سماه يزيد ذا مِصر حتى الحاكم في روايته السالفة برقم (1740)، وأما نسبته هنا بالمصري فيغلب على ظننا أنه محرَّف عن المُقرَئي» [ترقيم الرساله 7727] [ترقيم الشركة 7635] [ترقيم العلميه 7536]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 7728
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا علي بن عاصم، حدثني ابن طاووس، عن أبيه، عن ابن عباس قال: قال رسولُ الله ﷺ:"لا تجوزُ في البُدْن (2) : العَوْراءُ، والعَجْفاءُ، والجَرْباءُ، والمُصطَلَمةُ أَطْباؤُها كلُّها" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7537 - علي بن عاصم ضعفوه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7537 - علي بن عاصم ضعفوه
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قربانی کے بڑے جانوروں (اونٹ وغیرہ) میں یہ جائز نہیں ہیں: کانا جانور، دبلا پتلا جانور، خارش زدہ جانور، اور وہ جانور جس کے تھن (جڑ سے) کٹ گئے ہوں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ/حدیث: 7728]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ/حدیث: 7728]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، تفرَّد به مرفوعًا علي بن عاصم» [ترقيم الرساله 7728] [ترقيم الشركة 7636] [ترقيم العلميه 7537]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف