🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

11. عِصْمَةُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - عَنْ عَمَلِ الْجَاهِلِيَّةِ قَبْلَ النُّبُوَّةِ .
نبوت سے قبل نبی کریم ﷺ کی جاہلیت کے کاموں سے عصمت (حفاظت) کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7810
حدثنا أبو بكر محمد بن داود بن سليمان الزَّاهد، حدثنا علي بن الحسين ابن الجُنَيد الرازي، حدثنا محمد بن عيسى، حدثنا سَلَمة بن الفضل، حدثني محمد ابن إسحاق، عن يحيى بن سعيد الأنصاري، عن سعيد بن المسيّب، حدثني عمرو ابن العاص، أنَّه سمع رسولَ الله ﷺ يقول:"كلُّ ابنِ آدمَ يأتي يومَ القيامة وله ذنبٌ إِلَّا ما كان من يحيى بن زكريا" قال: ثم دلى رسول الله ﷺ بيده إلى الأرض فأخذ عُوَيدًا صغيرًا، ثم قال:"وذلك أنَّه لم يكُنْ له ما للرجالِ إلَّا مثلُ هذا العُودِ، وبذلك سمَّاه الله سيِّدًا وحَصُورًا ونبيًّا من الصالحين" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7618 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن ہر انسان کے ذمہ گناہ ہوں گے، سوائے سیدنا یحیی بن زکریا علیہ السلام کے۔ راوی کہتے ہیں: پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ زمین کی جانب بڑھایا اور ایک چھوٹی سی لکڑی پکڑی پھر فرمایا: اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے ساتھ مردوں والی چیز صرف اس لکڑی جتنی تھی، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں کہا ہے کہ وہ سَیِّدَا وحَصُوْرًا وَ نَبِیّاً مِنَ الصَّالِحِینَ اور سردار، اور ہمیشہ کے لیے عورتوں سے بچنے والا اور نبی ہمارے خاصوں میں سے ۔ ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّوْبَةِ وَالْإِنَابَةِ/حدیث: 7810]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7811
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبَّار، حدثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، حدثني محمد بن عبد الله بن قيس بن مَخْرَمة، عن الحسن بن محمد بن علي [عن أبيه] (1) عن جدِّه عليِّ بن أبي طالب قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"ما هَمَمْتُ بما كان أهلُ الجاهليّة يَهُمَّون به إِلَّا مَرَّتين مِن الدَّهر، كلاهما يَعصِمُني اللهُ تعالى منهما: قلتُ ليلةً لفتًى كان معي من قُريش في أعلى مكةَ في أغنامٍ لأهلِها تَرْعَى: أَبْصِرْ لي غنمي حتى أسمُرَ هذه الليلةَ بمكةَ كما يَسمُرُ الفِتيانُ، قال: نَعَمْ، فخرجتُ، فلما جئتُ أدنَى دارٍ من دُور مكةَ، سمعتُ غِناءً وصوت دُفوف وزَمِيرًا، فقلتُ: ما هذا؟ قالوا: فلانٌ تزوَّج فلانةَ؛ لرجل من قريش تزوَّج امرأةً، فلَهَوتُ بذلك الغِناء (2) وذلك الصوتِ حتى غَلَبَتْني عَيْني، فنمتُ فما أيقَظَني إلَّا مسُّ الشَّمس، فرجعتُ فسمعتُ مثلَ ذلك، فقيل لي مثلُ ما قيل لي، فلهوتُ بما سمعتُ [حتى] غلبَتْني عيني، فما أيقَظَني إلَّا مَسُّ الشَّمس، ثم رجعتُ إلى صاحبي، فقال: ما فعلتَ؟ فقلتُ: ما فعلتُ شيئًا" قال رسولُ الله ﷺ:"فوالله ما هَمَمتُ بعدَها بسوءٍ ممّا يَعمَلُ أهلُ الجاهلية حتى أكرَمَني اللهُ تعالى بنُبوّتِه" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7619 - على شرط مسلم
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس طرح جاہلیت کے لوگ جذباتی ہو جایا کرتے تھے، اس طرح دو مرتبہ میرے ساتھ ہوا۔ لیکن ہر مرتبہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بچا لیا۔ 1۔ ایک ایک قریشی نوجوان مکہ کے بالائی علاقے میں بکریاں چرا رہا تھا، میں نے اس سے کہا: آج رات تو میری بکریوں کا خیال کرنا، میں مکہ میں لڑکوں کے ساتھ گپ شپ کرنے جا رہا ہوں، اس نے کہا: ٹھیک ہے۔ میں بکریاں اس سپرد کر کے وہاں سے نکل آیا، جب میں مکہ کی آبادی کے قریب پہنچا تو مجھے گانے باجے اور دف اور مزامیر کی آوازیں سنائی دیں، میں نے کسی سے پوچھا کہ یہ آوازیں کیسی ہیں؟ اس نے بتایا کہ یہ شادی ہو رہی ہے۔ یہ آواز سنتے ہی مجھ پر نیند کا غلبہ ہو گیا اور میں سو گیا۔ ساری رات وہیں سویا رہا، دن کے وقت دھوپ کی گرمی پڑی تو میری آنکھ کھلی، میں وہیں سے اٹھ کر اپنے اس ساتھی کے پاس واپس چلا گیا۔ 2۔ دوسری مرتبہ پھر ایسا ہی ہوا، لیکن اس بار بھی مجھے نیند آ گئی اور میں سو گیا اور صبح کے وقت میری آنکھ کھلی، میں اپنے ساتھی کے پاس لوٹ گیا۔ اس نے مجھ سے پوچھا: کہ رات تم نے کیا کیا؟ میں نے کہا: میں نے کچھ بھی نہیں کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اس کے بعد میں نے کبھی بھی اہل جاہلیت کی رسومات میں سے کسی کا ارادہ بھی نہیں کیا۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے نبوت کی عزت عطا فرما دی۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّوْبَةِ وَالْإِنَابَةِ/حدیث: 7811]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7812
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا رَوْح بن عُبَادة، حدثنا زكريا بن إسحاق، حدثنا عمرو بن دينار، عن عطاء، عن ابن عباس في قول الله ﷿: ﴿الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ إِلَّا اللَّمَمَ﴾ [النجم: 32] قال: هو الرجل يُصِيبُ الفاحشةُ يُلِمُّ بها، ثم يتوبُ منها (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7620 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ إِلَّا اللِّمَمَ وہ جو بڑے گناہوں اور بے حیائیوں سے بچتے ہیں مگر اتنا کہ گناہ کے پاس گئے اور رک گئے () اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی آدمی گناہ میں مبتلا ہوا، لیکن پھر اس سے توبہ کر لی۔ کسی شاعر نے کہا ہے۔ اے اللہ! اگر تو بخشنے پہ آئے بڑے جم غفیر کو بخش دے، تیرا وہ کون سا بندہ ہے جو گناہ میں مبتلا نہیں ہوا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّوْبَةِ وَالْإِنَابَةِ/حدیث: 7812]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں