🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

26. عَذَابُ هَذِهِ الْأُمَّةِ فِي الْقَتْلِ وَالزَّلَازِلُ وَالْفِتَنُ .
اس امت کا عذاب قتل و غارت، زلزلوں اور فتنوں کی صورت میں ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7840
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفَّار، حَدَّثَنَا أبو بكر بن أبي الدُّنيا، حَدَّثَنَا سليمان بن عبد الجبار، حَدَّثَنَا همَّام وحمَّاد بن سَلَمة، قالا: حَدَّثَنَا إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة، عن أنس قال: جاء رجلٌ إلى النَّبِيِّ ﷺ، فقال: يا رسول الله، أصبتُ حدًّا، قال: فلم يسأله عنه، وأُقيمتِ الصلاةُ، فصلَّى النَّبِيّ ﷺ، فلمَّا فَرَغَ من صلاته قال: يا رسولَ الله، أصبتُ حدًّا، فأقِمْ فيَّ كتابَ الله، قال:"صلَّيتَ معنا الصلاةَ؟" قال: نعم، قال:"قد غُفِرَ لك" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7648 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا، اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر حد لازم ہو گئی ہے، راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نے اس سے کوئی بات نہ پوچھی، اور نماز کے لیے اقامت ہو گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو اس آدمی نے پھر کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے ایسا گناہ کیا ہے جس کی وجہ سے مجھ پر حد لازم ہو چکی ہے، اس لیے آپ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق مجھ پر حد نافذ فرمائیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے ہمارے ساتھ نماز پڑھی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرے گناہ بخش دئیے گئے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّوْبَةِ وَالْإِنَابَةِ/حدیث: 7840]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7841
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا أحمد بن عبد الجبار، حَدَّثَنَا محمد بن فُضَيل بن غَزْوان، حَدَّثَنَا صَدَقة بن المثنّى، حَدَّثَنَا رِياح بن الحارث (2) ، عن أبي بُرْدة، قال: بَيْنا أنا واقفٌ في السُّوق في إمارة زياد، إذ ضربتُ بإحدى يديَّ على الأخرى تعجُّبًا، فقال رجلٌ من الأنصار - قد كانت لوالده صحبةٌ مع رسول الله ﷺ: ممّا تَعجَبُ يا أبا بُرْدة؟ قلتُ أعجَبُ من قومٍ دينُهم واحدٌ، ونبيُّهم واحدٌ، ودعوتُهم واحدةٌ، وحجُّهم واحدٌ، وغزوُهم واحدٌ، يَستحِلُّ بعضُهم قتل بعض، قال: فلا تَعجَبْ، فإنِّي سمعتُ والدي أخبرني أنه سَمِعَ رسولَ الله ﷺ يقول:"إِنَّ أُمّتي (1) أُمَّةٌ مرحومةٌ ليس عليها في الآخرة حسابٌ ولا عذابٌ، إنما عذابُها في القَتْلِ والزَّلازل والفِتَن" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7649 - صحيح
سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: زیاد کے دور حکومت میں، میں ایک بازار میں کھڑا ہوا تھا، میں نے تعجب کی وجہ سے اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مارا، ایک انصاری شخص (اس کے والد محترم صحابی رسول ہیں) نے کہا: اے ابوبردہ! تم کس بات پر تعجب کر رہے ہو؟ میں نے کہا: مجھے اس قوم پر تعجب ہو رہا ہے، جن کا دین ایک ہے، جن کا نبی ایک ہے، جن کی دعوت ایک ہے، جن کا حج ایک ہے، جن کا جہاد ایک ہے، اور یہ سب ایک دوسرے کو قتل کرنا جائز سمجھتے ہیں، اس نے کہا: آپ تعجب نہ کریں، کیونکہ میں نے اپنے والد محترم کی زبانی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سن رکھا ہے کہ میری امت، امت مرحومہ ہے۔ آخرت میں نہ ان کا کوئی حساب لیا جائے گا اور نہ ان پر کوئی عذاب ہو گا۔ ان کا عذاب قتل، زلزلے اور فتنے ہیں (جو کہ دنیا ہی میں ان پر آ جائیں گے) یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّوْبَةِ وَالْإِنَابَةِ/حدیث: 7841]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں