🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. عذاب هذه الأمة فى القتل والزلازل والفتن .
اس امت کا عذاب قتل و غارت، زلزلوں اور فتنوں کی صورت میں ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7841
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا أحمد بن عبد الجبار، حَدَّثَنَا محمد بن فُضَيل بن غَزْوان، حَدَّثَنَا صَدَقة بن المثنّى، حَدَّثَنَا رِياح بن الحارث (2) ، عن أبي بُرْدة، قال: بَيْنا أنا واقفٌ في السُّوق في إمارة زياد، إذ ضربتُ بإحدى يديَّ على الأخرى تعجُّبًا، فقال رجلٌ من الأنصار - قد كانت لوالده صحبةٌ مع رسول الله ﷺ: ممّا تَعجَبُ يا أبا بُرْدة؟ قلتُ أعجَبُ من قومٍ دينُهم واحدٌ، ونبيُّهم واحدٌ، ودعوتُهم واحدةٌ، وحجُّهم واحدٌ، وغزوُهم واحدٌ، يَستحِلُّ بعضُهم قتل بعض، قال: فلا تَعجَبْ، فإنِّي سمعتُ والدي أخبرني أنه سَمِعَ رسولَ الله ﷺ يقول:"إِنَّ أُمّتي (1) أُمَّةٌ مرحومةٌ ليس عليها في الآخرة حسابٌ ولا عذابٌ، إنما عذابُها في القَتْلِ والزَّلازل والفِتَن" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7649 - صحيح
سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: زیاد کے دور حکومت میں، میں ایک بازار میں کھڑا ہوا تھا، میں نے تعجب کی وجہ سے اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مارا، ایک انصاری شخص (اس کے والد محترم صحابی رسول ہیں) نے کہا: اے ابوبردہ! تم کس بات پر تعجب کر رہے ہو؟ میں نے کہا: مجھے اس قوم پر تعجب ہو رہا ہے، جن کا دین ایک ہے، جن کا نبی ایک ہے، جن کی دعوت ایک ہے، جن کا حج ایک ہے، جن کا جہاد ایک ہے، اور یہ سب ایک دوسرے کو قتل کرنا جائز سمجھتے ہیں، اس نے کہا: آپ تعجب نہ کریں، کیونکہ میں نے اپنے والد محترم کی زبانی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سن رکھا ہے کہ میری امت، امت مرحومہ ہے۔ آخرت میں نہ ان کا کوئی حساب لیا جائے گا اور نہ ان پر کوئی عذاب ہو گا۔ ان کا عذاب قتل، زلزلے اور فتنے ہیں (جو کہ دنیا ہی میں ان پر آ جائیں گے) یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7841]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7841 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث ضعيف لاضطرابه، فقد اختلف فيه على أبي بردة اختلافًا كثيرًا في الإسناد والمتن، وذكرنا ذلك في الرواية السالفة برقم (157).
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کے ضعیف ہونے کی وجہ "اضطراب" (سند و متن میں تضاد) ہے، کیونکہ ابو بردہ سے اس کی روایت میں بہت اختلاف پایا جاتا ہے، جس کی تفصیل نمبر 157 پر گزر چکی ہے۔
وهو في "الدعاء" لمحمد بن فضيل بن غزوان الضبي برقم (12).
📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت محمد بن فضیل بن غزوان الضبی کی کتاب "الدعاء" میں نمبر 12 پر موجود ہے۔