🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

27. حِكَايَةُ وَرَعِ الْكِفْلِ .
کفل نامی شخص کے تقویٰ اور توبہ کا قصہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7843
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حَدَّثَنَا سعيد بن مسعود، حَدَّثَنَا عُبيد الله (1) بن موسى، أخبرنا شَيْبان بن عبد الرحمن، عن الأعمش، عن عبد الله بن عبد الله، عن سعد مولى طلحة، عن ابن عمر قال: لقد سمعتُ من فِي رسول الله ﷺ حديثًا لو لم أسمعه إلَّا مرةً أو مرتَين - حتَّى عَدَّ سبعًا - ولكنّي سمعتُه أكثرَ من ذلك؛ قال:"كان الكِفْلُ من بني إسرائيل لا يتوَرَّعُ عن ذنبٍ عَمِلَه، فأتَته امرأةٌ فأعطاها ستين دينارًا على أن يطأَها، فلما قعد منها مَقْعَدَ الرجلِ من امرأته، أُرعِدَتْ فبَكَتْ، فقال: ما يُبكيكِ؟ أكرَهتُكِ؟ قالت: لا، ولكن هذا عملٌ لم أعمله قطُّ، وإنما حَمَلَني عليه الحاجَةُ، قال: فتفعلين هذا ولم تفعليهِ قطُّ؟ قال: ثم نزل فقال: اذهبي والدنانيرُ لك. قال: ثم قال: واللهِ لا يَعصي الكِفلُ ربَّه أبدًا، فمات من ليلتِه وأصبَح مكتوبًا على بابه: قد غُفِرَ للكِفْلِ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7651 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے ایک حدیث سنی، اگر میں اسے ایک یا دو بار - یہاں تک کہ انہوں نے سات بار تک گنا - سنا ہوتا (تو شاید بیان نہ کرتا) لیکن میں نے اسے اس سے بھی کہیں زیادہ بار سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل میں «کفل» نامی ایک شخص تھا جو کسی بھی گناہ سے باز نہیں آتا تھا، ایک عورت اس کے پاس آئی تو اس نے اسے (بدکاری کے لیے) ساٹھ دینار دیے، جب وہ اس کے پاس اس طرح بیٹھا جیسے شوہر اپنی بیوی کے پاس بیٹھتا ہے، تو وہ عورت کانپنے لگی اور رونے لگی، اس نے پوچھا: تم کیوں رو رہی ہو؟ کیا میں نے تم پر زبردستی کی ہے؟ اس نے کہا: نہیں، لیکن یہ ایسا کام ہے جو میں نے کبھی نہیں کیا، مجھے صرف میری حاجت اور مجبوری نے اس پر آمادہ کیا ہے، اس نے کہا: تم نے کبھی ایسا نہیں کیا اور اب (مجبوری میں) یہ کر رہی ہو؟ راوی کہتے ہیں: پھر وہ اس سے دور ہو گیا اور کہنے لگا: تم چلی جاؤ اور یہ دینار بھی تمہارے ہی ہیں، پھر اس نے کہا: اللہ کی قسم! کفل اب کبھی اپنے رب کی نافرمانی نہیں کرے گا، پس اسی رات اس کا انتقال ہو گیا اور صبح اس کے دروازے پر لکھا ہوا پایا گیا کہ بے شک اللہ نے کفل کو معاف کر دیا ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّوْبَةِ وَالْإِنَابَةِ/حدیث: 7843]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 7843] [ترقيم الشركة 7750] [ترقيم العلميه 7651]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7844
أخبرنا حمزة بن العباس العَقَبي، حَدَّثَنَا محمد بن عيسى بن حَيّان، حَدَّثَنَا سفيان، عن عثمان بن أبي سليمان، عن ابن أبي مُلَيكة في قوله ﷿: ﴿وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِ وَهَمَ بِهَا﴾ قال: جلسَ منها مَجلِسَ الرجل من امرأته، فنُودِي: يا ابنَ يعقوب، أَتزني فتكونَ كالطائرِ يُنتَفُ ريشُه فيطير ولا ريشَ له؟! (1)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7652 - صحيح
ابن ابی ملیکہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِ وَهَمَّ بِهَا﴾ [سورة يوسف: 24] کے متعلق روایت ہے کہ (وہ) اس عورت کے پاس اس طرح بیٹھے جیسے شوہر اپنی بیوی کے پاس بیٹھتا ہے، تو انہیں غیب سے پکارا گیا: اے یعقوب کے بیٹے! کیا تم زنا کرو گے اور پھر اس پرندے کی طرح ہو جاؤ گے جس کے پر اکھاڑ دیے گئے ہوں اور وہ اڑنا چاہے مگر اس کے پر نہ ہوں؟!
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّوْبَةِ وَالْإِنَابَةِ/حدیث: 7844]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف من أجل محمد بن عيسى بن حيان: وهو المدائني» [ترقيم الرساله 7844] [ترقيم الشركة 7751] [ترقيم العلميه 7652]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں