🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

27. حِكَايَةُ وَرَعِ الْكِفْلِ .
کفل نامی شخص کے تقویٰ اور توبہ کا قصہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7842
حَدَّثَنَا أبو العباس، حَدَّثَنَا أحمد بن عبد الجبار، حَدَّثَنَا أبو بكر بن عيَّاش، عن أبي حَصِين، عن أبي بُرْدة قال: كنتُ عند عُبيد الله بن زياد، فأُتي برؤوس خَوارجَ، فكلما مرُّوا عليه برأس قال: إلى النار، فقال له عبد الله بن يزيد: أوَلا تدري، سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"عذابُ هذه الأمّة جُعِل بأيديها في دُنياها" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، إنما أخرج مسلم وحده حديثَ طلحة بن يحيى عن أبي بُردة عن أبي موسى:"أمّتي أمّةٌ مرحومة" (4) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7650 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: زیاد کے پاس خوارج کے سر لائے گئے، وہ جس سر کے پاس سے گزرتا، کہتا: یہ دوزخی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن یزید نے اس سے کہا: کیا تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نہیں سن رکھا اس امت کا عذاب ان کو ان کے اپنے ہاتھوں سے دنیا ہی میں دے دیا جاتا ہے ۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ تاہم امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے طلحہ بن یحیی کے واسطے سے ابوبردہ کے حوالے سے ابوموسیٰ کی یہ حدیث نقل کی ہے امتی امۃ مرحومہ میری امت وہ امت ہے جس پر رحم کیا گیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّوْبَةِ وَالْإِنَابَةِ/حدیث: 7842]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7843
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حَدَّثَنَا سعيد بن مسعود، حَدَّثَنَا عُبيد الله (1) بن موسى، أخبرنا شَيْبان بن عبد الرحمن، عن الأعمش، عن عبد الله بن عبد الله، عن سعد مولى طلحة، عن ابن عمر قال: لقد سمعتُ من فِي رسول الله ﷺ حديثًا لو لم أسمعه إلَّا مرةً أو مرتَين - حتَّى عَدَّ سبعًا - ولكنّي سمعتُه أكثرَ من ذلك؛ قال:"كان الكِفْلُ من بني إسرائيل لا يتوَرَّعُ عن ذنبٍ عَمِلَه، فأتَته امرأةٌ فأعطاها ستين دينارًا على أن يطأَها، فلما قعد منها مَقْعَدَ الرجلِ من امرأته، أُرعِدَتْ فبَكَتْ، فقال: ما يُبكيكِ؟ أكرَهتُكِ؟ قالت: لا، ولكن هذا عملٌ لم أعمله قطُّ، وإنما حَمَلَني عليه الحاجَةُ، قال: فتفعلين هذا ولم تفعليهِ قطُّ؟ قال: ثم نزل فقال: اذهبي والدنانيرُ لك. قال: ثم قال: واللهِ لا يَعصي الكِفلُ ربَّه أبدًا، فمات من ليلتِه وأصبَح مكتوبًا على بابه: قد غُفِرَ للكِفْلِ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7651 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے دو چار مرتبہ نہیں بلکہ سات سے بھی زیادہ بار سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل میں کفل نام کا ایک آدمی تھا، اس نے کبھی کوئی گناہ نہیں چھوڑا تھا۔ اس کے پاس ایک عورت آئی، اس نے اس کے ساتھ زنا کرنے کے لیے اس کو ساٹھ دینار دئیے، جب وہ اس عورت کے ساتھ زنا کرنے کے لے اس طرح بیٹھ گیا جیسے مرد بیٹھ کر عورت کے ساتھ ہمبستری کرتا ہے، اس وقت عورت کے جسم میں لرزہ طاری ہو گیا اور وہ رونے لگی، اس آدمی نے پوچھا تم رو کیوں رہی ہو؟ میں تیرے ساتھ یہ کام زبردستی تو نہیں کر رہا ہوں، اس نے کہا: یہ بات نہیں ہے، اصل بات یہ ہے کہ میں نے زندگی میں یہ گناہ کبھی نہیں کیا، اب ایک مجبوری کی وجہ سے میں یہ کام کروا رہی ہوں۔ اس نے کہا: تم نے اس سے پہلے کبھی یہ گناہ نہیں کیا اور اب مجبوری کی وجہ سے کروانے آئی ہو؟ یہ کہہ کر اس نے اس عورت کو چھوڑ دیا اور کہا: جا تو چلی جا، اور یہ دینار بھی لے جا۔ پھر اس نے کہا: اللہ کی قسم! آج کے بعد کفل کبھی اپنے رب کی نافرمانی نہیں کرے گا۔ اسی رات اس کا انتقال ہو گیا، صبح کے وقت اس کے دروازے پر لکھا ہوا تھا۔ کفل کو بخش دیا گیا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّوْبَةِ وَالْإِنَابَةِ/حدیث: 7843]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں