المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
29. اسْتِغْفَارُ أَعْرَابِيٍّ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - .
ایک اعرابی (دیہاتی) کا نبی کریم ﷺ سے اپنے لیے استغفار کی درخواست کرنا
حدیث نمبر: 7846
أخبرنا أبو جعفر عبد الله بن إبراهيم القرشي ببغداد، حَدَّثَنَا موسى بن الحسن بن عبَّاد، حَدَّثَنَا محمد بن مصعب القَرْقَساني، حَدَّثَنَا سلَّام بن مِسكين والمبارك بن فَضَالة، عن الحسن عن الأسود بن سَريع قال: أُتِيَ النَّبِيُّ ﷺ بأعرابيٍّ أَسيرٍ، فقال: أتوبُ إلى الله ﷿ ولا أتوبُ إلى محمد، فقال رسول الله ﷺ:"عَرَفَ الحقَّ لأهلِه" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7654 - ابن مصعب ضعيف
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7654 - ابن مصعب ضعيف
سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ایک دیہاتی قیدی لایا گیا، اس نے کہا: میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں، لیکن میں محمد کی بارگاہ میں توبہ نہیں کرتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے حق والے کا حق پہچان لیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّوْبَةِ وَالْإِنَابَةِ/حدیث: 7846]
حدیث نمبر: 7847
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا العباس بن الوليد بن مَزْيَد البَيروتي، حَدَّثَنَا محمد بن شعيب بن شابُور، حَدَّثَنَا محمد بن [أبي] مسلم [عن أبيه] (3) عن عطاء بن أبي رباح، عن أبي هريرة: أن فتًى من أبناء المهاجرين أتى رسولَ الله ﷺ، فقال: يا رسولَ الله، استغفِرْ لي، فتشاغلَ عنه رسولُ الله ﷺ، فردَّدَ ذلك على رسول الله ﷺ ثلاثَ مرّات، فلما رأى أنَّ رسول الله ﷺ لا يَستغفرُ له، قال الفتى بينَ يدي رسولِ الله ﷺ ثلاث مرّات: اللهمَّ اغْفِرْ لي، اللهمَّ اغْفِرْ لي، اللهمَّ اغْفِرْ لي، فإنَّ رسولَكَ لم يَستغفِرْ لي، فلما انصرفَ الفتى نزلَ جبريل ﵇ إلى رسول الله ﷺ، فقال: يا رسولَ الله، هلَّا استغفرتَ للفتى، فإنَّ الله قد غَفَرَ له، فالحَقْه حتَّى تُعلِمَه أنَّ الله قد غَفَرَ له، وقُل له يَستغفِرْ لك، فأحضرَ رسولُ الله ﷺ في أَثَره حتَّى لَحِقَه، فلمَّا لحِقَه قال:"يا فتى، إنَّ الله ﷿ قد غَفَرَ لك، فاستغفِرْ لي" فقال الفتى: اللهم أستغفِرُكَ لرسولِك، اللهمَّ إني أستغفرُك لرسولِك ونبيِّك كما غفرتَ لي، إنَّك واسعُ المغفرة، وأنت أرحمُ الراحمين (1) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مہاجرین میں سے ایک نوجوان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، میرے لیے مغفرت کی دعا فرما دیجیے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کام میں مصروف رہے۔ اس نوجوان نے تین مرتبہ یہ عرض کی، لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کام میں بہت ہی مصروف تھے اس لیے دعا نہ فرما سکے۔ جب اس نوجوان نے دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم توجہ نہیں فرما رہے تو وہ نوجوان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہوا اور کہنے لگا: اے اللہ! میری مغفرت فرما، اے اللہ! میری مغفرت فرما، اے اللہ! میری مغفرت فرما، کیونکہ تیرے رسول نے میرے لیے مغفرت کی دعا نہیں کی۔ جب وہ نوجوان چلا گیا تو سیدنا جبریل امین علیہ السلام تشریف لائے اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے اس نوجوان کے لیے مغفرت کی دعا کیوں نہیں فرمائی؟ اللہ تعالیٰ نے اس کی مغفرت فرما دی ہے۔ آپ اس کے پاس جائیے اور اس کو بتائیے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی مغفرت فرما دی ہے اور اس سے یہ بھی کہیے کہ وہ آپ کے لیے مغفرت کی دعا کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پیچھے پیچھے چلتے ہوئے اس کے پاس پہنچے، اور اس سے فرمایا: اے نوجوان! اللہ تعالیٰ نے تیری مغفرت فرما دی ہے، تو میرے لیے بھی مغفرت کی دعا کر۔ اس نوجوان نے کہا: اے اللہ! جیسے تو نے میری مغفرت کی ہے اسی طرح میں تیری بارگاہ میں تیرے رسول اور تیرے نبی کے لیے مغفرت مانگتا ہوں۔ اے اللہ بے شک تو وسیع مغفرت والا ہے اور تو ہر رحم کرنے والے سے بڑا رحم کرنے والا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّوْبَةِ وَالْإِنَابَةِ/حدیث: 7847]