🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

13. النَّهْيُ عَنْ مَجْلِسَيْنِ وَمَلْبَسَيْنِ .
دو طرح کی مجلسوں اور دو طرح کے لباس کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7907
أخبرنا أبو العباس القاسم بن القاسم السَّيَّاري بمَرُو، حَدَّثَنَا عبد العزيز بن حاتم، حَدَّثَنَا علي بن الحسن بن شَقيق، حَدَّثَنَا أبو تُمَيلة، حدثني أبو المُنِيب عُبيد الله (2) بن عبد الله العَتَكي، حدثني عبدُ الله بن بُرَيدة، عن أبيه قال: نَهَى رسولُ الله ﷺ عن مَجلِسَينِ ومَلْبَسَينِ، فأما المَجلِسانِ: فجلوسٌ بين الظلِّ والشمس، والمجلِسُ الآخرُ أَن تَحتبِيَ في ثوبٍ يُفضِي إلى عورتِك. والمَلْبسان: أحدُهما أن تصلِّيَ في ثوب ولا تَوشَّحَ به، والآخرُ أَن تُصلِّيَ فِي سَراوِيلَ ليس عليك رِداءٌ (3) .
سیدنا عبداللہ بن بریدہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح بیٹھنے اور دو طرح کے لباس سے منع فرمایا ہے، جہاں تک دو طرح بیٹھنے کا تعلق ہے: (ایک) سائے اور دھوپ کے درمیان بیٹھنا، اور دوسرا اس طرح «تَحْتَبِيَ» (گھٹنوں کو پیٹ سے لگا کر ہاتھوں یا کپڑے سے باندھ کر) بیٹھنا کہ ستر کھلنے کا خدشہ ہو، اور دو طرح کے لباس یہ ہیں: ایک یہ کہ تم ایک کپڑے میں نماز پڑھو اور اس کا «تَوَشُّحَ» (ایک سرے کو دوسرے کندھے پر ڈالنا) نہ کرو، اور دوسرا یہ کہ تم صرف شلوار میں نماز پڑھو جبکہ تمہارے اوپر کوئی چادر (رداء) نہ ہو۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَدَبِ/حدیث: 7907]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن في المتابعات والشواهد من أجل أبي المُنيب العتكي» [ترقيم الرساله 7907] [ترقيم الشركة 7813]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7908
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا العباس بن محمد الدُوري، حَدَّثَنَا عثمان بن عمر، حَدَّثَنَا إسرائيل، عن مَيْسَرةَ بن حَبيب، عن المِنْهال بن عمرو، عن عائشة بنت طلحة، عن عائشة أمِّ المؤمنين قالت ما رأيتُ أحدًا أشبهَ سَمْتًا ودَلًّا وهَديًا برسولِ الله ﷺ في قيامِها وقعودِها من فاطمة بنتِ رسول الله ﷺ. قالت: وكانت إذا دخلَتْ على النَّبِيِّ ﷺ، قامَ إليها فقبَّلها وأجلسَها في مَجلِسِه، وكان النبيُّ ﷺ إذا دخلَ عليها قامَتْ من مَجلِسِها، فقبَّلَتْه وأجلسَتْه في مَجْلِسِها، فلمَّا مَرِضَ النبيُّ ﷺ دخلَتْ فاطمةُ فأكبَّتْ عليه فقبَّلَته، ثم رفعت رأسَها [فبكَتْ، ثم أكبَّتْ عليه ورفعت رأسَها] (1) فضَحِكَت. فقلتُ: إني كنتُ أظنُّ أنَّ هذه من أعقلِ نسائِنا، فإذا هي من النِّساء، فلمَّا توفي النَّبِيّ ﷺ قلتُ لها: رأيتُكِ حين أكببتِ على النَّبِيِّ فرفعتِ رأسَك فبكيتِ، ثم أكببتِ عليه فرفعتِ رأسَك فضحكتِ، ما حَمَلَكِ على ذلك؟ قالت: إِنِّي إِذًا لَبَذِرَةٌ، أخبرني أنه ميِّتٌ من وجعِه هذا فبكيتُ، ثم أخبرني أنِّي أسرعُ أهل بيتِه لُحوقًا به، فذاك حين ضحكتُ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما اتفقا على حديث الشَّعْبي عن مسروق عن عائشة ﵂ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7715 - على شرط البخاري ومسلم
عائشہ بنت طلحہ سیدہ عائشہ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں، انہوں نے فرمایا: میں نے اٹھنے بیٹھنے، عادات و اطوار، طرزِ زندگی اور سیرت و کردار میں فاطمہ بنت رسول اللہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر کسی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ نہیں دیکھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لاتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے کھڑے ہو جاتے، ان کا بوسہ لیتے اور انہیں اپنی جگہ پر بٹھاتے، اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے جاتے تو وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہو جاتیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بوسہ لیتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی جگہ پر بٹھاتیں۔ پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا حاضر ہوئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھک کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بوسہ لیا، پھر انہوں نے اپنا سر اٹھایا تو وہ رونے لگیں، پھر دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھکیں اور سر اٹھایا تو وہ ہنسنے لگیں۔ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں) میں نے (دل میں) کہا: میں تو سمجھتی تھی کہ یہ ہماری عورتوں میں سب سے زیادہ سمجھدار ہیں، مگر یہ بھی عورتوں جیسی ہی (جذباتی) نکلیں۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو میں نے ان سے پوچھا: میں نے دیکھا تھا کہ جب آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھکیں اور سر اٹھایا تو آپ روئیں، پھر دوبارہ جھکیں اور سر اٹھایا تو آپ ہنس دیں، آپ کو اس پر کس چیز نے آمادہ کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: تب تو میں (راز) فاش کرنے والی ٹھہرتی؛ (بات یہ تھی کہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بتایا کہ وہ اپنی اسی بیماری میں رحلت فرما جائیں گے تو میں (یہ سن کر) رونے لگی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بتایا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ میں سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملوں گی، تو اس وقت میں (خوشی سے) ہنس پڑی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا، ان دونوں نے صرف مسروق کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی شعبی والی حدیث پر اتفاق کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَدَبِ/حدیث: 7908]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 7908] [ترقيم الشركة 7814] [ترقيم العلميه 7715]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں