🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

22. جَوَازُ دُعَاءِ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ بِاسْمِهَا
مرد کا اپنی بیوی کو اس کے نام سے پکارنے کا جواز
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7930
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أحمد بن محمد بن نصر، حدثنا أبو نُعيم وأبو غسّان قالا: حدثنا فِطْر بن خَليفة، حدثني مُنذر الثَّوري قال: سمعتُ محمد ابن الحنفية يقول: سمعتُ أبي يقول: قلتُ: يا رسول الله، أرأيت إن وُلِدَ لي بعدَك ولد، أُسمِّيه باسمِك، وأُكنِّيه بكُنيتِك؟ قال:"نَعَمْ". قال عليٌّ: فكانت هذه رُخصةً لي (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. ولعلَّ متوهِّمًا يتوهَّم أنَّ الشيخين لم يُخرجا عن فِطر، وليس كذلك، فإنهما قد قَرَنا بينه وبين آخر في إسناد واحد. قد ذكر بعضُ أئمتنا في هذا الموضع بابًا كبيرًا في إباحة دعاء الرجل امرأتَه باسمها خلاف قول العامة: إنه غير جائز. وأورد فيه أخبارًا كثيرة في قول النبي ﷺ:"يا عائشة" و يا عائشُ" و"يا أمَّ سَلَمة"، وتركتُها (1) لاتفاقِهما على أكثرها.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7737 - على شرط البخاري ومسلم
محمد بن حنفیہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں (وہ فرماتے ہیں کہ) میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کا کیا خیال ہے؟ اگر آپ کے بعد میرے ہاں بچہ پیدا ہو، میں آپ کے نام پر اس کا نام، اور آپ کی کنیت پر اس کی کنیت رکھ سکتا ہوں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ رخصت فقط میرے لیے تھی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ شاید کہ کسی کو یہ وہم ہو کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے فطر کی روایات نقل نہیں کی۔ یہ وہم درست نہیں ہے۔ کیونکہ شیخین نے ایک اسناد میں ان دونوں کو جمع کیا ہے۔ ہمارے بعض ائمہ نے اس مقام پر اپنی بیوی کو اس کا نام لے کر پکارنے کے جواز میں ایک باب ذکر کیا ہے اور اس باب میں بہت ساری وہ احادیث ذکر کی ہیں جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یا عائشہ کہہ کر پکارا ہے۔ جبکہ عام لوگوں کا قول ہے کہ بیوی کو اس کا نام لے کر نہیں پکارنا چاہیے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَدَبِ/حدیث: 7930]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں