🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

22. جَوَازُ دُعَاءِ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ بِاسْمِهَا
مرد کا اپنی بیوی کو اس کے نام سے پکارنے کا جواز
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7931
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نصر بن سابق الخَوْلاني، حدثنا عبد الله بن وَهْب، حدثنا يحيى بن عبد الله بن سالم وسعيد بن عبد الرحمن، عن هشام بن عُرْوة، عن عبَّاد بن حمزة، عن عائشة أنها قالت: يا رسولَ الله، ألا تُكنيني؟ قال:"اكتَني بابنكِ عبد الله بن الزُّبير". فكانت تُكْنَى أُمّ عبد الله (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7738 - صحيح
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میری کوئی کنیت نہیں ہوگی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے (بھانجے) عبداللہ بن زبیر کے نام پر اپنی کنیت رکھ لو، چنانچہ ان کی کنیت ام عبداللہ پڑ گئی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَدَبِ/حدیث: 7931]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكن اختلف فيه على هشام بن عروة، فرواه عنه جمع كرواية المصنف، وهو ما رجّحه الدارقطني في "العلل" (3821)، ورواه جمع آخر أقلُّ عددًا عنه عن عروة بن الزبير عن عائشة» [ترقيم الرساله 7931] [ترقيم الشركة 7837] [ترقيم العلميه 7738]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں