🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

23. خَيْرُكُمْ مَنْ أَطْعَمَ الطَّعَامَ
تم میں سے بہترین وہ ہے جو کھانا کھلائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7931
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نصر بن سابق الخَوْلاني، حدثنا عبد الله بن وَهْب، حدثنا يحيى بن عبد الله بن سالم وسعيد بن عبد الرحمن، عن هشام بن عُرْوة، عن عبَّاد بن حمزة، عن عائشة أنها قالت: يا رسولَ الله، ألا تُكنيني؟ قال:"اكتَني بابنكِ عبد الله بن الزُّبير". فكانت تُكْنَى أُمّ عبد الله (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7738 - صحيح
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ میری کنیت کیوں نہیں رکھتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے بیٹے عبداللہ بن زبیر کے نام سے کنیت رکھ لو، چنانچہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنی کنیت ام عبداللہ رکھوائی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَدَبِ/حدیث: 7931]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7932
أخبرنا عبد الرحمن بن حَمْدان الجلاب بهمذان، حدثنا هلال بن العلاء الرَّقي، حدثنا أبي، حدثنا عُبيد الله بن عمرو، عن عبد الله بن محمد بن عَقيل، عن حمزة بن صُهيب، عن أبيه، عن عمر بن الخطّاب: أنه قال لصُهيب: إِنَّكَ لَرجلٌ لولا خِصالٌ ثلاثة، قال: وما هنَّ؟ قال: اكتَنيتَ وليس لك ولدٌ، وانتَميتَ إلى العرب وأنت رجلٌ من الرُّوم، وفيك سَرَفٌ في الطَّعام، قال: يا أميرَ المؤمنين، أما قولُك: اكتنيتَ وليس لك ولدٌ، فإنَّ رسولَ الله ﷺ كنَّاني أبا يحيى، وأما قولُك: انتميتَ إلى العرب، فإنِّي رجلٌ من النَّمِر بن قاسِطٍ استُبِيتُ من المَوْصل بعد أن كنتُ غلامًا قد عرفتُ أهلي ونَسَبي، وأما قولُك: فيك سَرَفٌ في الطعام، فإنِّي سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"إِنَّ خيرَكم مَن أطعمَ الطَّعامَ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7739 - صحيح
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے سیدنا صہیب رومی سے فرمایا: اگر تمہارے اندر تین عادتیں نہ ہوں تو تم بہت اچھے آدمی ہو، سیدنا صہیب نے پوچھا: وہ کون سی عادتیں ہیں؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ٭ تم نے کنیت رکھی ہوئی ہے جبکہ تیری تو کوئی اولاد نہیں ہے۔ ٭ تم اپنے آپ کو عربی کہلاتے ہو جبکہ تم روم کے باشندے ہو۔ ٭ اور تم کھانے میں اسراف کرتے ہو۔ سیدنا صہیب نے کہا: اے امیرالمومنین! آپ نے فرمایا ہے کہ میں نے کنیت رکھی ہوئی ہے اور میری کوئی اولاد نہیں ہے اس کا جواب یہ ہے کہ میری کنیت ابویحیی خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھی تھی۔ آپ نے فرمایا کہ میں رومی ہوں اور عربی کیوں کہلاتا ہوں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ میرا تعلق نمر بن قاسط سے ہے، موصل سے مجھے قید کر لیا گیا تھا، اس وقت میں بچہ تھا، لیکن میں اپنے خاندان اور نسب کو پہچانتا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ میں طعام میں اسراف کرتا ہوں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو کھانا کھلائے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَدَبِ/حدیث: 7932]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7933
حدثنا مُكرَم بن أحمد القاضي ببغداد، حدثنا يحيى بن جعفر بن الزِّبْرقان، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، حدثنا أبو المِنْهال عبد الرحمن بن معاوية البَكْراوي، عن عبد العزيز بن أبي بَكْرة، عن أبيه قال: لمّا حاصر النبي ﷺ الطائف، تدلّيتُ ببكرة، قال: كيف صنعت؟ قلتُ: تدلَّيتُ ببَكْرة، فقال:"أنت أبو بَكْرة" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7740 - صحيح
عبدالعزیز بن ابی بکرہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا محاصرہ کیا تو میں صبح سویرے (طائف کے قلعہ سے اتر کر) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ تم نے کیا کیا؟ میں نے کہا: میں صبح سویرے قلعہ سے نکل آیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ابوبکرہ ہو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَدَبِ/حدیث: 7933]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7934
أخبرني محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغِفاري، حدثنا أبو غسّان، حدثنا قيس بن الربيع، عن المِقْدام بن شُريح، عن أبيه [عن جده] (1) قال: قال لي رسول الله ﷺ:"أيُّ ولدِك أكبرُ؟" قلتُ: شُريح، قال:"فأنت أبو شُرَيح" (2) . تفرَّد به قيس عن المِقدام (3) ، وأنا ذاكرٌ بعده حديثًا تفرَّد به مُجالِد بن سعيد، وليسا من شرط هذا الكتاب:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7741 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
مقدام بن شریح اپنے والد سے، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تیرا کونسا بیٹا بڑا ہے؟ میں نے بتایا: شریح۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو ابوشریح ہے۔ ٭٭ اس حدیث کو مقدام سے روایت کرنے میں قیس منفرد ہیں۔ اور میں اس کے بعد وہ حدیث بیان کر رہا ہوں جس کو روایت کرنے میں مجالد بن سعید منفرد ہیں۔ اور یہ دونوں ہی ہماری اس کتاب کے معیار کے راوی نہیں ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَدَبِ/حدیث: 7934]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7935
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عَفّان العامري، حدثنا أبو أسامة، عن مُجالِد، عن عامر، عن مسروق قال: [قدمتُ على عمرَ، فقال: ما اسمُك؟ قلت: مسروقٌ، قال] (4) : ابن مَنْ؟ قلتُ: ابن الأجدَع، قال: أنت مسروق بن عبد الرحمن، حدَّثَنا رسولُ الله ﷺ: أَنَّ الأجدعَ شيطانٌ. قال: وكان اسمُه في الديوان مسروقَ بنَ عبد الرحمن (5) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7742 - قيس ومجالد ليسا من شروط كتابنا
مسروق کہتے ہیں: میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے میرا نام پوچھا، میں نے کہا: میرا نام مسروق ہے۔ آپ نے پوچھا: کس کا بیٹا ہے؟ میں نے بتایا: ابن الاجدع کا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو مسروق بن عبدالرحمن ہے۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا ہے کہ اجدع شیطان ہے۔ راوی کہتے ہیں: حکومتی معاملات میں ان کا نام مسروق بن عبدالرحمن تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَدَبِ/حدیث: 7935]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں