المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
37. النَّهْيُ عَنْ مُبَاشَرَةِ الرَّجُلِ الرَّجُلَ وَالْمَرْأَةِ الْمَرْأَةَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ .
ایک ہی کپڑے میں دو مردوں یا دو عورتوں کے ایک ساتھ لیٹنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 7967
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني أبو هانئ عن عمرو بن مالك الجَنْبي، عن فَضَالة بن عُبيد، عن عُبَادة بن الصامت: أنَّ رسول الله ﷺ خرجَ ذاتَ يوم على راحلته وأصحابُه معه بين يديه، فقال معاذُ بن جَبَل: يا نبيَّ الله، ائذَنْ لي في أن أتقدَّمَ إليك على طِيبةِ نفس، قال:"نعم"، فاقتربَ معاذٌ إليه، فسارا جميعًا، فقال معاذ: بأبي أنت يا رسولَ الله، أسألُ الله أن يجعل يومَنا قبلَ يومِك، أرأيتَ إن كان شيءٌ ولا نَرَى شيئًا إن شاء الله تعالى، فأيُّ الأعمال نعملُها بعدَك؟ فصمتَ رسولُ الله ﷺ فقال:"الجهادُ في سبيل الله"، ثم قال رسول الله ﷺ:"نِعمَ الشيءُ الجهادُ، والذي (2) بالناس أملَكُ من ذلك" [قال] (3) : فالصيامُ والصَّدقةُ؟ قال:"نِعمَ الشيءُ الصيامُ والصَّدقةُ". فذكر معاذٌ كلَّ خير يعمله ابن آدم، كلَّ ذلك رسولُ الله ﷺ [يقول] :"وعادُ بالنَّاسِ خيرٌ من ذلك" قال: فماذا بأبي أنت وأُمِّي عادُ بالناس [خيرٌ] من ذلك؟ قال: فأشار رسولُ الله ﷺ إلى فيه، قال:"الصَّمْتُ إِلَّا من خَيرٍ" قال: وهل نؤاخَذُ بما تكلَّمَتْ به ألسنتُنا؟ قال: فضربَ رسولُ الله ﷺ فَخِذَ معاذ، ثم قال:"يا معاذُ، ثَكِلتْكَ أُمُّك - أو ما شاء الله أن يقول له من ذلك. وهل يَكُبُّ الناس على مَناخِرِهم في جَهَنَّمَ إِلَّا ما نطقَتْ به ألسنتُهم؟! فمن كان يُؤْمِنُ بالله واليوم الآخر فليَقُلْ خيرًا أو لِيسكُتْ عن شرٍّ، قُولُوا خيرًا تَغنَمُوا، واسكتُوا عن شرٍّ تَسلَمُوا" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، والغرضُ في إخراجه في هذا الموضع إباحةُ دعاء المُتعلِّم لعالمه الذي يَقتبِسُ منه أن يجعل الله مَنِيّتَه قبل عالِمِه، فإني قدّمتُ قبل هذا أخبارًا صحيحة في إباحة قول الناس: جعلَني الله فِداك (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7774 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، والغرضُ في إخراجه في هذا الموضع إباحةُ دعاء المُتعلِّم لعالمه الذي يَقتبِسُ منه أن يجعل الله مَنِيّتَه قبل عالِمِه، فإني قدّمتُ قبل هذا أخبارًا صحيحة في إباحة قول الناس: جعلَني الله فِداك (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7774 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہو کر اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہمراہ باہر نکلے، سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ دل کی خوشی سے مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں آپ کے قریب آ جاؤں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ سیدنا معاذ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آ گئے، پورا راستہ سیدنا معاذ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ چلے، اس دوران سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں، کاش اللہ تعالیٰ ہمارا (وفات کا) دن آپ کے (وفات کے) دن سے پہلے کر دے (یعنی کاش ایسا ہو جائے کہ آپ سے پہلے ہمیں وفات ملے)۔ یا رسول اللہ کچھ چیزیں ایسی ہیں جو آپ دیکھ رہے ہیں اور وہ ہماری نگاہوں سے اوجھل ہیں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ کے بعد کیا عمل کریں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر خاموش رہے، (سیدنا معاذ نے) عرض کی: جہاد فی سبیل اللہ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاد بہت اچھی چیز ہے، لیکن لوگوں کو جس چیز کی زیادہ ضرورت ہے وہ اس سے بھی اہم ہے (سیدنا معاذ نے کہا:) روزہ اور صدقہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روزہ اور صدقہ بھی بہت اچھی چیز ہے۔ اس کے بعد سیدنا معاذ نے ان تمام نیک اعمال کا ذکر کیا جو انسان کرتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے بھی اچھی چیز کی لوگوں کی عادت بناؤ۔ سیدنا معاذ نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان تمام چیزوں سے بھی اہم چیز کون سی ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے منہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: خاموشی بہتر ہے، ہاں بولنا ہو تو اچھی بات بولو، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری زبانیں جو کچھ بولتی ہیں، کیا اس پر ہمارا مواخذہ ہو گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ کی ران پر ہاتھ مارا اور فرمایا: اے معاذ تیری ماں تجھے روئے، یا (شاید اس موقع پر ان کے لیے کوئی اور الفاظ بولے پھر فرمایا) لوگوں کو اوندھے منہ دوزخ میں جو ڈالا جائے گا، وہ ان کی زبانوں کی گفتگو کی وجہ سے ہو گا۔ اس لیے جو شخص اللہ تعالیٰ پر اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کو چاہیے کہ اچھی بات کرے اور بری بات سے خاموشی اختیار کرے، اچھی بات کہو، تم فائدے میں رہو گے، اور بری بات سے خاموش رہو، تم شر سے بچے رہو گے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس حدیث کو اس مقام پر درج کرنے کی وجہ یہ ثابت کرنا ہے کہ اگر طالب علم یہ دعا مانگے کہ اللہ تعالیٰ میرے استاد سے پہلے مجھے وفات عطا کرے تو یہ جائز ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَدَبِ/حدیث: 7967]
حدیث نمبر: 7968
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّري بن خُزيمة، حدثنا سليمان بن داود الهاشمي، حدثنا عبد الرحمن بن أبي الزِّناد، عن موسى بن عُقبة، عن أبي الزُّبير عن جابر قال: سمعت رسول الله ﷺ يَنهَى أن يُباشِرَ الرجلُ الرجلَ في ثوب واحد، والمرأةُ المرأةَ في ثوب واحد (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7775 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7775 - على شرط مسلم
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ ایک مرد دوسرے مرد کے ساتھ ایک بستر میں برہنہ لیٹے، اور ایک عورت دوسری عورت کے ساتھ ایک بستر میں برہنہ لیٹے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَدَبِ/حدیث: 7968]
حدیث نمبر: 7969
أخبرناه أحمد بن يعقوب الثقفي، حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي، حدثنا أحمد بن يونس، حدثنا أبو شهاب، عن ابن أبي ليلى، عن أبي الزبير عن جابر قال: نَهَى رسول الله ﷺ أن تُباشِرَ المرأة المرأةَ، والرجلُ الرجلَ (1) . قال ابن أبي ليلى: وأنا أرى فيه التَّعزير. محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى من أجلِّ بيت الصحابة من الأنصار ومُفتي وقته بالكوفة، إذا رأى فيه التعزير ففيه قدوة.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو عورت کے ساتھ اور مرد کو مرد کے ساتھ ایک بستر میں برہنہ لیٹنے سے منع فرمایا۔ ابن لیلی فرماتے ہیں ” میرا خیال ہے کہ اس میں تعزیر ہے“۔ (یعنی اگر کوئی شخص اس عمل میں مبتلا پایا جائے تو اس کو تعزیراً سزا دینی چاہیے) اور محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلی بزرگ انصاری صحابہ میں سے ہیں، کوفہ کے فقیہ اور مفتی ہیں۔ اگر انہوں نے اس میں تعزیر سمجھی ہے تو ان کے اس قول کی پیروی کرنی چاہیے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَدَبِ/حدیث: 7969]