🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ
گناہ کے کام میں نذر نہیں ہوتی اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8035
أخبرنا أبو يحيى ابن المقرئ الإمام بمكة، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا مسلم بن إبراهيم وحجَّاج بن مِنْهال، قالا: حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن حبيب المُعلِّم، عن عطاء، عن جابر: أنَّ رجلًا نَذَرَ أن يُصلِّيَ في بيت المَقدِس، فسأل عن ذلك رسولَ الله ﷺ، فقال له رسول الله ﷺ:"صلِّ هاهنا" يعني في المسجد الحرام، فقال: يا رسولَ الله، إنما نذرتُ أن أُصلِّيَ في بيت المقدس! فقال:"صلِّ هاهنا" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7839 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے بیت المقدس میں نماز پڑھنے کی نذر مانی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یہاں پر یعنی مسجد الحرام میں نماز پڑھ لو، اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے تو بیت المقدس میں نماز پڑھنے کی نذر مانی ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: تم یہیں نماز پڑھ لو۔ (تمہاری نذر اسی سے ادا ہو جائے گی) ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النُّذُورِ/حدیث: 8035]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8036
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد، حدثنا أحمد بن محمد ابن عيسى القاضي، حدثنا أبو نُعيم وأبو حذيفة، قالا: حدثنا سفيان، عن محمد بن الزُّبير، عن الحسن، عن عمران بن حُصين قال: قال رسول الله ﷺ:"لا نذرَ في غضبٍ، وكفَّارتُه كفارة يمين" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7840 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: گناہ کی مانی ہوئی نذر، شرعی نذر نہیں ہے۔ اور نذر کا کفارہ، قسم والا ہی کفارہ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النُّذُورِ/حدیث: 8036]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8037
أخبرَناه الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا محمد بن الزُّبير الحَنظَلي، عن أبيه، عن رجل، عن عِمران بن حُصَين، أنَّ النبي ﷺ قال:"لا نذرَ في غضبٍ، وكفَّارتُه كفَّارة يمين" (2) .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: گناہ میں نذر نہیں ہے، اور اس کا کفارہ قسم والا ہے۔ ٭٭ معمر نے یحیی بن کثیر سے یہ حدیث روایت کی ہے۔ لیکن وہ معضل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النُّذُورِ/حدیث: 8037]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8038
حدَّثَناه عبد الله بن إسحاق الخُراساني، حدثنا إبراهيم بن الهيثم البَلَدي، حدثنا محمد بن كَثير الحِمصي، حدثنا الأوزاعي، حدثني يحيى، عن محمد بن الزُّبير الحنظلي، عن أبيه، عن عِمران بن حُصين، أنَّ النبي ﷺ قال:"لا نذرَ في غضب، وكفّارتُه كفارةُ يمين" (1) . وقد أعضَلَه مَعمرٌ عن يحيى بن أبي كثير:
8038 - عمران بن حصین (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "غصے کی حالت میں مانی گئی نذر کا کوئی اعتبار نہیں، اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے"۔ معمر نے یحییٰ بن ابی کثیر کے واسطے سے اس حدیث کو 'معضل' (سند میں سے مسلسل دو راویوں کا گر جانا) کر دیا ہے: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النُّذُورِ/حدیث: 8038]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8039
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، حدثنا الحسن بن علي بن زياد، حدثنا إبراهيم بن موسى، حدثنا هشام بن يوسف، عن مَعمَر، عن يحيى بن أبي كثير قال: حدثني رجلٌ من بني حَنيفة، عن عِمران بن حُصَين (1) ، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"لا نذرَ في مَعصِيَةٍ" (2) . الرجل الذي لم يُسمِّه معمرٌ عن يحيى هو محمد بن الزُّبير بلا شكٍّ، فإنه أراد أن يقول: من بني حنظلة، فقال: من بني حنيفة، فأما قولُه ﷺ:"لا نذرَ في معصية" فقد اتَّفق عليه الشيخان (3) ، ومدار الحديث الآخر على محمد بن الزُّبير الحنظلي، وليس يصحُّ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: معصیت میں کوئی نذر نہیں ہے۔ ٭٭ معمر نے یحیی سے روایت کرتے ہوئے، جس راوی کا نام نہیں لیا تھا وہ محمد بن زبیر ہیں، اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ وہ بنی حنظلہ کہنا چاہتے تھے، لیکن بنی حنیفہ کہہ دیا۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول کہ لا نذر فی معصیۃ اس کو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے بھی ذکر کیا ہے اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے بھی ذکر کیا ہے۔ دوسری حدیث کا مدار محمد بن زبیر حنظلی پر ہے، لیکن وہ صحیح نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النُّذُورِ/حدیث: 8039]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں