المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
6. الْأَمْرَاضُ كَفَّارَاتٌ
بیماریاں (گناہوں کا) کفارہ بن جاتی ہیں
حدیث نمبر: 8051
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى بن سعيد عن سعد (1) بن إسحاق بن كعب بن عُجْرة، عن زينب بنت كعب، عن أبي سعيد الخُدْري قال: قال رجلٌ: يا رسولَ الله [أرأيتَ هذه الأمراض التي تُصيبُنا، ماذا لنا بها؟ قال:"كفَّاراتٌ"، فقال أبي بن كعب: يا رسولَ الله] (2) وإِن قَلَّتْ؟ قال:"شَوكةٌ فما فوقَها". قال: فدعا أبيٌّ على نفسه أن لا يُفارِقَه الوعكُ حتى يموت بعد أن لا يشغلُه عن حجٍّ ولا عُمرة، ولا جهاد في سبيل الله ﷿، ولا صلاةٍ مكتوبة في جماعة، قال: فما مسَّ رجلٌ جلدَه بعدها إلَّا وجدَ حرَّها حتى مات (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7854 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7854 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! ان بیماریوں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے جو ہمیں لاحق ہوتی ہیں، ان کے بدلے ہمیں کیا ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ گناہوں کا کفارہ ہیں۔“ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا اگرچہ وہ تھوڑی ہی کیوں نہ ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خواہ کانٹا چبھنا ہو یا اس سے بڑھ کر۔“ (یہ سن کر) سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے اپنے حق میں یہ دعا مانگی کہ انہیں موت تک بخار نہ چھوڑے بشرطیکہ وہ بخار انہیں حج، عمرہ، جہاد فی سبیل اللہ اور باجماعت فرض نماز سے نہ روکے، چنانچہ اس کے بعد (بخار کی شدت کی وجہ سے) جب بھی کوئی شخص ان کے بدن کو چھوتا تو اس کی تپش محسوس کرتا تھا، یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرِّقَاقِ/حدیث: 8051]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرِّقَاقِ/حدیث: 8051]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل زينب بنت كعب، فقد روى عنها اثنان وذكرها ابن حبان في "الثقات"، وهي زوجة أبي سعيد صحابي الحديث، كما أن سعد بن إسحاق الراوي عنها هو ابن أخيها» [ترقيم الرساله 8051] [ترقيم الشركة 7953] [ترقيم العلميه 7854]
الحكم على الحديث: إسناده حسن من أجل زينب بنت كعب