المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
7. إِذَا مَرِضَ الْمُؤْمِنُ يُكْتَبُ عَمَلُهُ حَتَّى يَبْرَأَ أَوْ يَمُوتَ
جب مومن بیمار ہوتا ہے تو اس کے (نیک) اعمال لکھے جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ صحت یاب ہو جائے یا وفات پا جائے
حدیث نمبر: 8051
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى بن سعيد عن سعد (1) بن إسحاق بن كعب بن عُجْرة، عن زينب بنت كعب، عن أبي سعيد الخُدْري قال: قال رجلٌ: يا رسولَ الله [أرأيتَ هذه الأمراض التي تُصيبُنا، ماذا لنا بها؟ قال:"كفَّاراتٌ"، فقال أبي بن كعب: يا رسولَ الله] (2) وإِن قَلَّتْ؟ قال:"شَوكةٌ فما فوقَها". قال: فدعا أبيٌّ على نفسه أن لا يُفارِقَه الوعكُ حتى يموت بعد أن لا يشغلُه عن حجٍّ ولا عُمرة، ولا جهاد في سبيل الله ﷿، ولا صلاةٍ مكتوبة في جماعة، قال: فما مسَّ رجلٌ جلدَه بعدها إلَّا وجدَ حرَّها حتى مات (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7854 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7854 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک آدمی نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، یہ بیماریاں جو ہمیں آتی ہیں، کیا ان میں ہمیں کوئی فائدہ بھی ہوتا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہارے گناہوں کا کفارہ ہیں۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگرچہ تکلیف تھوڑی سی ہو؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک کانٹا بھی کفارہ ہے بلکہ اس سے بھی ہلکی تکلیف آئے، وہ بھی کفارہ ہے۔ اس وقت سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے دعا مانگی کہ مرتے دم تک اس کی تکلیف ختم نہ ہو، لیکن ان کی وجہ سے میں حج، عمرہ نماز باجماعت اور جہاد فی سبیل اللہ سے محروم نہ ہو جاؤں۔ راوی کہتے ہیں: اس کے بعد جب بھی کسی نے آپ کے جسم کو ہاتھ لگایا، آپ کو بخار ہوتا تھا۔ وفات تک آپ کا یہی عالم رہا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرِّقَاقِ/حدیث: 8051]
حدیث نمبر: 8052
أخبرني الحسن بن حَلِيم (1) ، المروزي، أخبرنا أبو المُوجّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرني رِشْدين، عن عمرو بن الحارث، أخبرني يزيد بن أبي حَبيب، أنَّ أبا الخير حدَّثه، أنه سمع عُقبة بن عامر الجُهَني يُحدِّث عن النبيِّ ﷺ قال:"ليسَ من عمل يوم إلَّا وهو يُختَمُ عليه، فإذا مَرِضَ المؤمنُ قالت الملائكةُ: يا ربَّنا، عبدُك فلانٌ قد حَبَسته، فيقول الربُّ: اختِمُوا له على مثلِ عملِه حتى يَبْرأ أو يموتَ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7855 - رشدين واه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7855 - رشدين واه
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر دن کے عمل پر مہر کر دی جاتی ہے۔ جب بندہ مومن بیمار ہوتا ہے تو فرشتے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کرتے ہیں: اے ہمارے رب فلاں بندے کو تو نے (بیماری کی بناء پر نیک اعمال سے) روک رکھا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، جب تک یہ تندرست نہیں ہوتا یا اس کو موت نہیں آتی اس وقت تک تم اس کے نامہ اعمال میں وہ نیکیاں برابر لکھتے رہو، جو یہ صحت کے عالم میں کرتا تھا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرِّقَاقِ/حدیث: 8052]