🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

7. إِذَا مَرِضَ الْمُؤْمِنُ يُكْتَبُ عَمَلُهُ حَتَّى يَبْرَأَ أَوْ يَمُوتَ
جب مومن بیمار ہوتا ہے تو اس کے (نیک) اعمال لکھے جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ صحت یاب ہو جائے یا وفات پا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8052
أخبرني الحسن بن حَلِيم (1) ، المروزي، أخبرنا أبو المُوجّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرني رِشْدين، عن عمرو بن الحارث، أخبرني يزيد بن أبي حَبيب، أنَّ أبا الخير حدَّثه، أنه سمع عُقبة بن عامر الجُهَني يُحدِّث عن النبيِّ ﷺ قال:"ليسَ من عمل يوم إلَّا وهو يُختَمُ عليه، فإذا مَرِضَ المؤمنُ قالت الملائكةُ: يا ربَّنا، عبدُك فلانٌ قد حَبَسته، فيقول الربُّ: اختِمُوا له على مثلِ عملِه حتى يَبْرأ أو يموتَ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7855 - رشدين واه
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر دن کا عمل (شام کو) سربمہر کر دیا جاتا ہے، پس جب مومن بیمار ہوتا ہے تو فرشتے عرض کرتے ہیں: اے ہمارے رب! آپ نے اپنے فلاں بندے کو (بیماری کے ذریعے) روک لیا ہے، تو رب کریم فرماتا ہے: اس کے لیے ویسا ہی عمل لکھ کر مہر لگا دو جیسا وہ (تندرستی میں) کیا کرتا تھا یہاں تک کہ وہ صحت یاب ہو جائے یا وفات پا جائے۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرِّقَاقِ/حدیث: 8052]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل رشدين» [ترقيم الرساله 8052] [ترقيم الشركة 7954] [ترقيم العلميه 7855]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8053
أخبرنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني، حدثنا عبد الله بن ناجيَةَ، حدثنا عُبيد الله بن عمر، القَوَاريري، حدثنا عبدُ الصمد بن عبد الوارث، حدثنا عبد الواحد بن زيد، حدثني أسلم الكوفي، عن مُرَّة، الطيِّب عن زيد بن أرقَم قال: كُنَّا مع أبي بكر الصدِّيق فدَعَا بشراب، فأُتِيَ بماء وعَسَل، فلما أدْناه من فيهِ بكى وبكى حتى أبكى أصحابَه، فسكتوا وما سكتَ، ثم عاد فبكى حتى ظنُّوا أنهم لن يَقِدروا على مسألته، قال: ثم مَسَحَ عينيه، فقالوا: يا خليفةَ رسولِ الله ما أبكاكَ؟ قال: كنتُ مع رسولَ الله ﷺ فرأيتُه يَدفَعُ عن نفسه شيئًا، ولم أرَ معه أحدًا، فقلت: يا رسولَ الله، ما الذي تَدفَعُ عن نفسِك؟ قال:"هذه الدنيا مُثِّلتْ لي، فقلت لها: إليكِ عني، ثم رَجَعَتْ، فقالت: إن أفلَتَّ مني، فلن يَنفلِتَ منّي مَن بعدَك" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7856 - عبد الصمد تركه البخاري وغيره
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے کہ انہوں نے پینے کے لیے کچھ منگوایا، ان کی خدمت میں شہد ملا ہوا پانی پیش کیا گیا، جب انہوں نے اسے اپنے منہ کے قریب کیا تو وہ اس قدر روئے کہ اپنے ساتھیوں کو بھی رلا دیا، پھر سب خاموش ہو گئے مگر ان کا رونا بند نہ ہوا، وہ دوبارہ اس قدر روئے کہ ساتھیوں کو گمان ہوا کہ شاید اب وہ ان سے کچھ پوچھ نہ سکیں گے، پھر انہوں نے اپنی آنکھیں پونچھیں، لوگوں نے عرض کی: اے خلیفہ رسول! آپ کس بات پر روئے؟ انہوں نے فرمایا: میں (ایک مرتبہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا تو میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سامنے سے کسی چیز کو ہٹا رہے ہیں حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی دوسرا موجود نہ تھا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ اپنے آپ سے کس چیز کو دور فرما رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دنیا میرے سامنے ایک صورت بنا کر پیش کی گئی تھی تو میں نے اسے کہا: مجھ سے دور ہو جا، پھر وہ واپس پلٹی اور کہنے لگی: اگر آپ مجھ سے بچ نکلے ہیں تو آپ کے بعد آنے والے مجھ سے ہرگز نہیں بچ سکیں گے۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرِّقَاقِ/حدیث: 8053]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف من أجل عبد الواحد بن زيد: وهو أبو عبيدة البصري، وشيخه أسلم الكوفي مجهول؛ تفرَّد بالرواية عنه عبد الواحد بن زيد وقال البزار: ليس بالمعروف، كما قال الذهبي في "الميزان"» [ترقيم الرساله 8053] [ترقيم الشركة 7955] [ترقيم العلميه 7856]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف من أجل عبد الواحد بن زيد: وهو أبو عبيدة البصري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں