🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

18. ذِكْرُ ذَمَائِمِ الْعِبَادِ
بندوں کی ناپسندیدہ خصلتوں کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8083
حدثنا علي بن بُنْدار الزاهد، حدثني أبو بكر محمد بن سليمان بن يوسف السَّلِيطي، حدثنا علي بن سعيد النَّسَوي، حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثنا هاشم بن سعيد الكوفي، حدثنا زيد بن عبد الله الخَثعَمي، عن أسماء بنت عُميس الخَثْعمية قالت: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"بئسَ العبدُ عبدٌ تخيَّلَ واختال، ونَسِيَ الكبيرَ المُتعال، بئسَ العبدُ عبدٌ سَهَا ولَهَا، ونَسِيَ المَبدأَ والمُنتهى، بئسَ العبدُ عبدٌ بَغَى وعَتَا، ونَسِيَ المقابرَ والبِلَا، بئسَ العبدُ عبدٌ يَخيِلُ الدنيا بالدِّين، بئسَ العبدُ عبدٌ يَختِلُ الدِّينَ بالشُّبُهات، بئس العبدُ عبدٌ يَصُدُّه الرُّعبُ عن الحقّ، بئسَ العبدُ عبدٌ طَمَعُ يقودُه، بئس العبدُ عبدٌ هوًى يُضِلُّه" (1) .
هذا حديث (2) ليس في إسناده أحدٌ منسوبٌ إلى نوع من الجَرْح، وإذا كانوا هكذا فإنه صحيح، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7885 - إسناده مظلم
سیدہ اسماء بنت عمیس خثعمیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: برا ہے وہ بندہ جو محض خیالات میں کھویا رہے اور تکبر کرے، اور اس بڑائی والے کو بھول جائے جو سب سے بلند و بالا ہے، برا ہے وہ بندہ جو غافل رہے اور لہو و لعب میں مگن ہو جائے، اور اپنی ابتدا اور انتہا کو بھول جائے، برا ہے وہ بندہ جو ظلم و سرکشی کرے، اور قبروں اور (بدن کی) بوسیدگی کو بھول جائے، برا ہے وہ بندہ جو دین کے بدلے دنیا کا سودا کرے، برا ہے وہ بندہ جو شبہات کے ذریعے دین کو فریب دے، برا ہے وہ بندہ جسے (ناحق) رعب و خوف حق سے روک دے، برا ہے وہ بندہ جس کی باگ دوڑ اس کی حرص کے ہاتھ میں ہو، اور برا ہے وہ بندہ جسے اس کی خواہشِ نفس گمراہ کر دے۔
اس حدیث کی سند میں کوئی بھی راوی جرح کے ساتھ منسوب نہیں ہے، اور جب راوی ایسے ہوں تو یہ حدیث صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرِّقَاقِ/حدیث: 8083]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف بمرّة، هاشم بن سعيد الكوفي ضعيف، وزيد بن عبد الله الخثعمي» [ترقيم الرساله 8083] [ترقيم الشركة 7984] [ترقيم العلميه 7885]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف بمرّة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8084
حدثنا أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد وعلي بن حَمْشَاذَ العَدْل، قالا: حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا إسماعيل بن أبي أُوَيس، حدثني سليمان ابن بلال، عن يونس، عن ابن شِهاب، عن أبي حُميد (1) أنه سمع أبا هريرة يقول: قال رسول الله ﷺ:"لَتُنتَقُنَّ كما يُنتَقَى التمرُ من الجَفْنة، فَلَيَذهبنَّ خِيارُكم، ولَيَبقيَنَّ شراركم، فموتوا إن استطعتُم" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، وأبو حميد: هو الطَّاعِني (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7886 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں (فتنوں کے ذریعے) اسی طرح منتخب کر کے الگ کیا جائے گا جیسے پیالے میں سے اچھی کھجوریں الگ کر لی جاتی ہیں، پس تم میں سے بہترین لوگ رخصت ہو جائیں گے اور برے لوگ باقی رہ جائیں گے، لہٰذا (اگر فتنوں سے بچنا چاہتے ہو تو) اگر موت ممکن ہو تو مر جاؤ۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور ابو حمید سے مراد طاعنی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرِّقَاقِ/حدیث: 8084]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره ما خلا قوله: "فموتوا إن استطعتم"، وهذا إسناد ضعيف، أبو حميد» [ترقيم الرساله 8084] [ترقيم الشركة 7985] [ترقيم العلميه 7886]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره ما خلا قوله: "فموتوا إن استطعتم"
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں