🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

19. الْقَ اللَّهَ فَقِيرًا وَلَا تَلْقَهُ غَنِيًّا
اللہ سے اس حال میں ملو کہ تم فقیر (دنیا سے بے رغبت) ہو، نہ کہ غنی (دنیا دار)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8084
حدثنا أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد وعلي بن حَمْشَاذَ العَدْل، قالا: حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا إسماعيل بن أبي أُوَيس، حدثني سليمان ابن بلال، عن يونس، عن ابن شِهاب، عن أبي حُميد (1) أنه سمع أبا هريرة يقول: قال رسول الله ﷺ:"لَتُنتَقُنَّ كما يُنتَقَى التمرُ من الجَفْنة، فَلَيَذهبنَّ خِيارُكم، ولَيَبقيَنَّ شراركم، فموتوا إن استطعتُم" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، وأبو حميد: هو الطَّاعِني (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7886 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہیں چنا جائے گا جیسے کھجوروں کی ٹوکری سے کھجوروں کو چنا جاتا ہے، اچھے لوگوں کو اٹھا لیا جائے گا اور شریر لوگ بچ جائیں گے۔ اس لیے ہو سکے تو مر جانا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور اس کی سند میں ابوجمیل طائی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرِّقَاقِ/حدیث: 8084]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8085
حدثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، حدثنا أبو عبد الله الحسين بن موسى بن خلف الرَّسْعَني، حدثنا أبو فَرْوة يزيد بن محمد الرُّهَاوي، حدثنا أبي، عن أبيه، عن عطاء بن أبي رَبَاح، عن أبي سعيد الخُدْري، عن بلال قال: قال رسول الله ﷺ:"يا بلالُ القَ الله فقيرًا ولا تَلْقَه غنيًّا" قال: قلت: وكيف لي بذلك يا رسولَ الله؟ قال:"إذا رُزِقتَ فلا تَخْبَأَ، وإذا سُئِلتَ فلا تَمنَع" قال: قلت: وكيف لي بذلك يا رسولَ الله؟ قال:"هو ذاكَ وإلَّا فالنارُ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7887 - واه
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے بلال! اللہ تعالیٰ سے فقیری کی حالت میں ملنا، دولت مندی کی حالت میں نہ ملنا۔ سیدنا بلال فرماتے ہیں: میں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کیسے ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تجھے رزق ملے تو جمع کر کے مت رکھنا اور جب تجھ سے کوئی مانگے تو انکار مت کرنا۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا نتیجہ کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تو ایسے کرے گا تو ٹھیک ہے ورنہ تو دوزخ میں جائے گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرِّقَاقِ/حدیث: 8085]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8086
أخبرني دَعْلَج بن أحمد السِّجْزي ببغداد، حدثنا أحمد بن علي الآبَّار، حدثنا عبد الله بن أبي بكر المُقدَّمي، حدثنا جعفر بن سليمان، عن ثابت، عن أنس: أنَّ النبيَّ ﷺ دخلَ مكةَ وذَقَنُهُ على رَحْلِهِ مُتخشِّعًا (1)
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7888 - على شرط مسلم
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے موقع پر مکہ میں داخل ہوئے تو عاجزی کی وجہ سے آپ اس قدر جھکے ہوئے تھے کہ آپ کی ٹھوڑی مبارک کجاوے کے ساتھ لگ رہی تھی۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرِّقَاقِ/حدیث: 8086]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8087
حدثنا جعفر بن محمد الخُلْدي، حدثنا الحسن بن علي القطَّان، حدثنا إسماعيل بن عيسى العطَّار، حدثنا إسحاق بن بشر، حدثنا سفيان الثَّوري، عن الأعمش، عن شَقِيق بن سَلَمة عن حُذيفة، عن النبيِّ ﷺ قال:"مَن أصبحَ والدُّنيا أكبرُ، همِّه، فليس من الله في شيءٍ ومَن لم يتَّقِ الله فليس من الله في شيءٍ، ومن لم يَهتمَّ للمسلمين عامّةً فليس منهم" (2)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7889 - أحسب الخبر موضوعا
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے صبح اور اس کی سب سے بڑی امید دنیا ہوئی، اس کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، اور جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا نہیں ہے اس کا بھی اللہ تعالیٰ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور جو عامۃ المسلمین کو اہمیت نہیں دیتا، وہ ان (مسلمانوں) میں سے نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرِّقَاقِ/حدیث: 8087]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں