🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

21. الرِّبَا كَانَ عَاقِبَةُ أَمْرِهِ إِلَى قُلٍّ
سود کا انجام (مال میں) کمی اور بے برکتی ہی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8089
أخبرني إبراهيم بن عِصْمة بن إبراهيم العَدْل، حدثنا أبي، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا أبو معاوية عن الأعمش، عن أبي سفيان، عن أشياخه قال: دخل سعدٌ على سلمان يعودُه، قال: فبَكَى فقال له: سعد ما يُبكيكَ يا أبا عبد الله؟ توفِّي رسولُ الله ﷺ وهو عنك راضي، وتَرِدُ عليه الحوضَ، وتلقَى أصحابَك، قال: فقال سلمان: أمَا إني لا أبكي جَزَعًا من الموت، ولا حِرصًا على الدنيا، ولكنَّ رسولَ الله ﷺ عَهِدَ إلينا عهدًا حيًا وميتًا، قال:"لِتكُنْ بُلْغةُ أحدِكم من الدنيا مثلَ زادِ الراكب"، وحولي هذه الأساودةُ. قال: وإنما حولَه إجَّانةٌ وجَفْنَةٌ ومَطْهَرة، فقال له سعدٌ: يا أبا عبد الله، اعهَدْ إلينا بعهدٍ نأخُذ به بعدَك، قال: فقال: يا سعدُ، اذكُرِ الله عند همِّك إذا هَمَمتَ، وعند يدِك إذا قَسَمتَ، وعند حُكمِك إذا حَكَمتَ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7891 - صحيح
سیدنا ابوسفیان اپنے اساتذہ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سیدنا سلمان کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے، سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ رو پڑے، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابوعبداللہ! آپ کیوں رہے ہیں؟ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم سے خوش اس دنیا سے گئے ہیں، تم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حوض کوثر پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملو گے، تم اپنے ساتھیوں سے ملو گے، سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں موت کے خوف سے نہیں رو رہا، اور نہ دنیا کی حرص میں رو رہا ہوں، بلکہ (میرے رونے کی وجہ یہ ہے کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ہوا وعدہ وفا نہیں کر سکا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں بھی اور اپنے بعد کے لیے بھی ہم سے یہ عہد لیا تھا کہ ہمارے پاس دنیا صرف اتنی ہونی چاہیے جتنا مسافر کا سامان ہوتا ہے، اور میرے اردگرد تم یہ تکیے دیکھو، اس وقت ان کے اردگرد، کپڑے دھونے کا ٹب، پانی پینے کا ایک بڑا پیالہ اور ایک لوٹا تھا۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابوعبداللہ! آپ ہمیں بھی کوئی وصیت فرما دیں، کہ آپ کے بعد ہم اس پر عمل پیرا ہوں، سیدنا سلمان نے فرمایا: اے سعد! جب تو کوئی ارادہ کرے، تو اپنے ارادے میں خدا کو یاد رکھ، جب تو تقسیم کرے تو اپنے ہاتھ پر خدا کو یاد رکھ اور جب تو فیصلہ کرے تو اپنے فیصلے میں خدا کو یاد رکھ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرِّقَاقِ/حدیث: 8089]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8090
حدثنا عبد الله بن جعفر بن دَرَستَوَيهِ، حدثنا يعقوب بن سفيان، حدثنا عمرو بن عثمان (1) بن أَوس الواسطي، حدثنا يحيى بن زكريا بن أبي زائدة، عن إسرائيل، عن الرُّكَين بن الرّبيع بن عُمَيلة، عن أبيه، عن ابن مسعود، عن النبيِّ ﷺ قال:"ما أكثرَ أحدٌ من الرِّبا، إِلَّا كان عاقبةُ أمرِه إلى قُلٍّ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7892 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص سود کھاتا ہے، اس کا انجام قل ہوتا ہے (یعنی بالآخر وہ تنگدست ہو جاتا ہے) ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرِّقَاقِ/حدیث: 8090]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں