المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
20. لِتَكُنْ بُلْغَةُ أَحَدِكُمْ مِنَ الدُّنْيَا مِثْلَ زَادِ الرَّاكِبِ
تمہارے پاس دنیا کا ساز و سامان اتنا ہونا چاہیے جتنا ایک مسافر کا زادِ راہ ہوتا ہے
حدیث نمبر: 8089
أخبرني إبراهيم بن عِصْمة بن إبراهيم العَدْل، حدثنا أبي، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا أبو معاوية عن الأعمش، عن أبي سفيان، عن أشياخه قال: دخل سعدٌ على سلمان يعودُه، قال: فبَكَى فقال له: سعد ما يُبكيكَ يا أبا عبد الله؟ توفِّي رسولُ الله ﷺ وهو عنك راضي، وتَرِدُ عليه الحوضَ، وتلقَى أصحابَك، قال: فقال سلمان: أمَا إني لا أبكي جَزَعًا من الموت، ولا حِرصًا على الدنيا، ولكنَّ رسولَ الله ﷺ عَهِدَ إلينا عهدًا حيًا وميتًا، قال:"لِتكُنْ بُلْغةُ أحدِكم من الدنيا مثلَ زادِ الراكب"، وحولي هذه الأساودةُ. قال: وإنما حولَه إجَّانةٌ وجَفْنَةٌ ومَطْهَرة، فقال له سعدٌ: يا أبا عبد الله، اعهَدْ إلينا بعهدٍ نأخُذ به بعدَك، قال: فقال: يا سعدُ، اذكُرِ الله عند همِّك إذا هَمَمتَ، وعند يدِك إذا قَسَمتَ، وعند حُكمِك إذا حَكَمتَ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7891 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7891 - صحيح
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ ان کی عیادت کے لیے آئے، تو وہ رونے لگے، سیدنا سعد نے پوچھا: اے ابوعبداللہ! آپ کو کیا چیز رلا رہی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جب انتقال ہوا تو وہ آپ سے راضی تھے، آپ حوض پر ان سے ملیں گے اور اپنے ساتھیوں کا ساتھ پائیں گے، تو سیدنا سلمان نے کہا: میں موت کے ڈر یا دنیا کی محبت میں نہیں رو رہا، بلکہ اس لیے رو رہا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ایک عہد لیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”تم میں سے ہر ایک کے پاس دنیا کا سامان صرف اتنا ہونا چاہیے جتنا ایک مسافر کا زادِ راہ ہوتا ہے“، جبکہ میرے گرد یہ بہت سی چیزیں (اثاثے) موجود ہیں۔ (حالانکہ) ان کے پاس صرف ایک برتن، ایک بڑا پیالہ اور ایک لوٹا تھا، سیدنا سعد نے عرض کی: اے ابوعبداللہ! ہمیں کوئی ایسی نصیحت فرمائیں جسے ہم آپ کے بعد اپنائیں، انہوں نے کہا: اے سعد! جب تم کسی کام کا پکا ارادہ کرو تو اللہ کو یاد رکھو، جب تم (مال) تقسیم کرنے لگو تو اللہ کو یاد رکھو، اور جب تم فیصلہ کرو تو اللہ کو یاد رکھو۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرِّقَاقِ/حدیث: 8089]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرِّقَاقِ/حدیث: 8089]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات لكن الواسطة بين أبي سفيان وهو طلحة بن نافع» [ترقيم الرساله 8089] [ترقيم الشركة 7990] [ترقيم العلميه 7891]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره