المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
37. إِنَّمَا الْغِنَى غِنَى الْقَلْبِ، وَالْفَقْرُ فَقْرُ الْقَلْبِ
اصل غنا (امیری) دل کا غنی ہونا ہے اور اصل فقر دل کا فقیر ہونا ہے
حدیث نمبر: 8127
أخبرنا أبو الحسن محمد بن علي بن بكر العَدْل، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا عبد الله بن صالح المصري، حدثني معاوية بن صالح، أنَّ عبد الرحمن بن جُبَير حدَّثه عن أبيه، عن أبي ذرٍّ، عن النبيِّ ﷺ أنه قال:"يا أبا ذرّ، أترى كثرةَ المالِ هو الغِنَى؟" قلت: نعم يا رسولَ الله هو الغِني، قال:"وترى أنَّ قِلّةَ المال هو الفقرُ؟" قلت: نعم يا رسول الله، هو الفقرُ، قال:"ليس كذاكَ، إنما الغِنى غِنى القلب، والفقرُ فقرُ القلب". ثم سألني رسولُ الله ﷺ عن رجلٍ من قريش، فقال:"تعرفُ فلانًا؟" قلت: نعم يا رسول الله، فقال:"فكيف تراهُ؟" قلتُ: إذا سأل أعطي، وإذا حَضَر دَخَل. قال: ثم سألني عن رجل من أهل الصُّفّة، فقال:"هل تعرفُ فلانًا؟" قلتُ: لا يا رسول الله، قال: فما زال يُحلِّيه ويَنْعتُه حتى عرفتُه، قال: قلت: نعم يا رسولَ الله، قال:"فكيف تراهُ؟" قلت: رجلٌ مِسكينٌ من أهل المسجد، قال:"هو خيرٌ من طِلاعِ الأرض مثلَ الآخَر" قلت يا رسول الله، أفلا يُعطَى من بعض ما يُعطى الآخَر، قال:"إنْ يُعطَ فهو أهلُه، وإن يُصرَفْ عنه فقد أُعطيَ حسنةً" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما خرَّجاه من طريق الأعمش عن زيد بن وهب عن أبي ذرٍّ مختصرًا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7929 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما خرَّجاه من طريق الأعمش عن زيد بن وهب عن أبي ذرٍّ مختصرًا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7929 - على شرط البخاري
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر! کیا تم کثرتِ مال کو غنا (مالداری) سمجھتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، یا رسول اللہ! یہی غنا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور کیا تم مال کی کمی کو فقر (تنگدستی) سمجھتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، یا رسول اللہ! یہی فقر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا نہیں ہے، بلکہ حقیقت میں غنا تو دل کی بے نیازی (غنائے قلب) ہے اور فقر دل کی محتاجی (فقرِ قلب) ہے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے قریش کے ایک شخص کے بارے میں پوچھا: ”کیا تم فلاں کو جانتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اسے کیسا پاتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: وہ جب مانگتا ہے تو اسے دیا جاتا ہے اور جب وہ (کسی مجلس میں) حاضر ہوتا ہے تو اسے داخلہ مل جاتا ہے۔ راوی کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے اہل صفہ کے ایک شخص کے بارے میں پوچھا: ”کیا تم فلاں کو جانتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، یا رسول اللہ! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل اس کا حلیہ اور اوصاف بیان فرماتے رہے یہاں تک کہ میں نے اسے پہچان لیا، میں نے عرض کیا: جی ہاں، یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم اسے کیسا پاتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: وہ مسجد کے رہنے والے ایک مسکین آدمی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ (مومن مسکین) زمین بھر ایسے (امیر) لوگوں سے بہتر ہے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا اسے بھی اس (امیر) کو دیے گئے مال میں سے کچھ نہیں دیا جانا چاہیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اسے دے دیا جائے تو وہ اس کا اہل ہے، اور اگر اس سے روک لیا جائے تو یقیناً اسے (اس کے بدلے) نیکی عطا کر دی گئی ہے۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، انہوں نے اسے اعمش کے طریق سے زید بن وہب سے اور انہوں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے مختصراً روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرِّقَاقِ/حدیث: 8127]
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، انہوں نے اسے اعمش کے طریق سے زید بن وہب سے اور انہوں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے مختصراً روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرِّقَاقِ/حدیث: 8127]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل عبد الله بن صالح، وقد توبع» [ترقيم الرساله 8127] [ترقيم الشركة 8028] [ترقيم العلميه 7929]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 8128
أخبرنا عَبْدان بن يزيد الدَّقَّاق بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا أبو مُسهِر، حدثني صَدَقة بن خالد، حدثني عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، حدثني عُروة بن محمد بن عطيّة، حدثني أبي، أنَّ أباه أخبره قال: قَدِمتُ على رسولِ الله ﷺ في أناسٍ من بني سعد بن بكر، وكنتُ أصغرَ القوم فخلَّفوني في رحالِهم، ثم أتَوا رسولَ الله ﷺ فقَضَى من حوائجِهم، ثم قال:"هل بقي منكم من أحدٍ؟" قالوا: نعم، غلامٌ معنا خلَّفْناه في رِحالِنا. فأمرهم أن يَبعثُوا إليّ، فأَتوني فقالوا: أَجِبْ رسولَ الله ﷺ، فأتيتُه، فلما رآني قال:"ما أغناكَ اللهُ فلا تسألِ الناس شيئًا، فإنَّ اليد العُلْيا هي المُنطِيَة، وإنَّ اليد السُّفلى هي المُنْطاة، وإنَّ مالَ الله تعالى لمسؤولٌ ومُنْطًى"، قال: فكلَّمنى رسولُ الله ﷺ بلُغتِنا (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7930 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7930 - صحيح
سیدنا عروہ بن محمد بن عطیہ کے والد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں بنو سعد بن بکر کے کچھ لوگوں کے ہمراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں قوم میں سب سے چھوٹا تھا اس لیے انہوں نے مجھے اپنے سامان کے پاس پیچھے چھوڑ دیا، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ضروریات پوری کر دیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تم میں سے کوئی باقی رہ گیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، ایک لڑکا ہمارے ساتھ ہے جسے ہم نے اپنے سامان کے پاس پیچھے چھوڑا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ مجھے بلائیں، وہ میرے پاس آئے اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پکار پر حاضر ہو جاؤ، چنانچہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا: ”جب تک اللہ تمہیں بے نیاز رکھے تم لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کرو، کیونکہ اوپر والا ہاتھ دینے والا ہے اور نیچے والا ہاتھ لینے والا ہے، اور اللہ تعالیٰ کا مال تو ایسا ہے جس کے بارے میں (قیامت کے دن) سوال ہوگا اور وہ (تقسیم کے لیے) دیا گیا ہے۔“ راوی کہتے ہیں: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ہماری زبان (لہجے) میں گفتگو فرمائی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرِّقَاقِ/حدیث: 8128]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرِّقَاقِ/حدیث: 8128]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد، عروة بن محمد قد روى عنه جمع ووثقه ابن حبان، وكان واليًا لعمر بن عبد العزيز، معروف بصلاحه، فهو حسن الحديث، وأبوه محمد بن عطية لم يرو عنه غير ابنه عروة، ولم يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان، لكنه تابعي كبير، وقد ...» [ترقيم الرساله 8128] [ترقيم الشركة 8029] [ترقيم العلميه 7930]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره