🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

38. قَلْبُ الشَّيْخِ شَابَ عَلَى حُبِّ طُولِ الْحَيَاةِ وَكَثْرَةِ الْمَالِ
بوڑھے کا دل لمبی زندگی کی خواہش اور کثرتِ مال کی محبت میں جوان رہتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8128
أخبرنا عَبْدان بن يزيد الدَّقَّاق بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا أبو مُسهِر، حدثني صَدَقة بن خالد، حدثني عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، حدثني عُروة بن محمد بن عطيّة، حدثني أبي، أنَّ أباه أخبره قال: قَدِمتُ على رسولِ الله ﷺ في أناسٍ من بني سعد بن بكر، وكنتُ أصغرَ القوم فخلَّفوني في رحالِهم، ثم أتَوا رسولَ الله ﷺ فقَضَى من حوائجِهم، ثم قال:"هل بقي منكم من أحدٍ؟" قالوا: نعم، غلامٌ معنا خلَّفْناه في رِحالِنا. فأمرهم أن يَبعثُوا إليّ، فأَتوني فقالوا: أَجِبْ رسولَ الله ﷺ، فأتيتُه، فلما رآني قال:"ما أغناكَ اللهُ فلا تسألِ الناس شيئًا، فإنَّ اليد العُلْيا هي المُنطِيَة، وإنَّ اليد السُّفلى هي المُنْطاة، وإنَّ مالَ الله تعالى لمسؤولٌ ومُنْطًى"، قال: فكلَّمنى رسولُ الله ﷺ بلُغتِنا (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7930 - صحيح
سیدنا عطیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا، اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم بنی سعد بن بکر میں تھے۔ میں لوگوں میں سب سے چھوٹا تھا، اس لیے انہوں نے اپنے کجاوے میں مجھے سب سے پیچھے بٹھایا: جب یہ قافلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پہنچا، سب لوگ طبعی ضروریات سے فارغ ہو گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم میں سے کوئی شخص پیچھے تو نہیں رہا، لوگوں نے بتایا کہ جی ہاں ہمارے ساتھ ایک بچہ بھی ہے، وہ ہمارے کجاوے میں موجود ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ اس بچے کو بھی میرے پاس لاؤ، یہ لوگ میرے پاس آئے اور بتایا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بلا رہے، میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو گیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تجھے خوب غنی کر دیا ہے، تو لوگوں سے کبھی کچھ نہ مانگنا، کیونکہ اوپر والا ہاتھ دینے والا اور نیچے والا ہاتھ لینے والا ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے مال کا سوال بھی کیا جاتا ہے اور وہ عطا بھی ہوتا ہے، آپ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ ہماری زبان میں بات کی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرِّقَاقِ/حدیث: 8128]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8129
أخبرني أبو عمرو إسماعيل بن نُجَيد السُّلَمي، حدثنا علي بن الحسين (1) ابن الجُنَيد، حدثنا المُعافَى بن سليمان، حدثنا محمد بن سَلَمة، عن أبي عبد الرحيم، عن عبد الوهاب بن بُخْت، عن عبد الله بن ذَكْوان، عن الأعرج، عن أبي هريرة قال: قال رسولُ الله ﷺ:"قلب الشيخ شابٌّ على حبِّ اثنتَين: طولِ الحياة وكَثْرَةِ المال" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7931 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بوڑھے آدمی کا دل دو چیزوں کی محبت میں ہمیشہ جوان رہتا ہے، لمبی عمر، اور مال کی کثرت۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرِّقَاقِ/حدیث: 8129]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں