🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

39. خَصَائِلُ أَوْلِيَاءِ اللَّهِ
اللہ کے ولیوں کی خصلتوں کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8131
حدثنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن سَلَمة العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارِمي، حدثنا سعيد بن أبي مريم أخبرنا نافع بن يزيد، حدثني عيَّاش بن عبّاس، عن عيسى بن عبد الرحمن، عن زيد بن أسلم، عن أبيه: أن عمر بن الخطّاب خرج إلى مسجد رسول الله ﷺ فإذا هو بمُعاذِ بن جبَل عند قبرِ رسولِ الله ﷺ يبكي، فقال: ما يُبكِيك يا معاذُ؟ قال: يُبكِيني شيءٌ سمعته من صاحبِ هذا القبر، قال: وما سمعتَه؟ قال: سمعتهُ يقول:"إنَّ اليسيرَ من الرِّياء شِركٌ، وإِنَّ مَن عادَى وَليَّ الله فقد بارَزَ الله تعالى بالمُحارَبة، وإنَّ الله يحبُّ الأخفياءَ الأتقياءَ الذين إن غابوا لم يُفتَقَدوا، وإن حَضَرُوا لم يُدْعَوا ولم يُعرَفوا، قلوبُهم مصابيحُ الهُدَى، يَخرُجون من كلَّ غَبراءَ مُظلِمة" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7933 - صحيح
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد کی طرف نکلے تو دیکھا کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کے پاس بیٹھے رو رہے ہیں، آپ نے پوچھا: اے معاذ! تمہیں کس چیز نے رلایا؟ انہوں نے عرض کیا: مجھے اس بات نے رلایا جو میں نے اس قبر والے (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) سے سنی تھی، پوچھا: تم نے کیا سنا تھا؟ عرض کیا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا: تھوڑا سا دکھاوا (ریا کاری) بھی شرک ہے، اور جس نے اللہ کے کسی ولی سے دشمنی کی تو اس نے اللہ تعالیٰ سے اعلانیہ جنگ کی، اور بے شک اللہ ان گمنام پرہیزگاروں سے محبت کرتا ہے جو اگر غائب ہوں تو انہیں تلاش نہیں کیا جاتا اور اگر حاضر ہوں تو انہیں (مجلس میں) بلایا نہیں جاتا اور نہ ہی انہیں پہچانا جاتا ہے، ان کے دل ہدایت کے چراغ ہیں، وہ ہر تاریک اور گرد آلود فتنے سے (بسلامت) نکل جاتے ہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرِّقَاقِ/حدیث: 8131]
تخریج الحدیث: «حديث حسن إن شاء الله بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف بمرّة من أجل عيسى بن عبد الرحمن. وهو ابن فروة الزُّرَقي» [ترقيم الرساله 8131] [ترقيم الشركة 8032] [ترقيم العلميه 7933]

الحكم على الحديث: حديث حسن إن شاء الله بطرقه وشواهده
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں