المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
41. تَشْرِيحُ الشَّهْوَةِ الْخَفِيَّةِ
شہوتِ خفیہ (پوشیدہ خواہشات) کی وضاحت
حدیث نمبر: 8139
حدثنا أبو أحمد بكر بن محمد بن حَمْدان، حدثنا عبد الصمد بن الفضل، حدثنا مَكيُّ بن إبراهيم، حدثنا عبد الواحد بن زيد، عن عُبَادة بن نُسَيّ قال: دخلتُ على شداد بن أوس في مُصلَّاه وهو يبكي، فقلت: يا أبا عبد الرحمن، ما الذي أبكاك؟ قال: حديثٌ سمعته من رسول الله ﷺ، قلت: وما هو؟ قال: بينما أنا عندَ رسول الله ﷺ إذ رأيتُ بوجهِه أمرًا ساءَني، فقلتُ: بأبي وأمِّي يا رسولَ الله، ما الذي أَرى بوجهك؟ قال:"أمرُ أتخوَّفُه على أُمَّتي مِن بعدي" قلت: وما هو؟ قال:"الشَّركُ وشَهوةٌ خفيَّة" قال: قلتُ: يا رسول الله، تُشْرِكُ أمتك من بعدك؟! قال:"يا شَدَّادُ، أَمَا إِنهم لا يَعبُدونَ شمسًا ولا وَثَنًا ولا حجرًا (1) ، ولكن يُراؤُون الناسَ بأعمالهم" قلتُ: يا رسولَ الله، الرَّياءُ شِركٌ هو؟ قال:"نعم" قلت: فما الشَّهوة الخفيَّة؟ قال:"يُصبحُ أحدُهم صائمًا فتَعرِضُ له شهوةٌ من شَهَوات الدنيا فيُفطِرُ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7940 - عبد الواحد بن زيد متروك
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7940 - عبد الواحد بن زيد متروك
عبادہ بن نسی کہتے ہیں کہ میں سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی جائے نماز پر حاضر ہوا تو وہ رو رہے تھے، میں نے پوچھا: اے ابوعبدالرحمن! آپ کو کس چیز نے رلایا؟ انہوں نے کہا: ایک حدیث نے جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی، میں نے عرض کیا: وہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ایک مرتبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر ایسی کیفیت دیکھی جس نے مجھے غمگین کر دیا، میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یا رسول اللہ! یہ کیا ہے جو میں آپ کے چہرہ مبارک پر دیکھ رہا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک ایسا معاملہ ہے جس کا میں اپنے بعد اپنی امت پر اندیشہ رکھتا ہوں۔“ میں نے عرض کیا: وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شرک اور پوشیدہ خواہشِ نفس (شہوتِ خفیہ)۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ کے بعد آپ کی امت شرک کرے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے شداد! خبردار! وہ سورج، بت یا پتھر کی عبادت نہیں کریں گے، بلکہ وہ اپنے اعمال میں لوگوں کو دکھاوا کریں گے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ریا کاری شرک ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ میں نے عرض کیا: اور شہوتِ خفیہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص (نفل) روزہ رکھتا ہے پھر اس کے سامنے دنیا کی خواہشات میں سے کوئی خواہش آتی ہے تو وہ (بلا عذر) اپنا روزہ توڑ دیتا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرِّقَاقِ/حدیث: 8139]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرِّقَاقِ/حدیث: 8139]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا، عبد الواحد بن زيد» [ترقيم الرساله 8139] [ترقيم الشركة 8039] [ترقيم العلميه 7940]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا