🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

42. زُرِ الْقُبُورَ تَذْكُرْ بِهَا الْآخِرَةَ
قبروں کی زیارت کیا کرو، اس سے آخرت یاد آتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8139
حدثنا أبو أحمد بكر بن محمد بن حَمْدان، حدثنا عبد الصمد بن الفضل، حدثنا مَكيُّ بن إبراهيم، حدثنا عبد الواحد بن زيد، عن عُبَادة بن نُسَيّ قال: دخلتُ على شداد بن أوس في مُصلَّاه وهو يبكي، فقلت: يا أبا عبد الرحمن، ما الذي أبكاك؟ قال: حديثٌ سمعته من رسول الله ﷺ، قلت: وما هو؟ قال: بينما أنا عندَ رسول الله ﷺ إذ رأيتُ بوجهِه أمرًا ساءَني، فقلتُ: بأبي وأمِّي يا رسولَ الله، ما الذي أَرى بوجهك؟ قال:"أمرُ أتخوَّفُه على أُمَّتي مِن بعدي" قلت: وما هو؟ قال:"الشَّركُ وشَهوةٌ خفيَّة" قال: قلتُ: يا رسول الله، تُشْرِكُ أمتك من بعدك؟! قال:"يا شَدَّادُ، أَمَا إِنهم لا يَعبُدونَ شمسًا ولا وَثَنًا ولا حجرًا (1) ، ولكن يُراؤُون الناسَ بأعمالهم" قلتُ: يا رسولَ الله، الرَّياءُ شِركٌ هو؟ قال:"نعم" قلت: فما الشَّهوة الخفيَّة؟ قال:"يُصبحُ أحدُهم صائمًا فتَعرِضُ له شهوةٌ من شَهَوات الدنيا فيُفطِرُ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7940 - عبد الواحد بن زيد متروك
سیدنا عبادہ بن نسی فرماتے ہیں: میں سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی جائے نماز پر گیا، آپ وہاں رو رہے تھے، میں نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! آپ رو کیوں رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد یاد آ رہا ہے، میں نے پوچھا: وہ کیا؟ انہوں نے بتایا کہ ایک دفعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں موجود تھا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر کچھ ناپسندیدگی کے آثار دیکھے، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں، میں آپ کے چہرہ انور پر کچھ پریشانی کے آثار دیکھ رہا ہوں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیا وجہ ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد میری امت پر ایک معاملہ ہو گا مجھے اس کا خدشہ ہو رہا ہے، میں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شرک اور چھپی ہوئی شہوت۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ کے بعد آپ کی امت کے شرک میں مبتلا ہونے کے خدشات موجود ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے شداد! یہ لوگ چاند اور سورج کی عبادت نہیں کریں گے، کسی بت اور پتھر کی پوجا نہیں کریں گے، بلکہ یہ لوگ اپنے اعمال لوگوں کو دکھائیں گے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ریاکاری شرک ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چھپی ہوئی شہوت کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ صبح کے وقت روزہ تو رکھ لیں گے لیکن پھر ان پر دنیاوی شہوات کا غلبہ ہو جائے گا تو وہ روزہ توڑ لیں گے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرِّقَاقِ/حدیث: 8139]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں