المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
43. الْقَبْرُ أَوَّلُ مَنَازِلِ الْآخِرَةِ
قبر آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے
حدیث نمبر: 8141
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا أحمد بن بشر بن سعد المَرْثَدي، حدثنا يحيى بن مَعِين، حدثنا هشام بن يوسف، حدثنا عبد الله بن بَحِير، قال: سمعت هانئًا مَولى عثمان بن عفّان [يقول: رأيتُ عثمانَ] (2) واقفًا على قبرٍ بكَي حتى يَبُلَّ لحيتَه، فقيل له: تذكرُ الجنَّةَ والنارَ ولا تبكي، وتبكي من هذا؟ قال: إنِّي سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"القبرُ أول منازلِ الآخرة، فإنْ نَجَا منه فما بعدَه أيسرُ منه، وإن لم يَنجُ منه فما بعدَه أشدُّ منه". وسمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"ما رأيتُ منظرًا (3) إِلَّا والقبرُ أفظَعُ منه" (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7942 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7942 - صحيح
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہانی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ جب وہ کسی قبر پر کھڑے ہوتے تو اتنا روتے کہ ان کی داڑھی (آنسوؤں سے) تر ہو جاتی، ان سے عرض کیا گیا کہ آپ جنت اور دوزخ کا تذکرہ کرتے وقت تو نہیں روتے مگر اس (قبر) کے ذکر پر رو دیتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”قبر آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے، اگر (انسان) اس سے نجات پا گیا تو اس کے بعد کے مراحل اس سے زیادہ آسان ہیں، اور اگر اس سے نجات نہ ملی تو بعد کے مراحل اس سے زیادہ سخت ہیں۔“ اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”میں نے کوئی بھی ایسا منظر نہیں دیکھا جو قبر سے زیادہ ہولناک ہو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرِّقَاقِ/حدیث: 8141]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرِّقَاقِ/حدیث: 8141]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن» [ترقيم الرساله 8141] [ترقيم الشركة 8041] [ترقيم العلميه 7942]
الحكم على الحديث: إسناده حسن