🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. الْإِيمَانُ قَيْدُ الْفَتْكِ
ایمان دھوکے سے قتل کرنے کے خلاف رکاوٹ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8235
أخبرنا علي بن محمد بن عُقْبة الشَّيباني بالكوفة، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الزُّهْري، حدثنا أسباط بن نصر الهَمْداني، حدثنا إسماعيل بن عبد الرحمن السُّدِّي، عن أبيه، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: لا يَفتِكُ (1) المؤمنُ، الإيمانُ قَيَّدَ الفَتْكَ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8037 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن اچانک دھوکے سے قتل (فتک) نہیں کرتا، ایمان نے اچانک قتل کرنے کو مقید کر دیا ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8235]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبد الرحمن» [ترقيم الرساله 8235] [ترقيم الشركة 8136] [ترقيم العلميه 8037]

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8236
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن عتَّاب العَبْدي ببغداد، حدثنا أحمد بن عبيد الله النَّرْسي، حدثنا عمرو بن عاصم الكِلَابي، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن علي بن زيد، عن سعيد بن المسيّب، عن مروان بن الحَكَم، قال: دخلتُ مع معاوية على أمَّ المؤمنين عائشةَ، فقالت: يا معاويةُ، قتلتَ حُجْرًا وأصحابَه، وفعلتَ الذي فعلتَ، أمَا تَخشَى أن أَخبَأَ لك رجلًا فيقتلَك؟ قال: لا، إني في بيتَ أمانٍ، سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"الإيمانُ قَيَّدَ الفَتْكَ، لا يَفْتِكُ مُؤمنٌ" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8038 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
مروان بن حکم سے روایت ہے کہ میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا تو انہوں نے فرمایا: اے معاویہ! تم نے حجر اور ان کے ساتھیوں کو قتل کیا اور جو کچھ تم نے کیا سو کیا، کیا تمہیں اس بات کا ڈر نہیں کہ میں کسی شخص کو چھپا کر بٹھا دوں جو تمہیں قتل کر دے؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں، میں امن والے گھر میں ہوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ایمان نے دھوکے سے قتل کرنے کو پابند کر دیا ہے، مومن دھوکے سے قتل نہیں کرتا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8236]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن في الشواهد من أَجل علي بن زيد: وهو ابن جدعان» [ترقيم الرساله 8236] [ترقيم الشركة 8137] [ترقيم العلميه 8038]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8237
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن عمرو بن غالب، قال: دخل عمّارٌ على عائشة يومَ الجَمَل، فقال: السلامُ عليك يا أُمَّاه، قالت: لستُ لك بأمٍّ، قال: بلى إنك أُمِّي وإن كرهتِ قالت: مَن ذا الذي أسمع صوتَه معك؟ قال: الأشتَرُ، قالت: يا أشتَرُ، أنت الذي أردتَ أن تقتل ابنَ أختي؟ قال: لقد حَرَصتُ على قتلِه وحَرَصَ على قتلي، فلم نَقدِرْ، فقالت: أمَا والله لو قتلتَه ما أفلحتَ، فأما أنت يا عمارُ، فقد علمتَ أنَّ رسول الله ﷺ قال:"لا يُقتَلُ إلَّا أحدُ ثلاثةٍ: رجلٌ قتلَ رجلًا فقُتِلَ به، ورجلٌ زَنَى بعدما أَحْصَنَ، ورجلٌ ارتَدَّ عن الإسلام" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8039 - صحيح
عمرو بن غالب سے روایت ہے کہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ جنگ جمل کے دن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور کہا: اے میری ماں! آپ پر سلامتی ہو، انہوں نے فرمایا: میں تمہاری ماں نہیں ہوں، عمار نے کہا: کیوں نہیں، آپ میری ماں ہیں اگرچہ آپ کو ناگوار گزرے، سیدہ عائشہ نے پوچھا: یہ تمہارے ساتھ کس کی آواز سن رہی ہوں؟ انہوں نے کہا: اشتر کی، سیدہ نے فرمایا: اے اشتر! کیا تم وہی ہو جس نے میرے بھانجے کو قتل کرنا چاہا تھا؟ اشتر نے کہا: میں نے اسے قتل کرنے کی پوری کوشش کی اور اس نے مجھے، مگر ہم قادر نہ ہو سکے، سیدہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر تم اسے قتل کر دیتے تو کبھی فلاح نہ پاتے، پھر فرمایا: اے عمار! تمہیں تو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: کسی کو قتل نہیں کیا جائے گا سوائے تین میں سے ایک کے: وہ شخص جس نے کسی کو قتل کیا ہو تو اسے بدلے میں قتل کیا جائے، وہ شادی شدہ جو زنا کرے، اور وہ جو اسلام سے پھر جائے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8237]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد فيه عمرو بن غالب تفرَّد بالرواية عنه أبو إسحاق» [ترقيم الرساله 8237] [ترقيم الشركة 8138] [ترقيم العلميه 8039]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں