🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

7. مَنْ قَتَلَ رَجُلًا بَعْدَمَا اطْمَأَنَّ إِلَيْهِ نُصِبَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِوَاءُ غَدْرٍ
جس نے کسی شخص کو امان دینے کے بعد قتل کیا، قیامت کے دن اس کے لیے غداری کا جھنڈا نصب ہوگا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8237
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن عمرو بن غالب، قال: دخل عمّارٌ على عائشة يومَ الجَمَل، فقال: السلامُ عليك يا أُمَّاه، قالت: لستُ لك بأمٍّ، قال: بلى إنك أُمِّي وإن كرهتِ قالت: مَن ذا الذي أسمع صوتَه معك؟ قال: الأشتَرُ، قالت: يا أشتَرُ، أنت الذي أردتَ أن تقتل ابنَ أختي؟ قال: لقد حَرَصتُ على قتلِه وحَرَصَ على قتلي، فلم نَقدِرْ، فقالت: أمَا والله لو قتلتَه ما أفلحتَ، فأما أنت يا عمارُ، فقد علمتَ أنَّ رسول الله ﷺ قال:"لا يُقتَلُ إلَّا أحدُ ثلاثةٍ: رجلٌ قتلَ رجلًا فقُتِلَ به، ورجلٌ زَنَى بعدما أَحْصَنَ، ورجلٌ ارتَدَّ عن الإسلام" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8039 - صحيح
عمرو بن غالب بیان کرتے ہیں کہ جنگ جمل کے موقع پر سیدنا عمار رضی اللہ عنہ، ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور یوں سلام کیا السلام علیکم یا اماہ (اے امی جان آپ پر سلامتی ہو) ام المومنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں تیری ماں نہیں ہوں۔ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: کیوں نہیں، آپ میری ماں ہیں اگرچہ آپ کو یہ اچھا نہ لگے، ام المومنین نے فرمایا: تیرے ساتھ جس کی آواز آ رہی ہے، وہ کون ہے؟ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: اشتر ہے۔ ام المومنین نے فرمایا: اے اشتر! تو وہی ہے نا جو میرے بھانجے کو قتل کرنا چاہتا تھا؟ اشتر نے کہا: میں اس کو قتل کرنا چاہتا تھا اور وہ مجھے قتل کرنا چاہتا تھا، لیکن وہ یہ نہ کر سکا۔ ام المومنین نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر تو اس کو قتل کرتا تو کبھی فلاح نہ پاتا، اور اے عمار! تم۔۔۔۔۔ تم تو جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ تین لوگوں کے سوا کسی کو بھی قتل کرنا جائز نہیں ہے۔ وہ تین آدمی یہ ہیں۔ ٭ جس نے کسی کو ناحق قتل کیا، بدلے میں اس کو قتل کیا جائے گا۔ ٭ شادی شدہ شخص زنا کرے تو اس کو قتل کر دیا جائے۔ ٭ جو شخص اسلام کو چھوڑ کر کوئی دوسرا دین اختیار کر لے، اس کو قتل کر دیا جائے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8237]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8238
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبهاني، حدثنا أحمد بن مهدي بن رُستُم الأصبهاني، حدثنا أبو عامر العَقَدي، حدثنا قُرَّة بن خالد، عن عبد الملك بن عُمَير، قال حدثنا عامر بن شدَّاد، قال: كنتُ أبطَنَ (1) شيءٍ بالكذَّاب، أَدخلُ عليه بسيفي، فدخلتُ عليه ذاتَ يومٍ فقال: جئتَني واللهِ وقد قامَ جبريلُ عن هذا الكرسيَّ، فأهوَيتُ إلى قائمِ سيفي، فقلتُ: ما أنتظر أن أمشي بين رأسِه وجسدِه حتى ذكرتُ حديثًا حدَّثَناه عمرُو بن الحَمِق قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"إذا اطمأنَّ الرجلُ إلى الرجل، ثم قَتَلَه بعدَما اطمأنَّ إليه، نصب له يومَ القيامة لِواءُ غَدْرٍ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8040 - صحيح
عامر بن شداد بیان کرتے ہیں کہ میں کذاب کے بارے میں یہ خواہش رکھتا تھا کہ کسی طرح میں اس کے پاس تلوار لے کر پہنچ جاؤں، ایک دن میں اس مقصد میں کامیاب ہو گیا، اس نے کہا: تم میرے پاس ائے ہو اور تمہارے آتے ہی یہ جبریل اپنی کرسی سے اٹھ کر کھڑے ہو گئے ہیں، میں نے اپنی تلوار کا دستہ تھاما اور کہا: میں اس کے سر کو تن سے جدا کرنا ہی چاہتا تھا کہ مجھے عمرو بن الحمق کی سنائی ہوئی حدیث یاد آ گئی، انہوں نے بتایا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کسی بندہ کو کسی پر اعتماد ہو جائے پھر اس پر اعتماد ہونے کے بعد اس کو قتل کر ڈالے، قیامت کے دن اس کو غداروں میں اٹھایا جائے گا۔ (اس لیے میں نے اس کو قتل کرنے کا ارادہ ترک کر دیا۔) ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8238]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8239
حدثنا أحمد بن كامل بن خلف القاضي، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا أبو حذيفة (1) ، حدثنا إبراهيم بن طَهْمان عن عبد العزيز بن رُفيع، عن عُبيد بن عُمير، عن عائشة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"لا يَحِلُّ دمُ امريءٍ من أهلِ القِبْلة إلَّا بإحدى ثلاث: قَتَلَ فيُقتَل، والثيِّبُ الزاني، والمُفارِقُ للجماعة" أو قال:"الخارجُ من الجماعة" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8041 - على شرط البخاري ومسلم
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ اہل قبلہ میں سے کسی کا بھی قتل جائز نہیں ہے سوائے تین صورتوں کے ٭ ناحق قتل کیا ہو، تو بدلے میں اس کو قتل کیا جائے گا۔ ٭ شادی شدہ زنا کرے تو اس کو قتل کیا جائے گا۔ ٭ جماعت کو چھوڑنے والا (یعنی جو شخص اسلام چھوڑ کر کوئی اور دین اختیار کر لے) ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8239]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8240
وقد أخبرَناه محمد بن محمد بن عبد الله (1) ، حدثنا مَحْمِش (2) بن عِصام، حدثنا حفص بن عبد الله. وحدثنا أبو الحسن محمد بن الحسين بن داود العلَوَي، حدثنا أحمد بن محمد بن الحسن الحافظ، حدثنا أحمد بن حفص، حدثني أبي، حدثنا إبراهيم بن طَهْمان، عن منصور بن المُعتمِر، عن إبراهيم، عن أبي مَعْمَر، عن مسروق، عن عائشة أمِّ المؤمنين أنها قالت: لا يَحِلُّ دمُ أحدٍ من أهل القبلة إلَّا بإحدى ثلاث: رجلٌ قَتَلَ فيُقتَلُ به، والثيِّبُ الزاني، والمُفارِقُ للجماعة (3) .
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔ اہل قبلہ میں سے کسی کو قتل کرنا جائز نہیں ہے سوائے تین صورتوں کے۔ ٭ ناحق قتل کیا ہو، تو بدلے میں اس کو قتل کیا جائے گا۔ ٭ شادی شدہ زنا کرے تو اس کو قتل کیا جائے گا۔ ٭ جماعت کو چھوڑنے والا (یعنی جو شخص اسلام چھوڑ کر کوئی اور دین اختیار کر لے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8240]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں