المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
36. النَّهْيُ عَنِ التَّجَسُّسِ
جاسوسی اور عیب جوئی کرنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 8334
حدَّثنا علي بن محمد بن (3) عُقبة الشَّيباني بالكوفة، حدَّثنا محمد بن علي بن عفّان العامري، حدَّثنا أسباط بن محمد القُرشي، حدَّثنا الأعمش، عن زيد بن وهب، قال: أتى رجلٌ عبدَ الله بنَ مسعود، فقال: لك في الوليد بن عُقْبة ولحيتُه تَقطُر خمرًا؟ فقال: إنَّ رسول الله ﷺ نهانا عن التجسُّس، إن يَظْهَرْ لنا نأخُذْه (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8135 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8135 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا: ”آپ کا ولید بن عقبہ کے بارے میں کیا خیال ہے جبکہ اس کی داڑھی سے شراب کے قطرے ٹپک رہے ہیں؟“ انہوں نے فرمایا: ”بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تجسس (عیب جوئی کے لیے ٹٹولنے) سے منع فرمایا ہے، ہاں اگر کوئی جرم ہمارے سامنے (بغیر تجسس کے) ظاہر ہو جائے گا تو ہم اس پر گرفت کریں گے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8334]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8334]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8334] [ترقيم الشركة 8235] [ترقيم العلميه 8135]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8335
أخبرني أبو عبد الله محمد بن علي الصَّنعاني بمكة حَرَسَها الله، حدَّثنا إسحاق بن إبراهيم الدَّبَري، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن الزُّهْري، عن زُرَارة بن مصعب بن عبد الرحمن بن عَوف، عن المِسوَر بن مَخْرَمة، عن عبد الرحمن ابن عوف: أنه حَرَسَ ليلةً مع عمر بن الخطاب بالمدينة، فبينما هم يَمْشُونَ شَبَّ لهم سراجٌ في بيتٍ، فانطلقوا يؤمُّونه حتى إذا دَنَوا منه، إذا بابٌ مُجَافٌ على قوم لهم فيه أصواتٌ مرتفِعة، فقال عمرُ وأخذ بيد عبد الرحمن: أتدري بيتُ مَن هذا؟ قال: لا، قال: هذا بيتُ ربيعةَ بن أُمية بن خَلَفَ، وهم الآن شَرْبٌ، فما تَرَى؟ فقال عبدُ الرحمن: أرى أنَّا قد أتينا ما نَهَى الله عنه؛ نهانا اللهُ ﷿ فقال: ﴿وَلَا تَجَسَّسُوا﴾ [الحجرات: 12] ، فقد تجسَّسُنا، فانصَرَفَ عمرُ عنهم وتَرَكَهم (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8136 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8136 - صحيح
سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے مدینہ منورہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک رات پہرہ دیا، وہ دونوں چل رہے تھے کہ اچانک ایک گھر میں چراغ روشن نظر آیا، وہ اس کی طرف بڑھے یہاں تک کہ جب قریب پہنچے تو دیکھا کہ دروازہ بند ہے اور اندر سے لوگوں کے شور و غل کی آوازیں آ رہی ہیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم ہے یہ کس کا گھر ہے؟“ انہوں نے کہا: ”نہیں“، آپ نے فرمایا: ”یہ ربیعہ بن امیہ بن خلف کا گھر ہے اور وہ اس وقت شراب نوشی میں مصروف ہیں، اب تمہاری کیا رائے ہے؟“ سیدنا عبد الرحمن رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”میری رائے یہ ہے کہ ہم نے اس کام کا ارتکاب کیا ہے جس سے اللہ نے منع فرمایا ہے؛ اللہ عزوجل نے ہمیں منع کرتے ہوئے فرمایا ہے: ﴿وَلَا تَجَسَّسُوا﴾ ”اور تجسس نہ کرو۔“ [سورة الحجرات: 12] ، اور ہم نے تجسس کیا ہے“، چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس سے پلٹ آئے اور انہیں چھوڑ دیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8335]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8335]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8335] [ترقيم الشركة 8236] [ترقيم العلميه 8136]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح