🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

37. النَّهْيُ لِلْأَمِيرِ عَنِ ابْتِغَاءِ الرِّيبَةِ فِي النَّاسِ
حاکم کے لیے لوگوں کے عیب ڈھونڈنے اور ان پر شک کرنے کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8335
أخبرني أبو عبد الله محمد بن علي الصَّنعاني بمكة حَرَسَها الله، حدَّثنا إسحاق بن إبراهيم الدَّبَري، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن الزُّهْري، عن زُرَارة بن مصعب بن عبد الرحمن بن عَوف، عن المِسوَر بن مَخْرَمة، عن عبد الرحمن ابن عوف: أنه حَرَسَ ليلةً مع عمر بن الخطاب بالمدينة، فبينما هم يَمْشُونَ شَبَّ لهم سراجٌ في بيتٍ، فانطلقوا يؤمُّونه حتى إذا دَنَوا منه، إذا بابٌ مُجَافٌ على قوم لهم فيه أصواتٌ مرتفِعة، فقال عمرُ وأخذ بيد عبد الرحمن: أتدري بيتُ مَن هذا؟ قال: لا، قال: هذا بيتُ ربيعةَ بن أُمية بن خَلَفَ، وهم الآن شَرْبٌ، فما تَرَى؟ فقال عبدُ الرحمن: أرى أنَّا قد أتينا ما نَهَى الله عنه؛ نهانا اللهُ ﷿ فقال: ﴿وَلَا تَجَسَّسُوا﴾ [الحجرات: 12] ، فقد تجسَّسُنا، فانصَرَفَ عمرُ عنهم وتَرَكَهم (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8136 - صحيح
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے ایک رات مدینہ منورہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ہمراہ چوکیدار کے طور پر گزاری، (آپ فرماتے ہیں) ہم لوگ چل رہے تھے کہ ہمیں ایک گھر میں چراغ کی روشنی دکھائی دی، ہم لوگ اسی کی جانب چل دیئے، جب ہم اس گھر کے قریب پہنچے تو دروازہ کھلا ہوا تھا، گھر میں لوگ بھی موجود تھے، اور بہت آوازیں بلند ہو رہی تھیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبدالرحمن کا ہاتھ تھاما اور بولے: تمہیں معلوم ہے کہ یہ گھر کس کا ہے؟ سیدنا عبدالرحمن نے کہا: نہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو بتایا کہ یہ گھر ربیعہ بن امیہ بن خلف کا ہے، اور یہ لوگ اس وقت شراب کے نشے میں بدمست ہیں۔ تمہارا کیا خیال ہے؟ سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کی ہے، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: لَا تَجَسَّسُوْا (الحجرات: 12) جاسوسی مت کرو اللہ تعالیٰ نے تو ہمیں جاسوسی کرنے سے منع فرمایا ہے، اور ہم نے جاسوسی کی ہے، چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کو اسی طرح چھوڑ کر واپس تشریف لے گئے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8335]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8336
حدَّثنا أبو إسحاق (2) إبراهيم بن فِراس الفقيه المالكي بمكة حرسها الله تعالى، حدَّثنا بكر بن سهل الدِّمياطي، حدَّثنا محمد بن عبد العزيز الرَّمْلي، حدَّثنا إسماعيل بن عياش، حدَّثنا ضَمْضَم بن زُرعة، عن شُريح بن عُبيد، عن جُبير بن نُفير وكَثير بن مُرَّة والمِقْدام بن مَعْدِي كَرِبَ وأبي أُمامة الباهلي، عن النبيِّ ﷺ قال:"إِنَّ الأميرَ إذا ابتَغَى الرِّيبةَ في الناس أفسَدَهم" (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8137 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: امیر جب لوگوں میں شک ڈھونڈتا ہے تو وہ لوگوں کو خراب کر لیتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8336]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں