🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

35. إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا عَجَّلَ عُقُوبَةَ ذَنْبِهِ
جب اللہ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے گناہ کی سزا دنیا ہی میں دے دیتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8331
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله البغدادي، حدَّثنا يحيى بن عثمان بن صالح، حدَّثنا سعيدٌ بن كثير بن عُفَير، حدَّثنا يحيى بن فُليح أبو المغيرة الخُزاعي، حدَّثنا ثَوْر بن زيد الدِّيلي، عن عِكْرمة، عن ابن عباس قال: إِنَّ الشُّرَّاب كانوا يُضرَبون على عهد رسول الله ﷺ بالأيدي والنِّعالِ والعِصيِّ حتى تُوفِّيَ رسولُ الله ﷺ، وكانوا في خلافة أبي بكر أكثرَ منهم في عهدِ رسول الله ﷺ، فقال أبو بكر: لو فَرَضْنا لهم حدًا، فتَوخَّى نحوًا ممّا كانوا يُضرَبون في عهد رسول الله ﷺ، فكان أبو بكر يَجلِدُهم أربعين حتى تُوفَّى، ثم قام من بعدِه عمرُ، فجلدَهم كذلك أربعينَ حتى أُتِيَ برجلٍ من المهاجرين الأوَّلين وقد كان شَرِبَ، فَأَمَرَ بهِ أَن يُجلَد، فقال: لِمَ تَجلِدُني؟ بيني وبينَك كتابُ الله! فقال عمر: في أيِّ كتاب الله تَجِدُ أني لا أجلِدُك؟ فقال: إِنَّ الله تعالى يقول في كتابه: ﴿لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا﴾ الآية [المائدة: 93] ، فأنا من الذين آمنوا وعملوا الصالحات، ثم اتَّقَوا وآمنوا، ثم اتَّقَوا وأحسَنُوا؛ شهدتُ معَ رسول الله ﷺ بدرًا والحُديبيَةَ والخندقَ والمشاهدَ. فقال عمر: ألا تَردُّون عليه ما يقول؟ فقال ابن عباس: إِنَّ هؤلاء الآياتِ أُنزلت عُذرًا للماضِينَ، وَحُجّةً على الباقين، فعَذَرَ الماضين، فإنهم لَقُوا الله قبلَ أن تُحرَّمَ عليهم الخمرُ، وهي حُجَّةٌ على الباقين (1) لأنَّ الله ﷿ يقول: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ﴾ [المائدة: 90] ، ثم قرأ حتى أنفَدَ الآية الأخرى، ومَن كان من الذين آمنوا وعَمِلوا الصالحاتِ ثم اتَّقَوا وآمنوا ثم اتَّقَوا وأحسَنوا، فإنَّ الله ﷿ قد نَهَى أن يُشرَبَ الخمرُ، فقال عمرُ: صدقتَ، فماذا ترونَ؟ فقال عليٌّ: نَرَى أنه إذا شَرِبَ سَكِرَ، وإذا سَكِرَ هَذَى، وإذا هَذَى افترى، وعلى المُفتري ثمانونَ جلدةً، فأمَرَ عمرُ فَجُلِدَ ثمانينَ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8132 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں شراب خوروں کو ہاتھوں، جوتوں اور ڈنڈوں سے مار پڑتی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ظاہری وصال کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت میں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے زیادہ لوگ اس فعل میں مبتلا ہونے لگے، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر ان کے لئے کوئی حد مقرر کر دی جائے (تو شاید اس جرم میں کمی واقع ہو جائے) چنانچہ جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں شراب نوشوں کو کوڑے مارا کرتے تھے، ان سے مشورہ کیا گیا (تو یہ بات سامنے آئی کہ) سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان کو 40 کوڑے مارا کرتے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے وصال کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی شراب خوروں کو 40 کوڑے ہی مارا کرتے تھے، آپ کے دور خلافت میں مہاجرین اولین میں سے ایک شخص کو شراب نوشی کے الزام میں آپ کے پاس لایا گیا، آپ نے اس کو کوڑوں کی سزا سنا دی، اس صحابی نے اعتراض کر دیا کہ تم نے مجھے کوڑے کیوں مارے؟ جب کہ فیصلہ کرنے کے لئے آپ کے اور میرے درمیان اللہ کی کتاب موجود ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم کتاب اللہ کے کس حصہ میں یہ بات پاتے ہو کہ میں تجھے کوڑے نہ ماروں؟ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا (المائدہ: 93) جو ایمان لائے اور نیک کام کئے ان پر کوئی گناہ نہیں جو کچھ انہوں نے چکھا جبکہ ڈریں اور ایمان رکھیں اور نیکیاں کریں پھر ڈریں اور ایمان رکھیں، پھر ڈریں اور نیک رہیں اور میں انہی لوگوں میں سے ہوں جو ایمان لائے، نیک عمل کئے، پھر پرہیزگاری اختیار کی، اور ایمان لائے، پھر پرہیزگاری اختیار کی اور ایمان لائے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جنگ بدر، حدیبیہ، جنگ خندق اور دیگر کئی غزوات میں شرکت کی ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے (اپنے قریب دیگر صحابہ کرام سے) فرمایا: یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں، تم لوگ اس کا جواب نہیں دے سکتے؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بولے: یہ آیات تو سابقہ گناہوں کی معافی کے لئے نازل ہوئی ہیں، اور یہ آیات بعد والے گناہوں کے خلاف تو دلیل ہیں، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمِلِ الشَّيْطَانِ (المائدہ: 90) اے ایمان والو، شراب، جوا اور بت اور پانسے ناپاک ہی ہیں، شیطانی کام، تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ یہ آیت ختم کرنے کے بعد آپ نے دوسری آیت پڑھی: لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَآمَنُوا ثُمَّ اتَّقَوْا وَأَحْسَنُوا جو ایمان لائے اور نیک کام کئے ان پر کوئی گناہ نہیں جو کچھ انہوں نے چکھا جبکہ ڈریں اور ایمان رکھیں اور نیکیاں کریں پھر ڈریں اور ایمان رکھیں، پھر ڈریں اور نیک رہیں اللہ تعالیٰ نے شراب نوشی سے منع فرمایا ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے سچ کہا۔ (پھر دوسرے لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا) تمہارا کیا خیال ہے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہمارا یہ خیال ہے کہ بندہ جب شراب پیتا ہے تو اسے نشہ آتا ہے، اور جب نشہ آتا ہے تو ہذیان بکتا ہے، اور جب ہذیان (اول فول) بکتا تو جھوٹ بولتا ہے اور جھوٹ بولنے والے کی سزا 80 کوڑے ہیں۔ چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو 80 کوڑے لگوائے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8331]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8332
حدَّثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدَّثنا الحسين بن الفضل البَجَلي، حدَّثنا عفان بن مسلم، حدَّثنا حماد بن سَلَمة، عن يونس بن عُبيد، عن الحسن، عن عبد الله بن مُغفَّل: أنَّ امرأةً كانت بَغيًّا في الجاهلية مرَّ بها رجلٌ فَبَسَطَ يده إليها ولاعَبَها، فقالت: مَهُ، إِنَّ الله تعالى ذهب بالشِّرك وجاءَ بالإسلام، فتركها وولَّى، فجعل يلتفتُ يَنظُرُ إليها حتى أصابَ وجهُه الحائط، قال: فأتى النبيَّ ﷺ فذَكَرَ ذلك له، فقال:"أنت عبدٌ أرادَ الله بك خيرًا، إنَّ الله إذا أراد بعبدٍ خيرًا عَجَّلَ له عقوبةَ ذنبِه، وإذا أراد بعيدٍ شرًّا أمسَكَ عليه العقوبةَ بذنبِه حتى يُوافِيَ به يومَ القيامة كأنه عَيْرٌ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8133 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: زمانہ جاہلیت میں ایک طوائفہ تھی، اس کے پاس سے ایک مرد گزرا، اس مرد نے اپنا ہاتھ اس عورت کی جانب بڑھایا، عورت نے کہا: رک جا، اللہ تعالیٰ نے شرک کو ختم کر دیا ہے اور اسلام لے آیا ہے، اس آدمی نے اس کو چھوڑ دیا اور واپس آ گیا، وہ اس عورت کی طرف دیکھتا ہوا جا رہا تھا کہ اس کا منہ دیوار سے ٹکرا گیا۔ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا اور سارا ماجرا سنایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم وہ آدمی ہو، جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے بھلائی کا ارادہ فرمایا، بے شک اللہ تعالیٰ جب اپنے بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے گناہ کی سزا جلد ہی دے دیتا ہے، اور جب بندے کے ساتھ برائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کی سزا میں تاخیر کرتا ہے حتیٰ کہ قیامت کے دن اس کو اس گناہ کی سزا دے گا، اور اس وقت تک اس کا گناہ بہت بڑا ہو چکا ہو گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8332]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں