المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
42. حِكَايَةُ سَارِقٍ قُتِلَ فِي الْخَامِسَةِ
ایک ایسے چور کا قصہ جسے پانچویں مرتبہ چوری کرنے پر قتل کر دیا گیا
حدیث نمبر: 8351
أخبرنا عبد الله بن محمد بن إسحاق الخُزاعي بمكة حرسها الله تعالى، حدَّثنا عبد الله بن أحمد بن زكريا بن أبي مَسَرَّة، حدَّثنا عبد الله بن يزيد المقرئ حدَّثنا سعيد (4) بن أبي أيوب، حدثني يزيد بن أبي حَبيب، عن بُكير بن عبد الله بن الأشجِّ، عن سليمان بن يَسَار، عن عبد الرحمن بن جابر بن عبد الله، عن أبي بُرْدةَ بن نِيَار قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"لا يُجلَدُ فوقَ عشرةِ أسواطٍ فيما دونَ حدٍّ من حدود الله ﷿" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8152 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8152 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حد نہ لگتی ہو تو سزا کے طور پر دس سے زیادہ کوڑے نہ مارے جائیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8351]
حدیث نمبر: 8352
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدَّثنا إسحاق بن الحسن بن الحَرْبي، حدَّثنا عفان بن مسلم، حدَّثنا حماد بن سَلَمة، حدَّثنا يوسف بن سعد، عن الحارث بن حاطِبٍ: أنَّ رجلًا سَرَقَ على عهدِ رسول الله ﷺ، فأُتِيَ به النبيُّ ﷺ فقال:"اقتُلُوه"، فقالوا: إنما سَرَق، قال:"فاقطَعُوه"، ثم سَرَق أيضًا، فقُطِعَ، ثم سَرَق على عهد أبي بكر فقُطِع، ثم سَرَق فقُطِع (2) ، حتى قُطعت قوائمُه، ثم سَرَق الخامسة، فقال أبو بكر: كان رسولُ الله ﷺ أعلمَ بهذا حين أمرَ بقتلِه، اذهبوا به فاقتُلُوه، فدُفِع إلى فِتْيَةٍ من قريش فيهم عبدُ الله بن الزُّبير، فقال عبد الله بن الزُّبير: أَمِّروني عليكم، فأَمَّروه، فكان إذا ضَرَبه ضَرَبُوه حتى قَتلُوه (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8153 - بل منكر
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8153 - بل منكر
حارث بن حاطب فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک آدمی نے چوری کر لی، اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش کر دیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو قتل کر دو، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس نے صرف چوری کی ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اس کے ہاتھ کاٹ دو۔ اس نے پھر چوری کی، پھر اس نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بھی چوری کی، پھر اس کا پاؤں کاٹ دیا گیا، وہ چوریاں کرنے سے باز نہ آیا، اور سزا پاتا رہا، حتیٰ کہ جب اس نے پانچویں مرتبہ چوری کی تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بدبخت کو زیادہ جانتے تھے، تبھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قتل کا حکم دیا تھا، (پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا) اس کو لے جاؤ اور قتل کر دو، اس کو قریش کی ایک جماعت کے سپرد کر دیا گیا، اس جماعت میں سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بھی تھے، سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنی جماعت سے کہا: تم مجھے اپنا امیر بنا لو، ان لوگوں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو اپنا امیر بنا لیا، پھر سیدنا عبداللہ نے اس کو مارنا شروع کیا تو لوگ بھی مارنے لگ گئے، اس کو اتنا مارا کہ وہ مر گیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8352]