المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
41. حُكْمُ حَرِيسَةِ الْجَبَلِ
پہاڑ پر چرنے والے جانور (کی چوری) کا حکم
حدیث نمبر: 8349
حدَّثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدَّثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدَّثنا إبراهيم بن حمزة، حدَّثنا عبد العزيز بن محمد، أخبرني يزيد بن خُصَيفة، عن محمد بن عبد الرحمن بن ثَوْبان، عن أبي هريرة: أنَّ رسول الله ﷺ أُتِيَ بسارقٍ قد سَرَق شَمْلةً، فقالوا: يا رسولَ الله، إنَّ هذا سَرَقَ، فقال رسول الله ﷺ:"ما إِخَالُه سَرَقَ" فقال السارق: بلى يا رسول الله، فقال رسول الله ﷺ:"اذهبُوا به فاقطَعُوه، ثم احسِمُوه، ثم ائتُوني به" فقُطِعَ ثم أُتِيَ به، فقال:"تُبْ إلى الله" فقال: تبتُ إلى الله، فقال:"تابَ اللهُ عليك" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8150 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8150 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ایک چور لایا گیا، جس نے ایک چادر چوری کی تھی، لوگوں نے گواہی دی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس آدمی نے چوری کی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے نہیں لگتا کہ اس نے چوری کی ہو گی، چور نے کہا: جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو لے جاؤ، اس کے ہاتھ کاٹ دو، پھر اس کو آگ سے داغ لگاؤ (یعنی اس کی مرہم پٹی بھی کرو تاکہ اس کے خون کا بہاؤ رک جائے) پھر اس کو میرے پاس لے آؤ۔ چنانچہ اس کے ہاتھ کاٹ دیئے گئے، پھر اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیش کیا گیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو فرمایا: اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرو، اس نے کہا: میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تیری توبہ قبول فرمائے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8349]
حدیث نمبر: 8350
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث وهشام بن سعد، عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن عبد الله بن (1) عَمرو بن العاص: أن رجلًا من مُزَينة أَتى النبيَّ ﷺ فقال: يا رسول الله، كيف ترى في حَرِيسةِ الجَبَل؟ قال:"هي ومِثلُها (2) والنَّكَالُ، ليس في شيء من الماشية قطعٌ إلَّا ما آواهُ المُرَاحُ فبلغَ ثَمَنَ المِجَنِّ ففيه قطعُ اليد، وما لم يَبلُغ ثمنَ المِجَنِّ ففيه غَرامةُ مِثْلَيهِ وجَلَداتُ نَكالٍ" قال: يا رسول الله، كيف ترى في الثَّمر المُعلَّق؟ قال:"هو ومِثلُه معه والنَّكَالُ، وليس في شيءٍ من الثَّمر المُعلَّق قطعٌ إِلَّا ما آواه الجَرِينُ، فما أُخِذَ من الجَرِين فبلغَ ثَمَنَ المِجَنِّ ففيه القطعُ، وما لم يَبلُغْ ثمنَ المِجَنِّ ففيه غَرَامةُ مِثلَيهِ (1) وجَلَداتُ نَكالٍ" (2) . هذه سُنّة تفرَّد بها عمرو بن شعيب بن محمد عن جده عبد الله بن عمرو بن العاص، وقد رويتُ في هذا الكتاب عن إمامنا إسحاق بن إبراهيم الحنظلي أنه قال: إذا كان الراوي عن عمرو بن شعيب ثقةً فهو كأيوب عن نافع عن ابن عمر (3) .
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہی: مزینہ کا ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا، اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہاڑوں پر اگائے گئے درختوں کی چوری کے بارے میں آپ کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چوری کے برابر تاوان دینا ہو گا اور عبرت کے لئے کچھ سزا بھی۔ اور پہاڑوں پر چرنے والے جانوروں کی چوری کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان جانوروں کی چوری پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، البتہ اگر وہ جانور گلے میں ہوں جہاں ان کی حفاظت کی جاتی ہے، وہاں سے چوری کیا گیا تو اگر اس کی قیمت ڈھال کے برابر پہنچتی ہے تو ہاتھ کاٹا جائے گا اور اگر اس کی قیمت ڈھال تک نہ پہنچتی ہو تو اس میں اس کا دگنا جرمانہ ہے اور عبرت کے طور پر کچھ کوڑے بھی مارے جائیں گے۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لٹکے ہوئے پھل کو چوری کر لیا گیا اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اور اس جیسے دوسرے پھل جو لٹکے ہوئے ہوں، ان کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹے جائیں گے البتہ وہ کہ جس کو کسی مقام پر حفاظت کے لئے رکھا گیا ہو اور اس کی قیمت ڈھال تک پہنچتی ہو تب ہاتھ کاٹے جائیں گے۔ اور جس کی قیمت ڈھال تک نہ پہنچے، اس میں اس کے برابر جرمانہ ہے اور چند کوڑے بطور عبرت مارے جائیں گے۔ ٭٭ اس سنت میں عمرو بن شعیب، اپنے دادا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے میں منفرد ہیں، اور جب یہ روایت عمرو بن شعیب سے ہو تو اس سند کی طاقت اس سند کے برابر ہوتی ہے جو ایوب کے ذریعے بواسطہ نافع، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تک پہنچے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8350]