🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

41. حُكْمُ حَرِيسَةِ الْجَبَلِ
پہاڑ پر چرنے والے جانور (کی چوری) کا حکم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8350
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث وهشام بن سعد، عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن عبد الله بن (1) عَمرو بن العاص: أن رجلًا من مُزَينة أَتى النبيَّ ﷺ فقال: يا رسول الله، كيف ترى في حَرِيسةِ الجَبَل؟ قال:"هي ومِثلُها (2) والنَّكَالُ، ليس في شيء من الماشية قطعٌ إلَّا ما آواهُ المُرَاحُ فبلغَ ثَمَنَ المِجَنِّ ففيه قطعُ اليد، وما لم يَبلُغ ثمنَ المِجَنِّ ففيه غَرامةُ مِثْلَيهِ وجَلَداتُ نَكالٍ" قال: يا رسول الله، كيف ترى في الثَّمر المُعلَّق؟ قال:"هو ومِثلُه معه والنَّكَالُ، وليس في شيءٍ من الثَّمر المُعلَّق قطعٌ إِلَّا ما آواه الجَرِينُ، فما أُخِذَ من الجَرِين فبلغَ ثَمَنَ المِجَنِّ ففيه القطعُ، وما لم يَبلُغْ ثمنَ المِجَنِّ ففيه غَرَامةُ مِثلَيهِ (1) وجَلَداتُ نَكالٍ" (2) . هذه سُنّة تفرَّد بها عمرو بن شعيب بن محمد عن جده عبد الله بن عمرو بن العاص، وقد رويتُ في هذا الكتاب عن إمامنا إسحاق بن إبراهيم الحنظلي أنه قال: إذا كان الراوي عن عمرو بن شعيب ثقةً فهو كأيوب عن نافع عن ابن عمر (3) .
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ مزینہ کے ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی: اے اللہ کے رسول! پہاڑ پر چرنے والے ان مویشیوں کے بارے میں آپ کا کیا حکم ہے جو محفوظ نہ ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی سزا وہی جانور اور اس کے ساتھ اتنی ہی مزید قیمت بطور جرمانہ اور عبرت ناک سزا ہے، اور مویشیوں میں سے کسی چیز پر ہاتھ کاٹنا نہیں ہے سوائے اس کے جسے باڑے میں جگہ دی گئی ہو، پس اگر وہ نصاب (ڈھال کی قیمت) تک پہنچ جائے تو اس میں ہاتھ کاٹنا ہے، اور جو نصاب تک نہ پہنچے اس میں دگنا جرمانہ اور عبرت ناک کوڑے ہیں۔ اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! لٹکے ہوئے پھلوں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی سزا وہی پھل اور اس کے برابر مزید جرمانہ اور عبرت ناک سزا ہے، لٹکے ہوئے پھلوں میں ہاتھ کاٹنا نہیں ہے سوائے اس کے جسے کھلیان (محفوظ جگہ) میں رکھ دیا گیا ہو، پس جو کھلیان سے چرایا جائے اور وہ نصاب تک پہنچ جائے تو اس میں ہاتھ کاٹنا ہے، اور جو نصاب تک نہ پہنچے اس میں دگنا جرمانہ اور عبرت ناک سزا ہے۔ یہ وہ سنت ہے جسے عمرو بن شعیب بن محمد نے اپنے دادا عبداللہ بن عمرو بن عاص سے روایت کرنے میں انفرادیت حاصل کی ہے، اور میں نے اس کتاب میں اپنے امام اسحاق بن ابراہیم حنظلی سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: جب عمرو بن شعیب سے روایت کرنے والا ثقہ ہو تو وہ روایت ایسی ہی ہے جیسے ایوب نافع سے اور وہ ابن عمر سے روایت کریں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8350]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن» [ترقيم الرساله 8350] [ترقيم الشركة 8251]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8351
أخبرنا عبد الله بن محمد بن إسحاق الخُزاعي بمكة حرسها الله تعالى، حدَّثنا عبد الله بن أحمد بن زكريا بن أبي مَسَرَّة، حدَّثنا عبد الله بن يزيد المقرئ حدَّثنا سعيد (4) بن أبي أيوب، حدثني يزيد بن أبي حَبيب، عن بُكير بن عبد الله بن الأشجِّ، عن سليمان بن يَسَار، عن عبد الرحمن بن جابر بن عبد الله، عن أبي بُرْدةَ بن نِيَار قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"لا يُجلَدُ فوقَ عشرةِ أسواطٍ فيما دونَ حدٍّ من حدود الله ﷿" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8152 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اللہ عزوجل کی مقرر کردہ حدود کے علاوہ کسی بھی معاملے میں دس سے زیادہ کوڑے نہ لگائے جائیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8351]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، لكن اختلف في إسناده على بكير بن عبد الله كما سبق بيانه عند الرواية السالفة برقم (8306)» [ترقيم الرساله 8351] [ترقيم الشركة 8252] [ترقيم العلميه 8152]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں