المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
18. تَكُونُ فِتَنٌ عَلَى أَبْوَابِهَا دُعَاةٌ إِلَى النَّارِ
ایسے فتنے ہوں گے جن کے دروازوں پر جہنم کی طرف بلانے والے کھڑے ہوں گے
حدیث نمبر: 8535
حدثنا حمزة بن العباس بن الفضل بن الحارث العَقَبي ببغداد، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا سعيد بن عامر، حدثنا أبو عامر صالح بن رُستُم، عن حُميد بن هلال، عن عبد الرحمن بن قُرْط قال: دخلتُ المسجدَ فإذا حَلْقَةٌ كأنما قُطِعَت رؤوسُهم، وإذا فيهم رجل يحدِّث، فإذا حذيفةُ، قال: كانوا يسألونَ رسولَ الله ﷺ عن الخير، وكنت أسألُه عن الشرِّ كيما أعرفُه فأتَّقِيه، وعلمتُ أنَّ الخير لا يفوتُني، قال: فقلت يا رسول الله، هل بعدَ هذا الخير الذي نحن فيه من شرٍّ؟ قال:"يا حذيفةُ، تعلَّمْ كتاب الله واعمل بما فيه" ثم قلت: يا رسول الله، هل بعد هذا الخير الذي نحنُ فيه من شرٍّ؟ قال:"يا حذيفةُ، تعلَّمْ كتاب الله واعمل بما فيه" ثم قال في الثالثة:"فتنةٌ واختلافٌ" قلت: يا رسول الله، هل بعد ذلك الشرّ من خير؟ قال:"يا حذيفة، تعلَّمْ كتاب الله واعمل بما فيه" قلت: يا رسول الله، أبعد ذلك الشرِّ من خير؟ قال:"يا حذيفة، تعلَّمْ كتاب الله واعمل بما فيه" قلت: يا رسول الله، هل بعد ذلك الخير من شَرٍّ؟ قال:"فتنٌ على أبوابها دُعاةٌ إلى النار، فلئِنْ تَمُتْ (2) وأنتَ عاضٌّ على جِذْلٍ (3) ، خيرٌ لك من أن تَتبعَ أحدًا منهم" (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8330 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8330 - صحيح
سیدنا عبدالرحمن بن قرط رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں مسجد میں داخل ہوا تو وہاں لوگوں کا ایک حلقہ تھا (جو اتنے سکون اور خاموشی سے بیٹھے تھے) گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں، اور ان میں ایک شخص حدیث بیان کر رہا تھا، وہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے کہا: لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے بارے میں سوال کرتے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شر کے بارے میں پوچھتا تھا تاکہ اسے پہچان کر اس سے بچ سکوں، اور میں جانتا تھا کہ خیر مجھ سے فوت نہیں ہوگی؛ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا اس خیر کے بعد جس میں ہم (اس وقت) ہیں، کوئی شر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے حذیفہ! اللہ کی کتاب سیکھو اور جو کچھ اس میں ہے اس پر عمل کرو۔“ پھر میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا اس خیر کے بعد جس میں ہم ہیں، کوئی شر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے حذیفہ! اللہ کی کتاب سیکھو اور جو کچھ اس میں ہے اس پر عمل کرو۔“ پھر تیسری بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فتنہ اور اختلاف ہوگا۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا اس شر کے بعد کوئی خیر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے حذیفہ! اللہ کی کتاب سیکھو اور جو کچھ اس میں ہے اس پر عمل کرو۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا اس شر کے بعد کوئی خیر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے حذیفہ! اللہ کی کتاب سیکھو اور جو کچھ اس میں ہے اس پر عمل کرو۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا اس خیر کے بعد کوئی شر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فتنے ہوں گے جن کے دروازوں پر جہنم کی طرف بلانے والے کھڑے ہوں گے، پس اگر تم اس حال میں مرو کہ تم کسی درخت کی جڑ کو دانتوں سے مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہو، تو یہ تمہارے لیے اس سے بہتر ہے کہ تم ان میں سے کسی کی پیروی کرو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8535]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8535]
تخریج الحدیث: «حديث حسن على خطأ في إسناده سلف بيانه برقم (422)» [ترقيم الرساله 8535] [ترقيم الشركة 8432] [ترقيم العلميه 8330]
الحكم على الحديث: حديث حسن عل
حدیث نمبر: 8536
حدثنا محمد بن علي الصَّنعاني بمكة حَرَسَها الله، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن عبَّاد (1) ، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن عبد الله بن بن عثمان بن خُثَيم، عن نافع بن سَرْجِس، عن أبي هريرة قال: أيها الناس، أظلَّتكُم فتنٌ كأنها قِطعُ الليل المظلم، أَنجى (2) الناس فيها - أو قال: منها - صاحبُ شاءٍ يأكلُ من رِسْل (3) غنمِه، ورجلٌ من وراءِ الدَّرْب آخذُ بعِنان فرسِه يأكلُ من سيفه (4) . موقوف صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8331 - صحيح موقوف
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8331 - صحيح موقوف
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اے لوگو! تم پر ایسے فتنے سایہ فگن ہونے والے ہیں جو تاریک رات کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے، ان فتنوں میں (نجات کے لحاظ سے) بہترین انسان وہ ہوگا جو بکریوں والا ہو اور اپنی بکریوں کے دودھ پر گزارا کرتا ہو، یا وہ شخص جو سرحد کے پار (میدانِ جنگ میں) اپنے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے ہو اور اپنی تلوار (کے ذریعے حاصل ہونے والے رزق) سے کھاتا ہو۔“
یہ حدیث موقوف صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8536]
یہ حدیث موقوف صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8536]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح مرفوعًا، وهذا إسناد حسن» [ترقيم الرساله 8536] [ترقيم الشركة 8433] [ترقيم العلميه 8331]
الحكم على الحديث: حديث صحيح مرفوعًا