🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

18. تَكُونُ فِتَنٌ عَلَى أَبْوَابِهَا دُعَاةٌ إِلَى النَّارِ
ایسے فتنے ہوں گے جن کے دروازوں پر جہنم کی طرف بلانے والے کھڑے ہوں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8534
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني سليمان بن بلال، عن كثير بن زيد، عن الوليد بن رَبَاح، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"المحرومُ من حُرِمَ غَنيمةَ كَلْب ولو عِقال (3) ، والذي نفسي بيده لتُباعَنَّ نساؤُهم على دَرَج دمشق، حتى تُرَدَّ المرأةُ من كَسرٍ يوجدُ بساقِها" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8329 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ محروم وہ شخص ہے جو کلب کے مال غنیمت سے محروم رہا، اگر چہ ایک رسی ہی ہو، اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، دمشق کے راستے میں ان کی عورتوں کی بیعت لی جائے گی، حتی کہ ان کی پنڈلی پر لگے ہوئے زخم کی بناء پر بعض عورتوں کو واپس بھیج دیا جائے گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8534]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8535
حدثنا حمزة بن العباس بن الفضل بن الحارث العَقَبي ببغداد، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا سعيد بن عامر، حدثنا أبو عامر صالح بن رُستُم، عن حُميد بن هلال، عن عبد الرحمن بن قُرْط قال: دخلتُ المسجدَ فإذا حَلْقَةٌ كأنما قُطِعَت رؤوسُهم، وإذا فيهم رجل يحدِّث، فإذا حذيفةُ، قال: كانوا يسألونَ رسولَ الله ﷺ عن الخير، وكنت أسألُه عن الشرِّ كيما أعرفُه فأتَّقِيه، وعلمتُ أنَّ الخير لا يفوتُني، قال: فقلت يا رسول الله، هل بعدَ هذا الخير الذي نحن فيه من شرٍّ؟ قال:"يا حذيفةُ، تعلَّمْ كتاب الله واعمل بما فيه" ثم قلت: يا رسول الله، هل بعد هذا الخير الذي نحنُ فيه من شرٍّ؟ قال:"يا حذيفةُ، تعلَّمْ كتاب الله واعمل بما فيه" ثم قال في الثالثة:"فتنةٌ واختلافٌ" قلت: يا رسول الله، هل بعد ذلك الشرّ من خير؟ قال:"يا حذيفة، تعلَّمْ كتاب الله واعمل بما فيه" قلت: يا رسول الله، أبعد ذلك الشرِّ من خير؟ قال:"يا حذيفة، تعلَّمْ كتاب الله واعمل بما فيه" قلت: يا رسول الله، هل بعد ذلك الخير من شَرٍّ؟ قال:"فتنٌ على أبوابها دُعاةٌ إلى النار، فلئِنْ تَمُتْ (2) وأنتَ عاضٌّ على جِذْلٍ (3) ، خيرٌ لك من أن تَتبعَ أحدًا منهم" (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8330 - صحيح
سیدنا عبدالرحمن بن قرط فرماتے ہیں: میں مسجد میں داخل ہوا، مسجد میں حلقہ لگا ہوا تھا اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ وہاں پر درس حدیث دے رہے تھے (اور لوگوں کے انہماک کا عالم یہ تھا، لگتا تھا) گویا کہ ان کے سر کاٹ دیئے گئے ہیں، سیدنا حذیفہ فرما رہے تھے: لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے بارے میں پوچھا کرتے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شر کے بارے میں پوچھا کرتا تھا، تاکہ میں اس کو پہچان لوں اور اس میں مبتلا ہونے سے بچ سکوں، اور مجھے اس بات کا یقین تھا کہ خیر تو مجھ سے فوت ہو ہی نہیں سکتا، آپ فرماتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم جس خیر میں ہیں، کیا اس کے بعد کوئی شر آئے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے حذیفہ تم کتاب اللہ کو پڑھو اور جو کچھ اس میں ہے، اس پر عمل کرو، میں نے اپنی بات پھر دہرائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی جواب دیا، میں نے تیسری مرتبہ وہی بات کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فتنہ ہو گا اور اختلافات ہوں گے، میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا اس فتنہ کے بعد پھر کوئی خیر بھی آئے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے حذیفہ تم کتاب اللہ پڑھو اور جو کچھ اس میں ہے اس پر عمل کرو، میں نے دوبارہ عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا اس شر کے بعد کوئی خیر بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فتنے اٹھیں گے ان کے دروازوں پر دوزخ کی طرف بلانے والے کھڑے ہوں گے، ان حالات میں اگر تم کسی درخت کے تنے کو کاٹتے ہوئے مر جاؤ، یہ کسی کی پیروی کرنے سے بہتر ہو گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8535]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں