🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

19. ذِكْرُ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ
فتنۂ دجال کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8537
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا أبو الوليد الطَّيالسي، حدثنا أبو عَوَانة، عن قَتَادة، عن نضر بن عاصم، عن سُبَيع بن خالد، قال: خرجتُ إلى الكوفة زمن فُتِحَت تُستَرُ لأَجلِبَ منها بِغالًا، فدخلتُ المسجدَ فإذا صَدعٌ من الرجال تعرفُ إذا رأيتَهم أنهم من رجال الحجاز، قال: قلت: مَن هذا؟ قال: فحَدَّقَني القومُ بأبصارهم وقالوا: ما تعرفُ هذا؟ هذا حُذيفةُ صاحب رسول الله ﷺ، قال: فقال حذيفة: إنَّ الناس كانوا يسألون رسول الله ﷺ عن الخير، وكنت أسألُه عن الشرِّ، قال: قلت: يا رسول الله، أرأيتَ هذا الخيرَ الذي أعطانا الله، يكون بعدَه شرٌّ كما كان قبلَه؟ قال:"نعم" قلت: يا رسول الله، فما العِصْمةُ من ذلك؟ قال:"السيفُ" قلت: وهل للسيف من بقيّةٍ؟ قال:"نعم" قال: قلت: ثم ماذا؟ قال:"ثم هُدْنةٌ على دَخَنٍ" قال:"جماعةٌ على فُرْقةٍ، فإن كان الله ﷿ يومئذٍ خليفةٌ ضَرَبَ ظهرَك وأخذ مالَك، فاسمَعْ وأطِعْ، وإِلَّا فمُتْ عاضًّا بجِذْلِ شجرة" قال: قلت: ثم ماذا؟ قال:"يخرجُ الدَّجالُ ومعه نهرٌ ونار، فمن وقَع في ناره وقع [أَجرُه] (1) وحُطَّ وِزره، ومن وقع في نهره وَجَبَ وِزرُه وحُطَّ أجرُه" قلت: ثم ماذا؟ قال:"ثمَّ إِنَّما هي قيام الساعة" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8332 - صحيح
سیدنا سبیع بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں تستر کی فتح کے زمانے میں خچر لانے کے لیے کوفہ گیا، میں مسجد میں داخل ہوا تو وہاں لوگوں کی ایک جماعت تھی جنہیں دیکھ کر پہچانا جا سکتا تھا کہ وہ حجاز کے رہنے والے ہیں، میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے مجھے گھور کر دیکھا اور کہا: کیا تم انہیں نہیں جانتے؟ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ ہیں، تو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے (بیان کرتے ہوئے) فرمایا: لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے بارے میں سوال کرتے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شر کے بارے میں پوچھتا تھا، انہوں نے کہا: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا اس خیر کے بعد جو اللہ نے ہمیں عطا فرمائی ہے، دوبارہ شر ہوگا جیسا کہ اس سے پہلے تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ میں نے عرض کیا: اس سے بچاؤ کا راستہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تلوار۔ میں نے عرض کیا: کیا تلوار کے بعد کچھ باقی رہے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ میں نے عرض کیا: پھر کیا ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر «هُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ» (دھوئیں پر مبنی صلح) ہوگی، یعنی اختلاف کے باوجود ایک گروہ بن جائے گا، اگر اس دن زمین پر اللہ کا کوئی خلیفہ (حکمران) ہو جو تمہاری پیٹھ پر مارے اور تمہارا مال چھین لے تب بھی (فتنے سے بچنے کے لیے) اس کی سنو اور اطاعت کرو، ورنہ اس حال میں موت کو گلے لگا لو کہ تم کسی درخت کی جڑ کو دانتوں سے مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہو۔ میں نے عرض کیا: پھر کیا ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر دجال نکلے گا جس کے ساتھ ایک نہر اور آگ ہوگی، جو اس کی آگ میں گرا اس کا اجر (اللہ کے ہاں) واجب ہو گیا اور اس کے گناہ جھڑ گئے، اور جو اس کی نہر میں گرا اس کا گناہ ثابت ہو گیا اور اس کا اجر ضائع ہو گیا۔ میں نے عرض کیا: پھر کیا ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر صرف قیامت کا قیام رہ جائے گا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8537]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل سبيع بن خالد، فقد روى عنه جمع وذكره العجلي وابن حبان في الثقات» [ترقيم الرساله 8537] [ترقيم الشركة 8434] [ترقيم العلميه 8332]

الحكم على الحديث: إسناده حسن من أجل سبيع بن خالد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8538
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا محمد بن إبراهيم بن أُورمة (3) ، حدثنا الحسين بن حفص، عن سفيان، عن الأعمش، عن زيد بن وهب، عن حُذيفة قال: إنَّ للفتنة وَقَفاتٍ وبَعَثاتٍ، فمن استطاع منكم أن يموتَ في وَقَفاتِها فليفعل (4)
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8333 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: بے شک فتنوں کے ٹھہرنے کے اوقات (وقفے) بھی ہیں اور ابھرنے (اٹھنے) کے بھی، پس تم میں سے جو کوئی اس بات کی استطاعت رکھتا ہو کہ وہ ان کے ٹھہراؤ (سکون) کے وقت موت پا جائے تو اسے ایسا ہی کرنا چاہیے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے اپنی کتب میں روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8538]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، محمد بن إبراهيم» [ترقيم الرساله 8538] [ترقيم الشركة 8435] [ترقيم العلميه 8333]

الحكم على الحديث: خبر صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں