🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

26. سَيَأْتِي زَمَانٌ يُخَيَّرُ فِيهِ الرَّجُلُ بَيْنَ الْعَجْزِ وَالْفُجُورِ
عنقریب ایسا زمانہ آئے گا جب آدمی کو بے بسی اور گناہ گاری کے درمیان انتخاب کرنا پڑے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8555
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَويهِ، حدثنا محمد بن أحمد بن النَّضر، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا أبو إسحاق الفَزَاري، عن الأعمش، عن عمرو بن مُرَّة، عن أبي البَخْتَري، عن أبي ثَوْر قال: دَفَعتُ إلى حُذيفة وأبي (2) مسعود وهما يتحدَّثان في المسجد، فذكروا الفتنةَ، فقال أبو مسعود: ما كنتُ أرى ترتدُّ على عَقِبَيها لم يُهرَقُ فيها مِحجمٌ من دم (1) ، وإنَّ الرجلَ لَيُصبحُ مؤمنًا ويُمسي كافرًا، ويصبح كافرًا ويمسي مؤمنًا، يقاتل في الفتنة اليوم ويقتله الله غدًا، يُنكِّس قلبَه (2) فتَعلُو اسْتُه، فقال أبو مسعود: صدقتَ، هكذا حدَّثَنا رسولُ الله ﷺ في الفتنة (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. وأبو ثَور هذا من كِبار التابعين، وأبو البختري قد أدرك حذيفة (4) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8351 - صحيح
ابوثور کہتے ہیں: میں حذیفہ اور ابن مسعود کی جانب گیا، وہ دونوں مسجد میں بیٹھے آپس میں احادیث سنا رہے تھے، پھر انہوں نے فتنوں کا ذکر کیا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نہیں دیکھتا کہ تو اپنی ایڑھیوں کے بل پلٹ جائے گا۔ اس میں خون کا ایک قطرہ بھی نہیں بہے گا۔ آدمی صبح ایمان کی حالت میں کرے گا اور شام کو کافر ہو چکا ہو گا، یا صبح کو کافر ہو گا اور شام کو مومن ہو چکا ہو گا، وہ فتنے میں قتال کرے گا، کل اللہ تعالیٰ اسے قتل کر دے گا۔ اس کا دل الٹا ہو جائے گا، اس کی سرین بلند ہو جائے گی۔ سیدنا حذیفہ نے کہا: تم نے سچ کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فتنوں کے بارے میں ایسے ہی بتایا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور یہ ابوثور کبار تابعین میں سے ہیں، اور ابوالبختری نے سیدنا حذیفہ کو پایا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8555]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8556
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا محمد بن إبراهيم بن أُورْمَة (5) ، حدثنا الحسين بن حفص، حدثنا سفيان عن داود بن أبي هند، قال: أخبرني شيخٌ سمع أبا هريرة يقول: قال رسول الله ﷺ:"سيأتي على الناس زمانٌ يُخيَّر فيه الرجلُ بين العَجْز والفُجور، فمن أدرك ذلك الزمان فليَختَرِ العجز على الفُجور" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وإنَّ الشيخ الذي لم يُسمِّ سفيانُ الثَّوري عن داود بن أبي هند هو سعيد بن أبي جَبيرة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8352 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ آدمی کو عجز اور گناہ کے درمیان اختیار دیا جائے گا۔ جو وہ زمانہ پائے اس کو چاہئے کہ گناہ پر عجز کو ترجیح دے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور سفیان ثوری نے اپنے جس استاد کا نام ذکر نہیں کیا اور داؤد ابن ابی ہند سے روایت کی ہے، وہ سعید بن ابی خیرہ ہیں۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث کی سند سے واضح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8556]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8557
حدَّثَناه أبو بكر الشافعي، حدثنا إسحاق بن الحسن بن ميمون، حدثنا سعيد بن سليمان، حدثنا عباد بن العوّام، عن داود بن أبي هند، عن سعيد بن أبي جَبيرة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"سيأتي على الناسٌ زمان يُخيَّر فيه الرجلُ بين العَجْزِ والفُجور، فمن أدرك منكم ذلك الزمان فليخترِ العجز على الفجور" (2) .
داؤد ابن ابی ہند، سعید بن ابی خیرہ کے واسطے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عنقریب لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا، کہ آدمی کو عجز اور گناہ میں سے کوئی ایک چیز اختیار کرنے کو کہا جائے گا، جو شخص وہ زمانہ پائے، اس کو چاہئے کہ وہ گناہ پر عجز کو ترجیح دے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8557]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8558
أخبرني أحمد بن محمد بن سَلَمة العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدَّارِمي، حدثنا عبد الله بن صالح، أخبرني معاوية بن صالح، حدثني أبو الزاهرية، عن كَثير بن مُرَّة، عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ:"ليَعْشَينَّ أمَّتي من بعدي فتنٌ كقِطَع الليلِ المُظلِم، يُصبحُ الرجلُ فيها مؤمنًا ويُمسي كافرًا، ويُمسي مؤمنًا ويصبحُ كافرًا، يبيعُ أقوامٌ دينَهم بعَرَضٍ من الدنيا قليلٍ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. وشاهده الحديث الذي يعرِّف هذا المتنَ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8354 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے بعد میری امت کو فتنے ایسے ڈھانپ لیں گے جیسے تاریک رات کا اندھیرا ہر کسی کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے، اس فتنے میں بندہ صبح کو مومن ہو گا اور شام کو کافر ہو چکا ہو گا یا شام کو مومن ہو گا اور صبح کو کافر ہو چکا ہو گا، لوگ دنیا کی تھوڑی سی دولت کے عوض اپنا دین بیچ دیں گے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ درج ذیل حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے، اس کا متن یہی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8558]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں