المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
27. خُطْبَةُ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فِي الْفِتْنَةِ
فتنوں کے متعلق سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا خطبہ
حدیث نمبر: 8560
أخبرنا أبو العباس السَّيَّاري بمَرُو، أخبرنا أبو المُوجّه، أخبرنا عَبْدان (2) ، أخبرنا عبد الله، أخبرنا سعيد بن إياس الجُرَيري، عن أبي نضرة، عن أبي فراس قال: قال عمر بن الخطاب: ألا أيُّها الناس إنا كنا نَعرِفُكُم إِذْ فينا رسول الله ﷺ وَإِذْ يَنزِلُ الوحيُ وإذْ يُنبئنا من أخباركم، ألا وإن النبي ﷺ قد انطَلق ورُفِع الوحيُ، وإنما نعرفُكم بما أقولُ لكم، ألا ومن يُظهِرُ منكم خيرًا ظننا به خيرًا وأحببناه عليه، ومن يُظهِرُ منكم شرًّا ظننا به شرًا وأبغضناه عليه، سرائركم فيما بينكم وبين ربِّكم، ألا وقد أتى عليَّ زمانٌ وأنا أحسَبُ مَن قرأَ القرآن يريد به الله وما عنده، ولقد خُيِّل إليَّ بأَخَرةٍ أنَّ قومًا يقرؤونه يريدون ما عند الناس، ألا فأريدوا ما عند الله بقراءتِكم وبعملِكم، ألا وإنِّي -والله- ما أبعثُ عُمّالي ليَضرِبوا أبشارَكم ويأخذوا أموالَكم، ولكنّي أبعثُهم ليعلِّموكم دينكم وسُننكم، ويعدلوا بينكم ويَقسِموا فيكم فَيْئَكم، ألا من فُعِلَ به شيءٌ من ذلك فليَرفَعه إليَّ، والذي نفسُ عمرَ بيده لأقصَّنَّه منه. فَوَثَبَ عمرُو بن العاص فقال: يا أمير المؤمنين، أرأيت لو أنَّ رجلًا من المسلمين كان على رَعِيَّة، فأدَّب بعض رعيَّتِه، إنك لمُقتصُّه منه؟ قال: أنَّى لا أقتصُّه وقد رأيتُ رسول الله ﷺ يَقُصُّ من نفسه؛ ألا لا تضربوهم فتُذِلُّوهم، ولا تمنعوهم حقَّهم فتُكفِّروهم، ولا تُجبِروهم (1) فتَفتِنُوهم، ولا تُنزلوهم الغِياضَ فتُضيِّعوهم (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8356 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8356 - على شرط مسلم
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اے لوگو! ہم تمہیں اس وقت پہچانتے تھے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود تھے اور وحی نازل ہوتی تھی اور وہ ہمیں تمہاری خبریں دے دیا کرتی تھی، اب جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور وحی کا سلسلہ ختم ہو گیا، تو اب ہم تمہیں صرف ان باتوں سے پہچانیں گے جو میں تمہارے سامنے کہہ رہا ہوں؛ خبردار! تم میں سے جو کوئی (ظاہراً) خیر کرے گا ہم اس کے بارے میں اچھا گمان رکھیں گے اور اس سے محبت کریں گے، اور جو کوئی برا عمل ظاہر کرے گا ہم اس کے بارے میں برا گمان رکھیں گے اور اس سے بغض رکھیں گے، تمہارے پوشیدہ معاملات تمہارے اور تمہارے رب کے درمیان ہیں۔ خبردار! مجھ پر ایک ایسا زمانہ بھی گزرا جب میرا یہ گمان تھا کہ جو کوئی قرآن پڑھتا ہے وہ صرف اللہ اور اس کے پاس موجود اجر کے لیے پڑھتا ہے، لیکن اب پچھلے کچھ عرصے سے مجھے یہ محسوس ہوا ہے کہ کچھ لوگ لوگوں کے پاس موجود (مال و جاہ) کی خاطر قرآن پڑھتے ہیں، پس تم اپنی قرآئت اور اپنے عمل سے صرف اللہ کی رضا کا ارادہ کیا کرو۔ خبردار! اللہ کی قسم، میں اپنے عاملوں (گورنروں) کو اس لیے نہیں بھیجتا کہ وہ تمہاری کھالیں ادھیڑیں اور تمہارا مال چھینیں، بلکہ میں انہیں اس لیے بھیجتا ہوں تاکہ وہ تمہیں تمہارا دین اور سنتیں سکھائیں، تمہارے درمیان عدل کریں اور تمہارا مالِ فے (بیت المال کا مال) تم میں تقسیم کریں؛ خبردار! جس کے ساتھ بھی اس کے خلاف کچھ ہو تو وہ اپنا معاملہ میرے پاس لائے، اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں عمر کی جان ہے! میں یقیناً اس سے بدلہ (قصاص) لوں گا۔“ اس پر سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ اچھل کر کھڑے ہوئے اور عرض کیا: اے امیر المؤمنین! کیا آپ کا یہ خیال ہے کہ اگر کوئی مسلمان (گورنر) اپنی رعایا پر حاکم ہو اور وہ اپنی رعایا میں سے کسی کو (بطور تادیب) سزا دے، تو آپ اس سے بھی بدلہ لیں گے؟ آپ نے فرمایا: ”میں اس سے بدلہ کیوں نہیں لوں گا جبکہ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی ذات سے قصاص دیتے ہوئے دیکھا ہے؛ خبردار! تم انہیں (رعایا کو) مار پیٹ کر ذلیل نہ کرنا، نہ ہی ان کا حق روک کر انہیں کفر (یعنی بغاوت و مایوسی) پر اکسانا، نہ ہی انہیں (کسی کام پر) مجبور کر کے فتنے میں ڈالنا، اور نہ ہی انہیں گھنے جنگلوں (پر خطر مقامات) میں اتار کر ہلاکت میں ڈالنا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8560]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8560]
تخریج الحدیث: «إسناده محتمل للتحسين إن شاء الله، أبو فراس» [ترقيم الرساله 8560] [ترقيم الشركة 8458] [ترقيم العلميه 8356]
الحكم على الحديث: إسناده محتمل للتحسين إن شاء الله
حدیث نمبر: 8561
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبيُّ بمَرُو، حدثنا الفَضْل بن عبد الجبار، حدثنا النَّضر بن شُميل، أخبرنا محمد بن عمرو، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"ويلٌ للعرب من شرٍّ قد اقترب، موتوا إن استطعتُم" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8357 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8357 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عربوں کے لیے اس شر کی وجہ سے ہلاکت ہے جو قریب آ چکا ہے، اگر تم سے ہو سکے تو (فتنوں سے بچنے کے لیے) موت کو گلے لگا لو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے اپنی کتب میں روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8561]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے اپنی کتب میں روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8561]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل محمد بن عمرو: وهو ابن علقمة» [ترقيم الرساله 8561] [ترقيم الشركة 8459] [ترقيم العلميه 8357]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8562
أخبرني محمد بن علي الصنعاني بمكة حَرَسها الله، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن أيوب، عن ابن سيرين قال: ثارت الفتنةُ وأصحابُ رسول الله ﷺ عَشَرَةُ آلاف لم يَخِفَّ فيها منهم أربعون رجلًا، وقف مع عليٍّ (1) مئتان وبضعة وأربعون رجلًا من أهل بدر، فيهم أبو أيوب وسهل بن حنيف وعمار بن ياسر (2) .
ابن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب فتنہ برپا ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دس ہزار صحابہ میں سے چالیس آدمی بھی اس میں شامل (سرگرم) نہیں ہوئے تھے، جبکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ اہل بدر میں سے دو سو چالیس سے کچھ زائد افراد تھے جن میں سیدنا ابو ایوب، سہل بن حنیف اور عمار بن ياسر رضی اللہ عنہم شامل تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8562]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8562] [ترقيم الشركة 8460]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح