🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

27. خُطْبَةُ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فِي الْفِتْنَةِ
فتنوں کے متعلق سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا خطبہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8559
حدَّثَناه الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن يعقوب. وقد حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث وابن لَهِيعة، عن يزيد بن أبي حبيب، عن سِنَان ابن سعد، عن أنس بن مالك، عن رسول الله ﷺ أنه قال:"بينَ يَدَي الساعةِ فتنٌ كَقِطَع الليل المُظلم، يصبحُ الرجلُ فيها مؤمنًا ويُمسي كافرًا، ويُمسي مؤمنًا ويصبح كافرًا، يبيعُ أقوامٌ دينَهم بعَرَضٍ من الدنيا" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8355 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت سے پہلے تاریک رات کے اندھیرے کی مانند فتنے ہوں گے، ان میں بندہ صبح کو مومن ہو گا اور شام کو کافر ہو چکا ہو گا، اور شام کو مومن ہو گا اور صبح کو کافر ہو جائے گا۔ لوگ دنیا کی تھوڑی سی دولت کے بدلے اپنا دین بیچ دیں گے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8559]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8560
أخبرنا أبو العباس السَّيَّاري بمَرُو، أخبرنا أبو المُوجّه، أخبرنا عَبْدان (2) ، أخبرنا عبد الله، أخبرنا سعيد بن إياس الجُرَيري، عن أبي نضرة، عن أبي فراس قال: قال عمر بن الخطاب: ألا أيُّها الناس إنا كنا نَعرِفُكُم إِذْ فينا رسول الله ﷺ وَإِذْ يَنزِلُ الوحيُ وإذْ يُنبئنا من أخباركم، ألا وإن النبي ﷺ قد انطَلق ورُفِع الوحيُ، وإنما نعرفُكم بما أقولُ لكم، ألا ومن يُظهِرُ منكم خيرًا ظننا به خيرًا وأحببناه عليه، ومن يُظهِرُ منكم شرًّا ظننا به شرًا وأبغضناه عليه، سرائركم فيما بينكم وبين ربِّكم، ألا وقد أتى عليَّ زمانٌ وأنا أحسَبُ مَن قرأَ القرآن يريد به الله وما عنده، ولقد خُيِّل إليَّ بأَخَرةٍ أنَّ قومًا يقرؤونه يريدون ما عند الناس، ألا فأريدوا ما عند الله بقراءتِكم وبعملِكم، ألا وإنِّي -والله- ما أبعثُ عُمّالي ليَضرِبوا أبشارَكم ويأخذوا أموالَكم، ولكنّي أبعثُهم ليعلِّموكم دينكم وسُننكم، ويعدلوا بينكم ويَقسِموا فيكم فَيْئَكم، ألا من فُعِلَ به شيءٌ من ذلك فليَرفَعه إليَّ، والذي نفسُ عمرَ بيده لأقصَّنَّه منه. فَوَثَبَ عمرُو بن العاص فقال: يا أمير المؤمنين، أرأيت لو أنَّ رجلًا من المسلمين كان على رَعِيَّة، فأدَّب بعض رعيَّتِه، إنك لمُقتصُّه منه؟ قال: أنَّى لا أقتصُّه وقد رأيتُ رسول الله ﷺ يَقُصُّ من نفسه؛ ألا لا تضربوهم فتُذِلُّوهم، ولا تمنعوهم حقَّهم فتُكفِّروهم، ولا تُجبِروهم (1) فتَفتِنُوهم، ولا تُنزلوهم الغِياضَ فتُضيِّعوهم (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8356 - على شرط مسلم
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے لوگو! ہم تمہیں پہچانتے تھے جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں موجود تھے، جب وحی کا نزول ہوتا تھا، جب اچھے لوگ ہم میں موجود تھے، سن لو، خبردار! اللہ کے نبی جا چکے ہیں، وحی کا سلسلہ بند ہو چکا ہے، اب ہم تمہیں اسی بنیاد پر پہچانیں گے جو میں تمہیں کہوں گا۔ جس سے خیر ظاہر ہو گا، ہم اس کے بارے میں خیر کا گمان کریں گے، اور جس سے شر سرزد ہو گا، اس کو ہم شریر ہی سمجھیں گے، اور اس سے نفرت کریں گے۔ تمہارے اور تمہارے رب کے درمیان جو راز ہیں، وہ اللہ کے سپرد کریں گے۔ خبردار! مجھ پر ایسا زمانہ آ چکا ہے کہ جو قرآن کریم پڑھتا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ اس کی نیت اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کی ہے اور ثواب کی ہے۔ جب کہ مجھے یہ سمجھانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ کچھ لوگ قرآن کریم پڑھتے ہیں اور اس سے دنیا چاہتے ہیں، اپنی قراءت اور اپنے علم سے اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی بارگاہ سے ثواب کی امید کرو۔ اللہ کی قسم! میں اپنے ملازمین کو اس لئے نہیں بھیجتا کہ وہ تمہیں مار پیٹ کر تمہارا مال لیں، بلکہ میں ان کو اس لئے بھیجتا ہوں تاکہ وہ تمہیں تمہارا دین اور سنتیں سکھائیں اور تمہارے درمیان انصاف کریں، اور تمہاری غنیمتیں تمہارے درمیان تقسیم کریں، خبردار! جس کے ساتھ کسی قسم کی بھی زیادتی ہو، وہ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کی اطلاع مجھ تک پہنچائے، اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ میں عمر کی جان ہے، میں اس کو قصاص دلواؤں گا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے، آپ نے قصاص کے لئے خود کو پیش فرما دیا تھا، خبردار! ان کو مار کر انہیں ذلیل مت کرنا، اور ان کا حق ان سے روک کر ان کو بدظن مت کرنا، اور ان پر جبر کر کے ان کو آزمائش میں مت ڈالنا، اور ان کا مرتبہ کم کر کے ان کو ضائع بھی مت کرنا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8560]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8561
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبيُّ بمَرُو، حدثنا الفَضْل بن عبد الجبار، حدثنا النَّضر بن شُميل، أخبرنا محمد بن عمرو، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"ويلٌ للعرب من شرٍّ قد اقترب، موتوا إن استطعتُم" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8357 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عرب کے لئے اس شر سے ہلاکت ہے جو بالكل قریب آن پہنچا ہے۔ اگر اس میں مر سکو تو مر جانا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8561]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں