🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

66. لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَعُودَ أَرْضُ الْعَرَبِ مُرُوجًا وَأَنْهَارًا
قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک عرب کی سرزمین دوبارہ سبزہ زاروں اور نہروں میں نہ بدل جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8680
حدثنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى، حدثنا إمامُ المسلمين أبو بكر محمد بن إسحاق بن خُزَيمة، حدثنا يعقوب بن إبراهيم الدَّورقي، حدثنا ابن عُليّة، حدثنا أيوب، عن حُميد بن هلال، عن أبي قَتَادة، عن أُسَير بن جابر قال: هاجت ريحٌ حمراءُ بالكوفة، فجاء رجلٌ إلى عبد الله بن مسعود وليس له هِجِّيرٌ إِلَّا: يا عبد الله بن مسعود، جاءت الساعةُ، قال: وكان عبد الله متَّكئًا فقعد، فقال: إنَّ الساعة لا تقومُ حتى لا يُقسَمَ ميراثٌ، ولا يُفرَحَ بغَنيمة، عدوٌّ يَجمعون لأهل الإسلام ويَجْمَعُ لهم أهلُ الإسلام؛ ونَحَا بيده نحو الشام، قلت: الرُّومَ تعني؟ قال: نعم، قال: ويكون عند ذاكمُ القتالِ رَدَّةٌ شديدةٌ، فيشترط المسلمون شُرْطةً للموت لا ترجع إلَّا غالبةً، فيقاتلون حتى يحجُزَ بينهم الليلُ، فيفيءُ هؤلاء وهؤلاء، كلٌّ غيرُ غالبٍ، وتَفْنى الشُّرطةُ، ثم يَشترِطُ المسلمون شُرطةً للموت لا ترجِعُ إلَّا غالبةً، فيقاتلون حتى يُمْسُوا، فيفيءُ هؤلاء وهؤلاء، كلّ غيرُ غالبٍ، وتَفْنى الشرطةُ. فإذا كان الرابعُ نَهَدَ إليهم بقيَّةُ [أهل] (1) الإسلام، فجعل الله الدائرة عليهم فيُقتلون مَقتَلةً؛ إما قال: لم يُرَ مثلُها، وإما قال: لن يُرى مثلُها، حتى إِنَّ الطائر ليَمرُّ بِجَنَباتِهم فلا يُخلِّفُهم حتى يَخِرَّ ميتًا، فيتعادُّ (2) بنو الآبِ وكانوا مئةً، فلا يجدون بقي منهم إلَّا الرجل الواحد، فبأيِّ غَنيمةٍ يُفرَحُ أو ميراثٍ يُقسم؟ قال: فبينما هم كذلك إذ سمعوا بناس هم أكثرُ (3) من ذاك، جاءهم الصَّرِيخُ أنَّ الدَّجّال قد خَلَفَ فِي ذَرَارِيِّهم، فيَرفُضُون ما في أيديهم ويُقبلون، فيَبعَثون عشرة فوارس طليعةً، قال رسول الله ﷺ:"إني لأعرفُ أسماءهم وأسماء آبائهم وألوان خيولهم، هم خيرُ فوارس على ظهر الأرض يومَئِذٍ" أو قال:"هم خيرُ مَن على ظهرِ الأرض" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8471 - على شرط البخاري ومسلم
اسیر بن جابر فرماتے ہیں: کوفہ میں سرخ آندھی چلی، ایک آدمی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اس کے پاس سواری کے لئے اونٹ نہیں تھا، اس نے کہا: اے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ خبردار! قیامت آ گئی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، اٹھ کر بیٹھ گئے اور کہنے لگے: قیامت سے پہلے میراث تقسیم ہو گی، اور دشمن کے مال غنیمت پر آدمی خوش نہیں ہو گا، دشمن اہل اسلام کے لئے مال غنیمت جمع کرے گا اور اہل اسلام ان کے لئے جمع کریں گے۔ اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے شام کی جانب اشارہ کیا، میں نے کہا: آپ کی مراد روم ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، ان کے ساتھ تمہاری سخت جنگ ہو گی، مسلمان اپنے اوپر موت کی شرط رکھ لیں گے، اور یہ عہد کریں گے کہ ہم فتح حاصل کئے بغیر واپس نہیں لوٹیں گے، پھر وہ جنگ کریں گے، پھر رات ہو جائے گی، دونوں جماعتیں فتح یاب ہوئے بغیر غنیمت حاصل کریں گی، اور وہ شرط ختم ہو جائے گی، مسلمان دوبارہ عہد کریں گے کہ فتح حاصل کئے بغیر ہم واپس نہیں پلٹیں گے، پھر ان میں جنگ چھڑے گی، پھر رات ہو جائے گی، پھر دونوں جماعتیں فتح حاصل کئے بغیر مال غنیمت حاصل کریں گی، اور وہ شرط پھر ختم ہو جائے گی، تیسرے دن پھر اسی طرح موت پر عہد کریں گے، اور فتحیاب ہوئے بغیر واپس نہ لوٹنے کا وعدہ کریں گے، شام تک جنگ کرتے رہیں گے، رات ہو جائے گی تو یہ دونوں جماعتیں پھر بھی برابر رہیں گی، کسی کو فتح نہیں ملے گی، چوتھے دن مسلمانوں کے ساتھ اور بھی مسلمان شامل ہو جائیں گے، اور اللہ تعالیٰ ان پر آزمائش نازل فرمائے گا، ان کے درمیان بہت گھمسان کی جنگ ہو گی، اس جیسی جنگ نہ پہلے کبھی ہوئی نہ کبھی بعد میں ہو گی، حتی کہ کوئی پرندہ بھی میدان جنگ سے سلامت نہیں گزر پائے گا، ایک باپ کے سو بیٹے بھی ہوں گے تو ان میں سے صرف ایک باقی بچے گا، وہ کس غنیمت پر خوش ہوں گے، یا کون سی میراث ان کے درمیان تقسیم ہو گی، آپ فرماتے ہیں: وہ اسی کشمکش میں ہوں گے، کہ وہ کچھ لوگوں کی آوازیں سنیں گے، وہ چیخ چیخ کر کہہ رہے ہوں گے: دجال، ان کی اولادوں میں آ چکا ہے، یہ سنتے ہی وہ اپنے ہاتھوں میں موجود سب کچھ پھینک دیں گے، اور ان کی طرف آ جائیں گے، اور یہ لوگ دس گھڑ سواروں کی ایک جماعت بھیجیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ان کے نام اور ان کے آباء کے ناموں کو جانتا ہوں، ان کے گھوڑوں کے رنگ کو جانتا ہوں، اس وقت روئے زمین کے شہسواروں میں سب سے افضل وہ لوگ ہوں گے۔ اور فرمایا: وہ لوگ اس وقت کے تمام انسانوں سے افضل ہوں گے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8680]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں