🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

85. ذِكْرُ إِحْيَاءِ الْأَمْوَاتِ وَنَفْخِ الصُّورِ
مردوں کو زندہ کیے جانے اور صور پھونکے جانے کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8728
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا عبد الله بن وهب، حدثني أبو شُريح عبد الرحمن بن شُريح، عن أبي الأسود، عن أبي فَرْوة مولى أبي جَهْل، عن أبي هريرة قال: تَلَا رسولُ الله ﷺ: ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ (1) وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا﴾، فقال رسول الله ﷺ:"ليَخرُجُنَّ منه أَفواجًا كما دخلوا فيه أَفواجًا" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8518 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ النصر کی یہ آیات تلاوت کیں إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دَيْنِ اللَّهِ أَفْوَاجًا [النصر: 2] جب اللہ کی مدد اور فتح آئے، اور لوگوں کو تم دیکھو کہ اللہ کے دین میں فوج فوج داخل ہوتے ہیں پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جتنی فوجیں اس میں داخل ہوں گی، اتنی ہی اس سے نکل جائیں گی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8728]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8729
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبهاني، حدثنا الحسين بن حفص، حدثنا سفيان، عن سَلَمة بن كُهيل، عن أبي الزَّعْراء قال: كنَّا عند عبد الله بن مسعود فذُكِرَ عنده الدَّجّال، فقال عبد الله بن مسعود: تفترقون أيُّها الناس لخروجه على ثلاث فِرَقٍ: فرقة تَتبعُه، وفرقة تَلحَقُ بأرض آبائها بمَنابت الشِّيح، وفرقة تأخذُ شطَّ الفُرات يقاتلُهم ويقاتلونه، حتى يجتمعَ المؤمنون بقُرى الشامِ (1) ، فيَبعثُون إليهم طَليعةً فيهم فارسٌ على فرسٍ أشقر أَو أبلَق، قال: فيُقتَلون لا يرجعُ منهم بشرٌ - قال سلمةُ: فحدَّثني أبو صادق عن رَبِيعة بن ناجذٍ أنَّ عبد الله بن مسعود قال: فرسٌ أشقر - قال عبد الله: ويَزعُم أهلُ الكتاب أنَّ المسيحَ يَنزِلُ إليه. قال (2) : [ما] سمعتُه يذكر عن أهل الكتاب حديثًا غيرَ هذا. ثم يخرج يأجوجُ ومأجوجُ فيَمُوجُون في الأرض فيُفسِدون فيها. ثم قرأ عبد الله: ﴿وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ﴾ [الأنبياء: 96] ، قال: ثم يبعثُ الله عليهم دابّةً مثلَ هذا النَّغَف (1) فتَلِجُ في أسماعهم ومَناخِرهم فيموتون منها، فتُنتِنُ الأرضُ منهم، فيُجأَرُ إلى الله، فيُرسِل الله ماءً فيطهِّرُ الأرض منهم (2) . قال: ثم يَبعَثُ الله ريحًا فيها زَمْهَريرٌ باردة، فلا تَدَعُ على وجه الأرض مؤمنًا إلَّا كَفَتَتْه تلك الريحُ، قال: ثم تقومُ الساعة على شِرار الناس. ثم يقومُ مَلَكٌ بالصُّور بين السماء والأرض فيَنفخُ فيه - والصُّورُ قَرْنٌ - فلا يبقى خلقٌ في السماوات والأرض إلَّا مات إلَّا من شاء ربُّك، ثم يكون بين النَّفختين ما شاء الله أن يكون، فليس من بني آدمَ خلقٌ إلَّا منه شيء (3) ، قال: فيرسل الله ماءً من تحت العرش كمَنيِّ الرِّجال، فتَنبُتُ لُحْمانُهم وجُثْمانُهم من ذلك الماء كما تَنبُت الأرضُ من الثَّرَى، ثم قرأ عبد الله: ﴿وَاللَّهُ الَّذِي أَرْسَلَ (4) الرِّيَاحَ فَتُثِيرُ سَحَابًا فَسُقْنَاهُ إِلَى بَلَدٍ مَيِّتٍ فَأَحْيَيْنَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا كَذَلِكَ النُّشُورُ﴾ [فاطر: 9] ، قال: ثم يقوم مَلَكٌ بالصُّور بين السماء والأرض فيَنفُخُ فيه، فتَنطلِقُ كلُّ نفس إلى جسدها حتى تَدخُلَ فيه، ثم يقومون فيُحَبُّونَ تَحيَّةَ رجلٍ واحدٍ قيامًا لرب العالمين (5) . قال: ثم يتمثَّلُ اللهُ تعالى إلى الخلق فيَلْقاهم، فليس أحدٌ يَعبُدُ من دون الله شيئًا إلَّا وهو مرفوعٌ له يَتبعُه، قال: فيَلقى اليهودَ فيقول: مَن تَعبُدون؟ قال: فيقولون: نَعبُدُ عُزَيرًا، قال: هل يَسرُّكم الماءُ؟ فيقولون: نعم، إذ يُرِيهم جهنَّمَ كَهَيْئة السَّراب، قال: ثم قرأ عبد الله: ﴿وَعَرَضْنَا جَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ لِلْكَافِرِينَ عَرْضًا﴾ [الكهف: 100] قال: ثم يَلقى النصارى فيقول: مَن تَعبُدون؟ فيقولون: المسيحَ، قال: فيقول: هل يَسرُّكم الماءُ؟ قال: فيقولون: نعم، قال: فيُرِيهم جهنَّمَ كَهَيْئة السَّرَاب، ثم كذلك لمَن كان يعبدُ من دون الله شيئًا، قال: ثم قرأ عبد الله: ﴿وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ﴾ [الصافات: 24] قال: ثم يتمثَّلُ الله تعالى للخَلْق حتى يَمُرَّ على المسلمون، قال: فيقول: مَن تَعبُدون؟ قال: فيقولون: تعبدُ الله ولا نُشرِكُ به شيئًا، فيَنتهِرُهم مرتين أو ثلاثًا، فيقول: مَن تَعبُدون؟ فيقولون: نعبدُ الله ولا نشركُ به شيئًا، قال: فيقول: هل تعرفون ربَّكم؟ قال: فيقولون: سبحانَه إذا اعتَرَف لنا عَرَفْناه، قال: فعند ذلك يُكشَفُ عن ساقٍ، فلا يبقى مؤمنٌ إلَّا خَرَّ الله ساجدًا، ويبقى المنافقون ظُهورُهم طَبَقًا واحدًا كأنما فيها السَّفَافيدُ، قال: فيقولون: ربَّنا، فيقول: قد كنتم تُدعَوْنَ إلى السجود وأنتم سالمون. قال: ثم يأمرُ بالصِّراط فيُصْرَبُ على جهنَّم، فيمرُّ الناسُ كقَدْر أعمالهم زُمَرًا كلَمْح البَرْق، ثم كمَرِّ الريح، ثم كمَرِّ الطَّير، ثم كأسرع البهائم، ثم كذلك حتى يمرَّ الرجلُ سَعْيًا، ثم مَشْيًا، ثم يكونُ آخرُهم رجلًا يَتلبَّطُ على بطنه، قال: فيقول: ربِّ لماذا أبطأتَ بي؟ فيقول: لم أُبطِئْ بك، إنما بطَّأَ بك عملُك. قال: ثم يأذنُ الله تعالى في الشَّفاعة، فيكون أولَ شافعٍ رُوحُ القُدُس جبريلُ ﵊، ثم إبراهيمُ خليلُ الله، ثم موسى، ثم عيسى ﵈، قال: ثم يقوم نبيُّكم رابعًا لا يَشفَعُ أحدٌ بعدَه فيما يُشفَعُ فيه، وهو المَقامُ المحمود الذي ذكره الله ﵎: ﴿عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا﴾ [الإسراء: 79] ، قال: فليس من نفس إلَّا وهي تنظرُ إلى بيتٍ في الجنة أو بيتٍ في النار، قال: وهو يومُ الحَسْرة، قال: فيرى أهلُ النار البيتَ الذي في الجنة ثم يقال: لو عَمِلتم (1) ! قال: فتأخذهم الحسرةُ، قال: ويرى أهلُ الجنة البيتَ الذي في النار فيقال: لولا أنْ مَنَّ اللهُ عليكم، قال: ثم يَشفعُ الملائكة والنبيُّون والشهداءُ والصالحون والمؤمنون، فيُشفِّعُهم الله، قال ثم يقول الله: وأنا أرحمُ الراحمين، فيُخرِجُ من النار أكثرَ مما أُخرج من جميع الخلق برحمتِه، قال: ثم يقول: أنا أرحمُ الراحمين. قال: ثم قرأ عبد الله: ﴿مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ (42) قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ (43) وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ (44) وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ (45) وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ﴾ [المدثر: 42 - 46] . قال: فعَقَدَ عبدُ الله بيده أربعًا، ثم قال: هل ترونَ في هؤلاء من خيرٍ؟! ما يُترَك فيها أحدٌ فيه خير، فإذا أراد الله ﷿ أن لا يُخرِجَ منها أحدًا غيَّر وجوهَهم وألوانَهم، قال: فيجيءُ الرجلُ فيَنظرُ ولا يعرفُ أحدًا، فيناديه الرجلُ فيقول: يا فلانُ، أنا فلانٌ، فيقول: ما أعرِفُك، فعند ذلك يقولون: ﴿رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ﴾ فيقول عند ذلك: ﴿اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ﴾ [المؤمنون: 107 - 108] ، فإذا قال ذلك، أَطبَقَت عليهم، فلا يخرجُ منهم بشرٌ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8519 - على شرط البخاري ومسلم
ابوالزعراء فرماتے ہیں: ہم سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے، آپ کے ہاں دجال کا تذکرہ شروع ہو گیا، آپ نے فرمایا: دجال کے آنے پر اے لوگو تم تین حصوں میں بٹ جاؤ گے، ایک فرقہ اس کا پیروکار بن جائے گا، ایک فرقہ عرب میں (جہاں شیح نامی گھاس اگنے کے مقامات ہیں) اپنے آباء و اجداد سے جا ملے گا، ایک فرقہ دریائے فرات کے کنارے چلا جائے گا، وہاں پر ان کی دجال کے ساتھ بہت سخت جنگ ہو گی، مسلمان شام کے ایک علاقے میں جمع ہوں گے، اور وہ لوگ ایک جماعت کو اس کی خبر لینے کے لئے بھیجیں گے، ان میں ایک گھڑ سوار ہو گا، جو کہ سرخ و زرد رنگ کے چتکبرے گھوڑے پر سوار ہو گا، یہ لوگ بھی وہاں جنگ میں شریک ہوں گے اور ان میں سے کوئی بھی واپس نہیں آئے گا، سیدنا سلمہ فرماتے ہیں: ابوصادق نے ربیعہ بن ناجذ کے حوالے سے بتایا ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود نے فرس اشقر کہا اور بتایا کہ اہل کتاب یہ سمجھتے ہیں کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام ان کی جانب نازل ہوں گے، اور میں نے اہل کتاب کے حوالے سے اس سے مختلف موقف سنا ہے، پھر یاجوج و ماجوج نکلیں گے، یہ جس زمین سے گزریں گے اس کو تباہ و برباد کر دیں گے۔ پھر سیدنا عبداللہ نے یہ آیت پڑھی۔ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ [الأنبياء: 96] اور وہ ہر بلندی سے ڈھلکتے ہوں گے پھر اللہ تعالیٰ ان پر دابہ بھیجے گا، وہ جانوروں میں پیدا ہونے والے کیڑے کی مانند ہو گا، وہ ان کے کانوں میں اور ناک میں گھس جائے گا، جس سے وہ مر جائیں گے، ان کی وجہ سے زمین بدبودار ہو جائے گی، پھر اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگی جائیں گی، پھر اللہ تعالیٰ ایک ٹھنڈی ہوا بھیجے گا، یہ زمین پر کوئی مومن نہیں چھوڑے گی، پھر خبیث ترین لوگوں پر قیامت قائم ہو جائے گی، پھر فرشتہ آسمان اور زمین کے درمیان صور لے کر کھڑا ہو گا، اور صور ایک سینگ ہے۔ وہ سینگ میں پھونکے گا، اس کی آواز کی وجہ سے تمام اہل زمین مر جائیں گے۔ سوائے ان لوگوں کے جن کو رب زندہ رکھنا چاہے گا، پھر دوبارہ صور پھونکنے سے پہلے خدا جانے کتنا عرصہ ہو گا۔ بنی آدم میں سے کچھ مخلوق ہو گی۔ پھر اللہ تعالیٰ عرش کے نیچے سے پانی بھیجے گا، یہ پانی مردوں کی منی کی مانند ہو گا، اس کی وجہ سے لوگوں کے جسموں پر گوشت پیدا ہو جائے گا، جیسے بارش کی وجہ سے زمین فصلیں اگتی ہے، اسی طرح انسانوں کے جسم نشو و نما پائیں گے۔ پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی وَاللَّهُ الَّذِي أَرْسَلَ الرِّيَاحَ فَتُثِيرُ سَحَابًا فَسُقْنَاهُ إِلَى بَلَدٍ مَيِّتٍ فَأَحْيَيْنَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا كَذَلِكَ النُّشُورُ [فاطر: 9] اور اللہ ہے جس نے بھیجیں ہوائیں کہ بادل ابھارتی ہیں پھر ہم اسے کسی مردہ شہر کی طرف رواں کرتے ہیں، تو اس کے سبب ہم زمین کو زندہ فرماتے ہیں اس کے مرے پیچھے یونہی حشر میں اٹھنا ہے پھر فرمایا: پھر فرشتہ آسمان اور زمین کے درمیان صور لے کر کھڑا ہو گا، اس میں پھونکے گا، ہر روح اپنے جسم کی طرف چل پڑے گی اور اس میں داخل ہو جائے گی پھر یہ کھڑے ہو جائیں گے اور زندہ ہو کر اپنے رب العالمین کی بارگاہ میں یوں کھٹرے ہو جائیں گے جیسے ایک آدمی کھڑا ہوتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ مخلوق سے ملاقات فرمائے گا، اور جو شخص اللہ کے علاوہ جس جس کی بھی عبادت کرتا رہا ہو گا اس کو کھڑا کر کے اس کے عبادت گزار کو اس کے پیچھے کھڑا کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ سے یہودی ملاقات کریں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تم کس کی عبادت کیا کرتے تھے، وہ کہیں گے: ہم عزیر کی عبادت کیا کرتے تھے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تمہیں پانی اچھا لگتا ہے؟ وہ کہیں گے: جی ہاں۔ اس وقت ان کو سراب کی طرح دوزخ دکھائی جائے گی، پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیات پڑھیں وَعَرَضْنَا جَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ لِلْكَافِرِينَ عَرْضًا [الكهف: 100] اور ہم اس دن جہنم کافروں کے سامنے لائیں گے پھر عیسائی لوگوں کی اللہ تعالیٰ سے ملاقات ہو گی، اللہ تعالیٰ پوچھے گا: تم کس کی عبادت کیا کرتے تھے؟ وہ کہیں گے: سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تمہیں پانی اچھا لگتا ہے؟ وہ کہیں گے: جی ہاں۔ ان کو سراب کی مانند دوزخ دکھائی جائے گی، اسی طرح ان تمام لوگوں کے ساتھ ہو گا جو غیراللہ کی عبادت کیا کرتے تھے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیات پڑھیں وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ [الصافات: 24] اور انہیں ٹھہراؤ، ان سے پوچھنا ہے پھر اللہ تعالیٰ مخلوق کے لئے اپنی شایان شان کوئی شکل اختیار کرے گا اور مسلمانوں کے پاس سے گزرے گا، اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا: تم کس کی عبادت کرتے ہو؟ وہ کہیں گے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے۔ اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا: کیا تم اپنے رب کو پہچانتے ہو؟ مسلمان کہیں گے: سبحان اللہ، جب وہ ہمیں اپنا تعارف کروائے گا تو ہم پہچان جائیں گے، اس وقت اللہ تعالیٰ اپنی شان کے مطابق پنڈلی کو ظاہر فرمائے گا تو ہر مومن اللہ تعالیٰ کے لئے سجدہ ریز ہو جائیں گے، اور منافقین سجدہ نہیں کریں گے، ان سب کی پشت ایک (سلیٹ کی مانند) ہو گی گویا کہ اس میں سریا ڈال دیا گیا ہو، وہ کہیں گے: اے ہمارے رب۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تم کو پہلے بھی سجدے کے لئے بلایا جاتا تھا، جب تم سلامت تھے۔ پھر پل صراط بچھایا جائے گا، لوگ اپنے اعمال کے مطابق اس سے گزریں گے، کوئی جماعت بجلی کی چمک کی طرح گزر جائے گی، کوئی ہوا کی طرح، کوئی پرندوں کی طرح، کوئی تیز چوپائے کی طرح، کچھ لوگ تیز دوڑ کر گزریں گے، کچھ پیدل چل کر، اور سب سے آخری شخص اپنے پیٹ کے بل گھسٹ کر گزرے گا۔ وہ کہے گا: اے میرے رب! تو نے مجھے کیوں دیر کروا دی؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے تجھے دیر نہیں کروائی، بلکہ تجھے تیرے اعمال نے دیر کروائی ہے، پھر اللہ تعالیٰ شفاعت کی اجازت عطا فرمائے گا۔ سب سے پہلے سیدنا جبریل امین علیہ السلام شفاعت کریں گے، پھر سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام، پھر سیدنا موسیٰ علیہ السلام پھر سیدنا عیسیٰ علیہ السلام شفاعت فرمائیں گے، پھر چوتھے مرحلے پر تمہارا نبی شفاعت کے لئے اٹھے گا، ان کے بعد کوئی سفارش کرنے والا نہیں ہو گا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جس جگہ کھڑے ہو کر شفاعت کریں گے، وہ، وہ مقام محمود ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں وعدہ فرمایا ہے عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا [الإسراء: 79] قریب ہے کہ تمہیں تمہارا رب ایسی جگہ کھڑا کرے جہاں سب تمہاری حمد کریں ، امام احمد رضا) پھر ہر (جنتی) شخص اپنے جنتی گھر کو یا (جہنمی شخص اپنے) جہنمی گھر کو دیکھ لے گا، آپ فرماتے ہیں: وہ حسرت کا دن ہو گا۔ پھر دوزخیوں کو جنت کا ایک گھر دکھا کر کہا جائے گا: اگر تم نیک عمل کرتے (تو تمہیں یہ ملتا) ان کو بہت حسرت ہو گی۔ پھر جنتیوں کو دوزخ کا ایک گھر دکھا کر کہا جائے گا: اگر اللہ تعالیٰ کا تم پر احسان نہ ہوتا (تو تم اس میں جاتے) پھر فرشتے شفاعت کریں گے، پھر انبیاء کرام شفاعت کریں گے، پھر اولیاء عظام شفاعت کریں گے، پھر مومنین شفاعت کریں گے، اللہ تعالیٰ ان کی شفاعت قبول فرمائے گا، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں سب سے بڑا رحم کرنے والا ہوں، پھر (اب تک جتنے لوگ تمام کی شفاعت کے ساتھ دوزخ سے نکالے گئے ہوں گے اس سے کہیں زیادہ اللہ تعالیٰ خود دوزخ سے نکالے گا، پھر فرمائے گا: میں سب سے بڑا رحم کرنے والا ہوں، پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ * قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ * وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ * وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ * وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ [المدثر: 43۔ 44۔ 45] تمہیں کیا بات دوزخ میں لے گئی وہ بولے ہم نماز نہ پڑھتے تھے اور مسکین کو کھانا نہ دیتے تھے، اور بے ہودہ فکر والوں کے ساتھ بے ہودہ فکریں کرتے تھے اور ہم انصاف کے دن کو جھٹلاتے رہے پھر سیدنا عبداللہ نے اپنے ہاتھ کے ساتھ چار کا عقد بنایا پھر فرمایا: کیا تم ان میں کہیں بھلائی دیکھتے ہو، جس میں کچھ بھی بھلائی ہو گی وہ ان میں نہیں اترے گا، جب اللہ تعالیٰ ارادہ فرمائے گا کہ ان میں سے کوئی بھی باہر نہ نکلے تو ان کے چہرے اور ان کے رنگ بدل دے گا، سیدنا عبداللہ فرماتے ہیں: پھر وہ ایک آدمی کے پاس آئے گا، اور مسلسل اس کو دیکھے جائے گا، لیکن وہ اس کو نہیں پہچانے گا، بلکہ اس کو کوئی بھی نہیں پہچانے گا، وہ اس آدمی کو اس کا نام مع ولدیت پکارے گا، لیکن وہ آگے سے کہے گا: میں تجھے نہیں پہچانتا، اس وقت وہ پکار پکار کر کہے گا رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ [المؤمنون: 107] اے رب ہمارے ہم کو دوزخ سے نکال دے پھر اگر ہم ویسے ہی کریں تو ہم ظالم ہیں لیکن اللہ تعالیٰ ان کو جواب دے گا قَالَ اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ [المومنون: 108] رب فرمائے گا دتکارے پڑے رہو اس میں اور مجھ سے بات نہ کرو جب اللہ تعالیٰ ان سے یہ فرمائے گا تو ان پر دوزخ مقفل کر دی جائے گی، پھر وہاں سے کوئی شخص باہر نہیں آ سکے گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8729]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8730
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم العَبْدي وأبو مُسلِم المسيَّب بن زهير الضَّبّي (1) قالا: حدثنا أبو جعفر عبد الله بن محمد النُّفيلي، حدثنا زهير بن معاوية، حدثنا مُطرِّف بن طَريف، عن المِنهال بن عمرو، عن نُعيم بن دِجَاجة قال: كنت جالسًا عند عليٍّ فجاء عُقْبةُ أبو مسعود، فقال له علي: يا فَرُّوخُ (2) ، أنت القائلُ؟ أو أمَا إنك المُفْتي تُفتي الناس؟ قال: أمَا إني لأُخبِرهم الآخِرَ، والآخِرُ شرٌّ، قال: فحدَّثنا ما سمعتَ رسول الله ﷺ يقول في المئة، فقال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"لا تكونُ مئةُ سنةٍ وعلى الأرض عينٌ تَطرِفُ"، فقال: إنك قد أخطأتَ، وأخطأتَ في أول فَتْواكَ، إنما ذلك لمن هو يومئذٍ حيٌّ، وهل الرَّخاءُ والفَرَجُ إلَّا بعد المئة؟! (1)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8520 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
نعیم بن دجاجہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ان کے پاس عقبہ بن مسعود آیا، سیدنا علی نے اس سے کہا: اے فروخ! تم کس چیز کے قائل ہو، کیا تم مفتی ہو جو لوگوں کو فتوے دیتے پھر رہے ہو؟ آپ نے فرمایا: میں ان کو سب سے آخری شر کے بارے میں نہ بتاؤں؟ انہوں نے کہا: تو آپ ہمیں وہ بات سنایئے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، 100 کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا ارشاد ہے؟ آپ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہو گا کہ سو سال گزر جائیں اور زمین پر کوئی شخص زندہ ہو، (یعنی سو سال بعد سب لوگ مر جائیں گے) انہوں نے فرمایا: تجھ سے غلطی ہوئی ہے اور تو نے پہلے فتوی میں ہی غلطی کر ڈالی ہے، یہ اس کے لئے ہے جو اس وقت (جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا تھا) زندہ تھا، اور کشادگی اور آسانی سو سال کے بعد ہو گی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8730]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8731
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا عبد الله بن وهب، حدثني أبو شُرَيح عبد الرحمن بن شُريح قال: سمعت سعيد بن أبي شِمْر السَّبَئي يقول: سمعت سفيان بن وهب الخَوْلاني يقول: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"لا تأتي المئةُ وعلى ظهرِها أحدٌ باقٍ". قال: فحدَّثتُ بها حُجَيرة (2) ، قال: فدخل عبدُ الرحمن بن حُجَيرة على عبد العزيز بن مروان، فحُمِلَ سفيانُ وهو شيخٌ كبيرٌ فسأله عبدُ العزيز عن هذا الحديث، فحدَّثَه، فقال عبد العزيز: فلعلَّه يعني: لا يبقى أحدٌ ممَّن كان معه إلى رأس المئة؟! فقال سفيان: هكذا سمعتُ رسول الله ﷺ يقول (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. والدليلُ الواضح على صِحَّة قولِ أمير المؤمنين عليّ بن أبي طالب ﵁ لأبي مسعود عُقْبة بن عمرو الأنصاري، وقولِ عبد العزيز بن مروان لسفيان بن وهب الخَوْلاني:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8521 - صحيح
سیدنا سفیان بن وہب خولانی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آج سے سو سال بعد لوگوں میں سے کوئی بھی زندہ نہیں ہو گا۔ آپ فرماتے ہیں: میں نے یہ حدیث عبدالرحمن بن حجیرہ کو سنائی، وہ عبدالعزیز بن مروان کے پاس گئے، انہوں نے سفیان کو اٹھا لیا، وہ اس وقت بہت بوڑھے ہو چکے تھے، عبدالعزیز نے ان سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے ان کو یہ حدیث سنا دی، عبدالعزیز نے کہا: شاید کہ اس کا مطلب یہ ہو کہ جو لوگ اس وقت موجود ہیں سو سال کے بعد ان میں سے کوئی بھی موجود نہیں ہو گا، سیدنا سفیان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ امیرالمومنین سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ابومسعود عقبہ بن عمرو سے جو کچھ کہا اور عبدالعزیز بن مروان نے سفیان بن وہب خولانی سے جو کچھ کہا اس پر واضح دلیل درج ذیل حدیث ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8731]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8732
ما حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد. [و] حدثنا علي بن عيسى بن إبراهيم، حدثنا محمد بن النَّضْر الحَرَشي، حدثنا عبد الله بن مَسلَمة بن قَعنَب قالا: حدثنا المعتمِر بن سليمان، عن أبيه، حدثنا أبو نَضْرة، عن جابر، عن النبي ﷺ: أنه قال قبل موتِه بشهرٍ أو نحوٍ من ذلك:"ما من نفسٍ منفوسةٍ اليومَ يأتي عليها مئةُ عام وهي حيّةٌ يومَئذٍ" (1) . قد أخرج مسلمٌ هذا الحديثَ بهذا الإسناد في"الصحيح".
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8522 - رواه مسلم
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے وصال سے تقریباً ایک مہینہ پہلے فرما دیا تھا جو لوگ آج زندہ ہیں سو سال کے بعد ان میں سے کوئی بھی موجود نہیں ہو گا ۔ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی صحیح میں اسی اسناد کے ہمراہ یہ حدیث نقل کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8732]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8733
وحدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثني أبي، حدثنا قُتيبة بن سعيد، حدثنا إسماعيل بن عبد الكريم الصَّنعاني، حدثني إبراهيم بن عَقِيل بن مَعقِل بن مُنبِّه، عن أبيه عَقِيل، عن وهب بن مُنبِّه قال: هذا ما سألتُ عنه جابرَ بنَ عبد الله، فأخبَرني: أنه سمع رسول الله ﷺ يقول قبلَ موته بشهرٍ:"يَسألون عن الساعة، وإنما عِلمُها عند الله، وأُقِسمُ بالله ما على الأرض من نفسٍ منفوسةٍ اليومَ يأتي عليها مئةُ سنة" (1) . و
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ المفهوم المعقول: أنَّ رسول الله ﷺ إنما أراد ما على الأرض ذلك اليومَ مولودٌ قد وُلِدَ، يأتي عليه مئةُ عام من ذلك الوقت الذي خاطَبَهم النبيُّ ﷺ بهذا الخِطاب، لا أنَّ من يُولَد بعد ذلك العام لا يعيشُ مئةَ سنة، ألا ترى أنَّ أمير المؤمنين ﵁ أغلَظَ فيه القولَ لأبي مسعودٍ الأنصاري، وهو صاحبُ رسول الله ﷺ، لا بل من كِبَار الصحابة ﵃.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8523 - صحيح
وہب بن منبہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے پوچھا، انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے وصال مبارک سے ایک مہینہ پہلے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے لوگ قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں، اس (کے وقوع کے معین وقت) کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہے، میں اللہ کی قسم کھا کر یہ بتا سکتا ہوں کہ آج جتنے لوگ موجود ہیں۔ ایک سو سال کے بعد ان میں سے کوئی بھی زندہ نہیں ہو گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا جن سے یہ بات سمجھ آتی ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب یہ تھا کہ اس دن تک جو لوگ پیدا ہو چکے تھے وہ ایک سو سال تک زندہ نہیں رہیں گے، کیا آپ نہیں دیکھتے کہ اس سلسلے میں سیدنا امیرالمومنین علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ابومسعود انصاری کو بہت سخت باتیں کہیں، حالانکہ وہ صرف صحابی رسول ہی نہیں ہیں بلکہ کبار صحابہ میں سے ہیں۔ رضی اللہ عنہم۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8733]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8734
وأخبرنا بصِحَّة ما ذكرناهُ أيضًا الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا أبو حاتم الرازي، حدثنا جُنَادة بن مروان الرَّقِّي، حدثنا محمد بن القاسم الحِمْصي قال: سمعت عبد الله بن بُسْر يقول: زارَ رسولُ الله ﷺ منزلَنا مع أَبي (2) ، قال: وكنت أختلِفُ بين أَبي وبين أُمِّي، فهيَّأْنا له طعامًا، فأَكل ودعا لنا بدعاءٍ لا أحفظُه، ثم مَسَحَ يدَه على رأسي، فقال:"يعيشُ هذا الغلامُ قَرْنًا"؛ قال: فعاش مئةَ سنة (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8524 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ ہمارے غریب خانے پر تشریف لائے، میں اپنی والدہ اور والد کی خدمت میں ہی مصروف رہتا تھا، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کھانا تیار کیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کھانا تناول فرمایا، پھر ہمارے لئے دعا فرمائی، اس دعا کے الفاظ مجھے یاد نہیں ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک میرے سر پر پھیرا اور فرمایا: یہ بچہ سو سال کی عمر پائے گا، چنانچہ ان کی عمر سو سال ہوئی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8734]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں