المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
86. كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يُضَيِّعَ مَنْ يَعُولُ
آدمی کے گناہگار ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ان کو ضائع کر دے جن کی کفالت اس کے ذمے ہے
حدیث نمبر: 8735
وأخبرنا الحسين بن الحسن، حدثنا أبو حاتم، حدثنا داود بن رُشَيد، حدثنا شُرَيح بن يزيد (1) ، عن إبراهيم بن محمد بن زياد الألْهَاني، عن أبيه، عن عبد الله بن بُسْر، أنَّ النبي ﷺ قال له:"يعيشُ هذا الغلامُ قَرْنًا"؛ قال: فعاش مئةَ سنة. وكان في وجهه ثُؤْلولٌ قال:"لا يموتُ هذا حتى يذهبَ الثُّؤْلولُ من وجهه"؛ فلم يمت حتى ذهب الثُّؤلولُ من وجهه (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8525 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8525 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا: یہ بچہ سو سال جیے گا۔ چنانچہ ان کی عمر سو سال ہی ہوئی، ان کے چہرے پر ایک بھٹنی تھی، آپ نے فرمایا: یہ اس وقت تک نہیں مرے گا جب تک اس کے چہرے سے یہ بھٹنی ختم نہ ہو جائے چنانچہ جب تک وہ بھٹنی آپ کے چہرے سے ختم نہیں ہوئی تب تک آپ زندہ رہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8735]
حدیث نمبر: 8736
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن علي الصَّنعاني بمكة حرسَها الله، حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدَّبَري، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن [أبي] إسحاق، عن وهب بن جابر الخُيْواني (3) قال: كنت عند عبد الله بن عمرو، فقَدِمَ عليه قَهْرَمانٌ من الشام وقد بَقِيَتَ ليلتانِ من رمضان، فقال له عبد الله: هل تركتَ عند أهلي ما يَكفِيهم؟ قال: قد تركتُ عندهم نفقةً، فقال عبد الله: عَزَمْتُ عليك لَمَا رجعتَ فتركتَ لهم ما يَكفِيهم، فإني سمعت رسول الله ﷺ يقول:"كَفَى بالمَرْءِ إثمًا أن يُضيِّعَ من يَقُوتُ". قال: ثم أنشأَ يحدِّثُنا فقال: إنَّ الشمس إذا غَرَبَت سلَّمَت وسَجَدَت واستأذَنت، قال: فيُؤذَنُ لها، حتى إذا كان يومًا غَرَبَت فسلَّمت وسجدت واستأذَنت فلا يُؤذَنُ لها، فتقول: يا ربِّ، إنَّ المَسِير بعيد، وإني إنْ لا يُؤذَنْ لي لا أبلُغْ، قال: فتُحبَس ما شاءَ الله ثم يقال لها: اطلُعِي من حيثُ غَرَبتِ، قال: فمِن يومِئذٍ إلى يوم القيامة لا يَنفَعُ نفسًا إيمانُها لم تكن آمنَتْ من قبلُ. قال: وذَكَر يأجوجَ ومأجوجَ، قال: وما يموتُ الرجل منهم حتى يولدَ له من صُلْبِه ألفٌ، وإنَّ مِن ورائهم لثلاثَ أُممٍ ما يعلمُ عِدَّتَهم إلَّا الله ﷿: منسك، وتاويل، وتاريس (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8526 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8526 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا جابر خیوانی فرماتے ہیں: میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، ان کے پاس شام سے قہرمان (آمد و خرچ کا منتظم) آیا، رمضان شریف کا مہینہ شروع ہونے میں دو راتیں باقی تھیں، سیدنا عبداللہ نے اس سے کہا: کیا تو نے اپنے گھر والوں کی ضرورت کے لئے کچھ چھوڑا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، میں ان کے لئے نفقہ چھوڑ کر آیا ہوں، سیدنا عبداللہ نے فرمایا: میں تجھے اس بات کی تاکید کرتا ہوں کہ جب تو ان کے پاس لوٹ کر جائے تو ان کو اتنا کچھ دے کر آنا، جو ان کی ضروریات کے لئے کافی ہو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ انسان کے گنہگار ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ان لوگوں کا خرچہ پورا نہ کرے جو اس کی کفالت میں ہیں۔ پھر وہ مزید حدیثیں ہمیں سنانے لگ گیا، اس نے کہا: سورج جب غروب ہوتا ہے تو سلام کرتا ہے اور سجدہ کرتا ہے اور (غروب ہونے کی) اجازت مانگتا ہے۔ پھر اس کو اجازت دے دی جاتی ہے، ایک دن ایسا آئے گا کہ وہ سلام کرے گا، پھر سجدہ کرے گا، پھر اجازت مانگے گا، لیکن اس کو اجازت نہیں دی جائے گی، وہ کہے گا: اے میرے رب! مشرق بہت دور ہے، اگر مجھے اجازت نہ دی گئی تو میں واپس مشرق میں نہیں پہنچ سکتا، راوی کہتے ہیں: اس کو وہیں پر روک لیا جائے گا، پھر اس کو کہا جائے گا: جہاں پر تو غروب ہوتا تھا، آج وہیں سے طلوع ہو، جو لوگ اس دن تک ایمان نہیں لائے ہوں گے، وہ اگر اس دن یا اس کے بعد ایمان لائیں گے تو ان کا ایمان لانا ان کو کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ پھر آپ نے یاجوج اور ماجوج کا ذکر کیا، فرمایا: یاجوج و ماجوج کا کوئی بھی فرد اس وقت تک نہیں مرے گا جب تک اس کی نسل میں 1000 کا عدد پورا نہیں ہو جائے گا، ان کے بعد تین امتیں آئیں گی، ان کی تعداد اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ان کے نام منسک، تاویل اور تاریس ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8736]