🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

86. كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يُضَيِّعَ مَنْ يَعُولُ
آدمی کے گناہگار ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ان کو ضائع کر دے جن کی کفالت اس کے ذمے ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8736
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن علي الصَّنعاني بمكة حرسَها الله، حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدَّبَري، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن [أبي] إسحاق، عن وهب بن جابر الخُيْواني (3) قال: كنت عند عبد الله بن عمرو، فقَدِمَ عليه قَهْرَمانٌ من الشام وقد بَقِيَتَ ليلتانِ من رمضان، فقال له عبد الله: هل تركتَ عند أهلي ما يَكفِيهم؟ قال: قد تركتُ عندهم نفقةً، فقال عبد الله: عَزَمْتُ عليك لَمَا رجعتَ فتركتَ لهم ما يَكفِيهم، فإني سمعت رسول الله ﷺ يقول:"كَفَى بالمَرْءِ إثمًا أن يُضيِّعَ من يَقُوتُ". قال: ثم أنشأَ يحدِّثُنا فقال: إنَّ الشمس إذا غَرَبَت سلَّمَت وسَجَدَت واستأذَنت، قال: فيُؤذَنُ لها، حتى إذا كان يومًا غَرَبَت فسلَّمت وسجدت واستأذَنت فلا يُؤذَنُ لها، فتقول: يا ربِّ، إنَّ المَسِير بعيد، وإني إنْ لا يُؤذَنْ لي لا أبلُغْ، قال: فتُحبَس ما شاءَ الله ثم يقال لها: اطلُعِي من حيثُ غَرَبتِ، قال: فمِن يومِئذٍ إلى يوم القيامة لا يَنفَعُ نفسًا إيمانُها لم تكن آمنَتْ من قبلُ. قال: وذَكَر يأجوجَ ومأجوجَ، قال: وما يموتُ الرجل منهم حتى يولدَ له من صُلْبِه ألفٌ، وإنَّ مِن ورائهم لثلاثَ أُممٍ ما يعلمُ عِدَّتَهم إلَّا الله ﷿: منسك، وتاويل، وتاريس (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8526 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہب بن جابر کہتے ہیں کہ میں ان کے پاس تھا تو ان کے پاس شام سے ایک کارندہ آیا جبکہ رمضان کے دو دن باقی تھے، سیدنا عبداللہ نے اس سے پوچھا: کیا تم نے میرے گھر والوں کے پاس اتنا مال چھوڑا ہے جو ان کے لیے کافی ہو؟ اس نے کہا: میں نے ان کے لیے کچھ خرچہ چھوڑا ہے، سیدنا عبداللہ نے فرمایا: میں تمہیں تاکیدی حکم دیتا ہوں کہ تم واپس جاؤ اور ان کے لیے اتنا مال چھوڑ کر آؤ جو ان کے لیے کافی ہو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: کسی آدمی کے گناہگار ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ان لوگوں کو ضائع (بے سہارا) چھوڑ دے جن کی کفالت اس کے ذمہ ہے۔ وہب کہتے ہیں: پھر سیدنا عبداللہ نے ہمیں حدیث سنانی شروع کی اور کہا: سورج جب غروب ہوتا ہے تو وہ سلام کرتا ہے، سجدہ کرتا ہے اور (دوبارہ طلوع ہونے کی) اجازت مانگتا ہے، اسے اجازت دے دی جاتی ہے، یہاں تک کہ ایک دن ایسا آئے گا کہ وہ غروب ہو کر سلام کرے گا، سجدہ کرے گا اور اجازت مانگے گا مگر اسے اجازت نہیں دی جائے گی، وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! سفر طویل ہے اور اگر مجھے اجازت نہ ملی تو میں منزل تک نہیں پہنچ سکوں گا، پس اسے جب تک اللہ چاہے گا روک لیا جائے گا پھر اس سے کہا جائے گا: جہاں سے غروب ہوئے تھے وہیں سے طلوع ہو جاؤ، فرمایا: اسی دن سے لے کر قیامت تک ﴿لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ﴾ کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان نفع نہیں دے گا جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا ہو۔ [سورة الأنعام: 158] پھر انہوں نے یاجوج و ماجوج کا ذکر کیا اور بتایا کہ ان میں سے کوئی آدمی اس وقت تک نہیں مرتا جب تک اس کی اپنی نسل سے ایک ہزار افراد پیدا نہ ہو جائیں، اور ان کے پیچھے مزید تین ایسی امتیں ہیں جن کی تعداد اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا: (ان کے نام) منسک، تاویل اور تاریس۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8736]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل وهب بن جابر الخيواني» [ترقيم الرساله 8736] [ترقيم الشركة 8629] [ترقيم العلميه 8526]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8737
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا محمد بن المثنَّى، حدثنا عبد الرحمن بن مَهْدي، حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن زيد بن وهب، عن حُذَيفة قال: إنَّ للفتنة بَعَثاتٍ ووَقَفاتٍ، فإن استطعتَ أن تموت في وَقَفاتها فافعَلْ. قال عبد الرحمن: وحدثنا سفيان، عن الحارث بن حَصِيرةَ، عن زيد بن وهب قال: سُئِلَ حذيفةُ: ما وَقَفاتُها؟ قال: إذا غُمِدَ السيف، قال: ما بَعَثَاتُها؟ قال: إذا سُلَّ السيف (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8527 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: فتنوں کے کچھ ابھار (تیزی) کے مواقع ہیں اور کچھ ٹھہراؤ (رک جانے) کے، پس اگر تم اس بات کی استطاعت رکھو کہ تمہیں موت ان کے ٹھہراؤ کی حالت میں آئے تو ایسا ہی کرو۔ زید بن وہب کہتے ہیں کہ سیدنا حذیفہ سے پوچھا گیا: ان کا ٹھہراؤ کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جب تلوار نیام میں ہو، پوچھا گیا: ان کا ابھار (تیزی) کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: جب تلوار سونت لی جائے (یعنی جنگ و قتال برپا ہو)۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8737]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8737] [ترقيم الشركة 8630] [ترقيم العلميه 8527]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں